غدار مشال ریڈیو اور محب وطن ریڈیو آپکی دنیا: ایک ہی چھت پر دو موسم

Mashaal Radio

میں مسمی نامعلوم گل خان ، مشعال ریڈیو کی نشریات پر پابندی کی بھرپور حمایت کرتا ہوں اور یہ جسارت کرنا میرا کام نہیں کہ وایس آف امریکہ پشتو کافر اور غدار کیوں اور وایس آف امریکہ اردو مسلمان کیوں؟ یعنی مشعال کافر کیوں اور ریڈیو آپکی دنیا مسلمان کیوں کیونکہ دونوں ہی ہمارے محسن اعظم او سوری دشمن اعظم کے گھر سے آپریٹ ہو رہے ہیں؟

میری حب الوطنی، لاجک، ریزن، ڈیبیٹ، عقل، ریشنلزم، اور افلاطونییت کیساتھ نہیں جڑی بلکہ میں بھینس کے گلے میں لٹکے اس گھنٹی کی مانند ہوں جس کا خود کا کوئی ڈایریکشن نہیں بس جس طرف کالی بھینس چل پڑے وہی میرا ڈایریکشن اور سمت. اب اے باتوں کے افلاطون اب گھنٹی اور گھنٹا کا ڈیبیٹ نہ چھیڑئیگا کیونکہ اب سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ ایک مرد ہونے کے ناطے گھنٹا کیوں نہیں گھنٹی کیوں؟

ہاں اب اسے فیمنیزم اور سیکسزم کا بھی ایشو مت بناے گا
اب اے غدار پشتونوں تم لوگوں کی بک بک سننا نہیں چاہتا بس میری طرح بے چون و چرا محب وطن ہونے کا ثبوت دیجئے. اور جو بڑے بھائی نے کہا ہے اسے من عن امنا و صدقنا کے فلسفے کے تحت قبول کرنا چاہئے اب بار بار بچوں کیطرح رونا دھونا اچھا نہیں لگتا

اور ویسے بھی ہم مسلمان ہیں اور اسلام میں صبر کا دامن ہاتھ سے جانا نہیں چاہئے بلکہ دب کچھ پہلے سے مقدر میں لکھا گیا ہے وہ الگ بات ہے کہ ظالم کے سامنے سچ بولنے کا اور اس پر ڈٹے رہنے کا بھی حکم دیتا ہے اور اپنی حالت خود بدلنے کا بھی بس یہ ہم پر منحصر کہ ہم کس سرستے کا انتخاب کرتے ہیں

میں تو گل خان ہوں نہ مجھ میں اپنی حالت خود بدلنے کی سکت ہے اور نہ ہی میں مقدر کے خلاف جا سکتا ہوں تو پھر حالات سدھارنے کا کیوں سوچوں؟ ہاں جو ہو رہا ہے اسے قبول کرلوں اور گھنٹی کیطرح ٹن ٹن جاری

مجھے اپنی گل خانیت پر پورا فخر ہے. اور ہاں پشتون صحافیوں کا دانہ پانی چھینے پر میں پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ مبشروں، لقمانوں، اور گڑ کا اچار بھیچنے والوں کے ہوتے ہوے ہمیں شاہین بونیریوں، نفیس ٹکروں اور بہروزوں کی کیا ضرورت، بڑے آے ہیں افلاطون انکو کیا پتہ صحافت کیا ہوتی ہے اور غداری کیا

تخریر: روخ الله امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: