محترم اسفندیار ولی خان صاحب کے نام کھلا خط

محترم اسفندیار ولی خان صاحب کے نام کھلا خط

Manzoor Bacha Khan

محترم جناب مشر اسفندیار ولی خان صیب

اسلام علیکم.

بعد از سلام  امید ہے آپ خیر و آفیت سے ہونگے.

محترم مشر صیب!

پچھلے دنوں آپکا بیان نظر سے گزرا جس میں پارٹی کے این وائی او کی تنظیم کے چیرمین کو فارغ کیا گیا تھا اور ایک تفصیلی پریس ریلیز میں تکرار کے ساتھ آپ نے لکھا تھا کہ پارٹی کے کسی ورکر و زمہ دار کو یہ حق حاصل نہیں کہ کسی بھی دوسری تنظیم یا پارٹی کے جلسوں میں شرکت کرے.  بظاہر تو آپ نے نام نہیں لکھا تھا لیکن پشتون وطن ( لر و بر)  پر موجودہ وقت میں تو صرف ایک ہی تنظیم ایسی ہے جو ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہے یقین” آپ سمجھ گئے ہونگے میں پشتون تحفظ موومنٹ کا زکر کر رہا ہوں.  پریس ریلیز میں آپ نے یہ بھی لکھا تھا کہ پارٹی پارلیمانی طرز سیاست پر یقین رکھتی ہے.

جنابِ مشر پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا کہ یہ بیان آپکی طرف سے ہوگا لیکن جب سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر پشتون خاص کر آپکی پارٹی کے ورکر دو جگہ پر تقسیم ہوگئے تو دل نا چاہتے ہوے بھی یقین کرنا پڑا کہ یہ بیان شاید آپ نے دیا ہے.

جناب مشر پیشکی معافی کے ساتھ عرض ہے کہ پریس ریلیز کے ساتھ ہی میرے زہین میں چند سوالوں نے جنم لیا یوں تو آپ کے ساتھ ملنا مشکل ہے اس لیے کھولے خط کا سہارا لیے رہا ہوں.

جنابِ مشر ! پشتون تحفظ موومنٹ کا کون سا ایسا مطالبہ ہے جو غیر انسانی،  غیر آئینی،  غیر اسلامی ہے؟  جس نے آپ کو اتنا سنگین قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے؟  ایسی پریس ریلیز تو نا جمیعت علماء اسلام نے دی نا پی ٹی آئی اور ناہی جماعت اسلامی نے جن سے یہ توقع کی جا سکتی تھی.

جنابِ مشر!  کیا 33000 لاپتہ پشتون آپکی پارٹی (جو ہر وقت پشتونوں کے حق کی بات اور پشتون قوم پرستی کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہے ) کے دئرہ کار میں نہیں آتے؟  کیا وہ پشتون لاپتہ ہونے کے بعد پشتون نہیں رہے؟

جنابِ مشر!  کیا وہ 48000 پشتون جو ایک جھوٹ اور فراڈ دہشتگردی کی جنگ جس میں آپکی پارٹی کے ورکر اور لیڈر بشمول بشیر بلور شہید اور میاں راشد حسین بھی شامل ہیں کیا وہ شہادت کے بعد پشتون نہیں رہے؟  یہ صرف وہ پشتون ہیں جو زندہ ہیں اور آپکو ووٹ دے سکتے ہیں؟  کیا ریاست سے انکے قتل کے بارے پوچھنا غیر آئینی اقدام ہے؟

جنابِ مشر!  کیا ان 2400 بازاروں اور لاکھوں گھروں کا جن کو بے دردی سے مسمار کیاگیا کیا وہ پشتون وطن پر ظلم اور زیادتی نہیں تھی اور کیا وہ پشتونوں کا مالی نقصان نہیں تھا؟  کیا ان کے بارے پوچھنا غیر آئینی اقدام ہے؟

جنابِ مشر!  پشتون تحفظ موومنٹ پشتون وطن پر امن و امان کا مطالبہ کر رہی ہے ریاست سے کیا یہ مطالبہ غیر آئینی اقدام ہے؟

جنابِ مشر!  آپ کہتے ہیں ہم پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں تو جناب مشر اس وقت بھی آپکے ایم این اے اور ایم پی اے اسمبلی میں بیٹھے ہیں کیا آپ ایک بھی ایسا بیان اسمبلی فلور پر دیکھا سکتے ہیں آپکی پارٹی کی طرف سے جس میں لاپتہ پشتونوں کا زکر ہو،  ماوراے عدالت پشتونوں کے قتل کا زکر ہو،  چیک پوسٹوں پر زلالت کا زکر ہو یا پھر دہشت گردی کے نام پر پشتونوں کی بربادی اور اس جھوٹی جنگ کا زکر ہو؟ پھر یہ پارلیمانی سیاست قوم کے کس کام کی؟

جنابِ مشر! میں پچھلے پندرہ سال سے ہر ایک بیان کا تفصیلی جائزہ لیتے آیا ہوں 2008 سے پہلے اور بعد میں جہاں آپکے بیان اور الفاظ میں تبدیلی آئی ہے وہاں ایک بات بھی تواتر سے میں نے نوٹ کی ہے کہ ہر دھماکے اور ہر واقع کے بعد آپ نے صرف لفظ ” مزمت ” سے کام چلایا ہے اور یہ ” مزمت” نا صرف عمران خان نے بھی کی بلکے آرمی چیف سے لیکر ہر چھوٹے اور بڑے لیڈر اور عہدے دار نے بھی کیا پشتون قوم پرستی اور پاکستان پرستی میں اب کوئی واضع فرق نہیں رہا؟

جنابِ مشر آپ کی پریس ریلیز میں ہے کہ ہم پارلیمانی طرز سیاست پر یقین رکھتے ہیں لیکن مجھے یہ بات بلکل سمجھ نہیں آئی کہ اگر یہ پالیسی ہے تو پھر باچا خان کو مردان مارچ میں نکلنے کی کیا ضرورت تھی؟  چارسدہ کے خدائی خدمتگاروں کو بابڑہ میں جنازے اٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟  اور مشرف کے خلاف کراچی میں پشتونوں کو مروانے کی کیا ضرورت تھی؟  کیونکہ بقول آپکے عدم تشدد کے ہوتے ہوے بھی کوئی جلسہ یا تحریک جو مزاحمتی ہو آپ کو غلط نظر آتی ہے.  جبکے آپ نے خود لکھا ہے  باچا خان بابا کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوے کہ بابا کی زندگی ہمارے لیے ناصرف مشعل راہ ہے بلکے ہماری پارٹی آئین بھی انکی زندگی کی عکاس ہے.  کیا عدم تشدد سے مزاحمت باچا خان بابا کا راستہ نہیں؟

جنابِ مشر!  معزرت کہ ساتھ کیا یہ معجزہ نہیں کہ سٹبلشمنٹ،  سٹبلشمنٹ کے چمچوں اور آپکے تعصورات پشتون تحفظ موومنٹ کے بابت ایک ہیں؟  ان سے تو کوئی گلہ ہو ہی نہیں سکتا لیکن کیا یہ محض اتفاق ہے کہ آپ کے الفاظ بھی انکی طرح ہی ہیں؟

جنابِ مشر! کیا آپ کو علم ہے کہ ہر دن ہر چیک پوسٹ پر روزانہ پشتون ماؤں بہنوں اور مردوں کی تزلیل ہوتی ہے؟  کیا باحثیت مشر آپکو قوم کی اس حالت پر کچھ کہنے کو اور بات کرنے کو حق ہے کہ نہیں ہے؟

جناب مشر! کیا آپ سوات سے لیکر فاٹا تک ریاستی بربریت سے واقف نہیں ہیں؟  کیا اس بربریت کو روکوانے کے لیے کوئی بھی قدم غیر آئینی،  غیر پارلیمانی،  غیر انسانی یا پھر غیر اسلامی ہوگا؟

جناِب مشر!  کیا آپ کو علم ہے کہ 1400 پشتون بہنیں لاپتہ ہیں؟  کس نے اٹھایا؟  کیوں اٹھایا؟ کدھر ہیں وہ؟  کیسی ہیں وہ؟  کیا آپ کے زہین میں یہ سوال نہیں آئے کبھی؟

جنابِ مشر!  فاٹا کے لاکھوں لوگ بے گھر ہیں اور باوجود اسکے کہ وہ بے گھر ہوے وہ بے چارے ماوراے عدالت مارے بھی جا رہے ہیں صرف 700 پشتون پچھلے ایک سال میں صرف کراچی میں مارے جاچکے ہیں کیا آپ کو اس بات کا علم ہے؟  کیا آپ نے کبھی انکا زکر کیا؟

جنابِ مشر!  پرانے خدائی خدمتگاروں کے بچے لاپتہ ہیں اور انھوں نے بار بار آپ سے رابطہ بھی کیا لیکن آپ نے کبھی انکے لیے آواز نہیں اٹھائی آج پشتون تحفظ موومنٹ انکے لیے میدان میں ہے کیا یہ عمل آپکی نظر میں غیر آئینی ہے؟

جنابِ مشر! کیا یہ آپ یہ جاننے میں پھر غلطی کر رہے ہیں کہ جو آپکی زمہ واری تھی اور آپکا فرض تھا جب آپ اپنی زمہ واری اور فرض سے غافل ہوگے تو پشتون قوم نے اپنے لیے ایک اور راستہ نکال لیا اب اگر آپ خود بھی ناکریں اور قومی تحریک کی بھی مخالفت کریں تو کیا یہ قوم سے غداری نہیں؟  پھر آپ کے بارے جو تصور جنم لے رہا ہے کہ خدا نا کرے آپ اب سٹبلشمنٹ اور پشتون دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یہ تصور غلط ہوگا؟

جنابِ مشر! کیا آپ کی ہر قسم چاہے وہ باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے سر کی قسم ہی کیوں نا ہو محض ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے؟  کیونکہ چند ایک اپکی قسم مجھے یاد ہیں جو شاید آپ خود بھول گئے ہیں مثال کے طور پر

  – میں باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے سر کی قسم کھاتا ہوں کہ پشتون کہ خون کے ہر قطرے کا بدلہ لونگا ….. جو شاید آپکو یاد نہیں رہا .اور جماعت اسلامی سے آپ نے اتحاد بھی کرلیا.

  – میں باچا خان اور ولی خان بابا کے سر کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر پشتونخواہ میں سی پیک نہیں بن سکا تو پھر پنجاب میں بھی نہیں بنے گا. لیکن پنجاب میں بن گیا ہے

  – میں باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے سر کی قسم کھاتا ہوں کہ جب تک پشتون تحفظ موومنٹ کہ مطالبے پورے نہیں ہوتے اے این پی کے ورکر آپکے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے لیکن پھر یہ پریس ریلیز

  – بصد احترام جناب مشر! وہ باچا خان بابا اور ولی خان بابا جنکے لیے ورکرز نے اپنی جان تک قربان کردی انکے سر کی قسم آپکو اتنی بے وقت لگتی ہے؟

جنابِ مشر!  جب ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے پھر کیا آپ وقت کی اس خدائی خدمتگار تحریک کی مخالفت کرکے باچا خان بابا سے غداری کے مرتکب نہیں ہو رہے؟

مشر اسفندیار ولی خان صاحب قوم اس انتظار میں تھی کہ آپکی ” مزمت” سے کچھ حالات بہتر ہو جائینگے لیکن حالات بہتری کے بجاے مزید بدتر ہوتے گئے لیکن آپ ” مزمت” سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے.  پھر بھی قوم منتظر تھی آپکے.

اب آپ تو آگے بڑھے نہیں اور ناہی آپ نے اپنی قوم کو قوم جانا بلکے افسوس کے آپ بھی کرسی اور اقتدار کی لالچ میں یہ تک بھول گئے کہ قوم کس حالت میں کیونکہ گزشتہ پانچ سال سے آپکی ہر تقریر عمران خان سے شروع ہوکر عمران خان پر ختم ہو جاتی تھی جو آپکو بھی پتہ ہے کہ کن لوگوں کا آدمی ہے میرا اشارہ پنڈی یا جی ایچ کیو کی طرف ہے جن سے آپکی ابھی نئی نئی دوستی بنی ہے اور امید ہے اگلی باری اقتدار کی بھی آپکی ہی ہوگی چونکہ اقتدار اب قوم سے منہ مڑنا جو ٹھہرا ہے.

جناب مشر!  مجھے یقین ہے پشتون تحفظ موومنٹ آگے جاے گی اور کچھ کر نا سکی تو اتنا تو ضرور کر ہی لگی کہ قوم کو دوست و دشمن میں فرق واضع کرکے دیکھا دے گی لیکن میں مطمین ہوں کہ پشتون تحفظ موومنٹ جو خالص غیر پارلیمانی پشتونوں کا ایک انقلاب ہے یہ قوم کو باچا خان بابا کے بتاے ہوے اصولوں اور ارمانوں تک لے کر جاے گی.

افسوس یہ ضرور ہوگا کہ قوم باچا خان بابا کے اصولوں پر بابا کے ارمانوں تک جاے گی لیکن آپ دشمنوں کی صف میں کھڑے ہونگے.

کیونکہ اب یہ نہیں کہ کوئی خاموش رہ کر جان خلاصی کرلے بلکے اب تو قوم صرف یہ دیکھ رہی ہے کہ کون ہمارے ساتھ اور کون مخالف ہے.

جناب مشر!  پیشگی معافی کے بعد ایک بار پھر سخت الفاظ پر معافی کا طلب گار ہوں.

امید ہے آپ قوم کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنے مشر ہونے کا حق ادا کرینگے اور آپکی پارٹی اس قومی تحریک کی ہر اول دستہ بنے گی.

فقط  ایک ادنہ پشتون

ممبر اے این پی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: