پشاور: ہومن رائٹس ڈائریکٹریٹ خواجہ سراؤں کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے پر عزم

Adnan

ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر کے جانب سے ایکشن لئے جانے کے بعد خیبر پختونخواپولیس خواجہ سراؤں کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے متحرک ۔

پشاور :  ہومن رائٹس کے ڈائریکٹر نور زمان خٹک نے پشاور میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے خواجہ سرا عدنان کی ایف ائی ار پر کوئی عمل در آمد نہ ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او چمکنی پر چودہ دن کے اندر تحریری رپورٹ ارسال کرنے کا نوٹس دے دیا ۔ خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے تنظیم کے اہم رکن عدنان کو پیر ذکوڑی پل کے نیچے قاتلانہ حملے کا شکار بنایا گیا تھا جس کے ایف ائی ار تھانہ چمکنی میں درج کرا دی گئی تھی لیکن تھانہ چمکنی کے جانب سے اس پر کسی قسم کی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی تھی ۔ اس واقعہ کو بین الاقوامی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور عالمی تنظیموں نے اس حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف، چیف جسٹس اور وزیر داخلہ چودھری نثار کو خط بھی تحریر کئے ۔

HRD

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے حصوصی معاون برائے انسانی حقوق نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقع کی تحقیقات کی جائے اور مجروح کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ اس ضمن میں انسانی حقوق کے ڈائریکٹر نور زمان خٹک نے متعلقہ پولیس سٹیشن کو فوری ایکشن لینے اور چودہ روز کے اندر رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ انصاف تک رسائی کی کوئی صورت نکل سکے۔ اس کے ساتھ ہی نور زمان خٹک کی نوٹس لینے پر آئی جی خیبر پختونخوا کے ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن کو فوری طور پر ایکشن لینے کی ہدایت کی ہے جس پر عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کے تنظیموں نے سراہا ۔

یاد رہے کے پارو نامی خواجہ سرا کو ڈی پی او ہری پور کی جانب سے سالگرہ منانے سے غیر قانونی طور پر روکا گیا تھا جس پر خواجہ سرا نے ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ سے داد رسی کیلئے رجوع کیا تھا ۔ سول سوسائٹی کے تیمور کمال اور قمر نسیم کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انسانی حقوق کو یقینی بنانے کیلئے ہیومن رائٹس کے ڈائرکٹویٹ کا کردار قابل تحسین ہے اگر سرکاری ادارے عوامی حقوق کو یقینی بنانے کیلئے اسی سنجیدگی کا مظاہر ہ کرے تو معاشرے میں موجود مسائل احس طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔

THE PASHTUN TIMES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: