Home / Urdu Corner / ستاسٹھ سالوں کی مختصر تاریخ پر پختونوں کی ہزاروں سالہ تاریخ سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے:عبدالصمد خان صدراے این پی بنوں

ستاسٹھ سالوں کی مختصر تاریخ پر پختونوں کی ہزاروں سالہ تاریخ سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے:عبدالصمد خان صدراے این پی بنوں

baghi35

جب سے آرمی جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان سنبھالی ہے پختون قوم کی مصیبتیں اور تکالیف مزید بڑھ گئی ہیں

بنوں(وسیم باغی سے)عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی عبدالصمد خان نے بنوں میں یوم شہداء شمالی وزیرستان جمبکئی کی مناسبت سے منعقدہ برسی تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کی صورت میں یوم شہدائجمبکئی شمالی وزیرستان منانا قبائلی مشران کو یکجاء کرنا اور اُنہیں اپنی رائے کا اظہار ظاہر کرانا اتمانزئی جرگہ اور اے این پی شمالی وزیرستان پر نہایت فخر ہے کیونکہ اپنی تکالیف و مشکلات کے باوجود ان شہداء کی یاد میں برسی کا انعقاد کیا گیا جنہوں نے اپنی مٹی اورنئے نسل کیلئے قربانی دی۔اُنہوں نے کہا کہ پختونوں پر جو آگ برسائی جا رہی ہے یہ کوئی گزشتہ کئی صدیوں سے جاری ہے اس ضمن میں اگر ہم لر اور بر یعنی پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے پختونوں کی اصلی تاریخ دہرائے وہ تاریخ جو پاکستان بننے سے پہلے آزادانہ طور پر لکھی گئی تو کافی حد تک ان کی قربانیوں سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ پختون برصغیر کی واحد قوم ہے جنہوں نے 17صدی عیسوی میں افغانستان اور ہندوستان میں انگریز کے خلاف جنگ لڑی۔بلوچ بہادر قوم ہے ‘ تاریخ میں یہ پختونوں کے لشکر میں شامل رہا ہے اور ان سے مل کر انگریز کے خلاف لڑائی میں حصہ لیاہمارے دیگر اقوام ہمیشہ غلام رہے ہیں۔ اُنہوں نے ہمیشہ غیر ملکیوں کو خوراک،پناہ اور ان کی رہنمائی کی ہے اور اپنی مفادات کی خاطر اپنے وطن کا سودا کر ڈالے ہیںیہ مقام اس خطہ میں صرف پختون قوم کو حاصل ہے جنہوں نے منہاس القوم ایران پر بھی حملہ کرکے ایران کو قبضہ کیا ہے اور اس طرح دہلی کو دوبار فتح کیا ہے جبکہ پھر انہیں مغل کیلئے چھوڑ دیا تھا۔

baghi33

اُنہوں نے کہا کہ جب پختون قوم کی بہادرصفت تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو آج پختون قوم کی مشکلات پر روشنی ڈالی جا سکتی ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی کو اس لئے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ یہ پختونوں کی نمائندگی کر رہی ہے اگر صرف اے این پی نشانے پر ہے تو آج آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور فضل الرحمان پر بھی حملے کئے جا چکے ہیں اسی طرح نائن الیوان کے بعد ہزاروں کی تعداد میں پختونوں کو قتل کیا گیا جس میں اکثریت غیر سیاسی طبقہ کی تھی
وہ تو اے این پی کے نہیں البتہ پختون تھے اُنہیں کیوں قتل کیا گیا؟ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس کسی پر بھی پختون جمع ہوں اُنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے شمالی وزیرستان کے تقریباً سینکڑوں قبائلی مشران وہ مشران جو اپنی قبیلوں کی نمائندگی کر تے تھے سب سے پہلے ان کو قتل کرکے ہمارے جرگہ سسٹم پر حملہ کیا گیا پھر ہم پر ان عناصر کو مسلط کیا گیا آرمی پبلک اسکول پشاور اور چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ ہُوا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ اور اساتذہ کو شہید کیا گیا اُن کا کیا قصور تھا اُنہوں نے تو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا پھر بھی اُنہیں معاف نہیں کیا گیا اگر ہم موجودہ حالات میں اپنی دشمن کو منظر عام پر نہ لائے اور ہمارے مشران اور بچوں کے قاتلوں کوبے نقاب نہ کریں تو ظالم سے ہم ظالم سمجھے جائیں گے2012میں جب گورنر پنجاب سلمان تاثیر پر الزام عائد کرکے ان کے باڈی گارڈ نے اُنہیں قتل کیا ٹھیک چار ہفتے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مغربی سفارتکاروں کو ظہرانا دیا اس موقع پر جب سفارتکاروں نے آرمی چیف سے سوال کیا کہ آپ نے سلمان تاثیر قتل کی واضح مذمت نہیں کی تو اُنہیں جواب ملا کہ اگر میں واضح مذمت کرتا تو فوج تقسیم ہو جاتی آرمی چیف کے اس جواب سے ثابت ہوا کہ فوج کے اندر بھی ایسی قوتیں موجود ہیں کہ ان کے خوف کی خاطر چیف آف آرمی اسٹاف بھی اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکتاہماری تمام تر تکالیف کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں۔

baghi1آج کل جو طالبان کے نام پر مذموم کارروائیاں جاری ہیں یہ اصل میں طالب نہیں بلکہ طالب کو مورچہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اصل عناصر ہمارے فوج کے اندر موجود ہیں اور یہ طالب ان طاقتوں کا غلام رہا ہے جو ہمارے بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھیننے کے درپے ہیں اور یہ ساری قوتیں پختون قوم کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے ہیں جب سے آرمی جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان سنبھالی ہے پختون قوم کی مصیبتیں اور تکالیف مزید بڑھ گئی ہیں اس سے پہلے تو شمالی وزیرستان کے قبائلی اپنے گھروں میں جس طرح بھی تھے رہتے تھے خوف ضرور تھا ان کی پاس مگر ان کا جرگہ بحال تھا اور گھروں میں خواتین کا پردہ محفوظ تھا مگر نہایت آفسوس سے کہنا پڑرہا ہے آپریشن ضرب عضب واحد آپریشن تھا کہ ا ن کے شروع ہونے سے دو ہفتے قبل اعلان کیا گیا ان دو ہفتوں میں وہ عناصر جن کے خلاف آپریشن ہونا تھا وہ محفوظ مقامات کو منتقل ہو گئے یہ عناصر آج بھی افغانستان اور پاکستان کے ان علاقہ جات میں آباد ہیں جہاں پر نہ تو پاکستانی افواج ہیں اور نہ ہی افغانستان کی فوج آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے قبائل کو بے گھر کیا گیااور خواتین کو بے پردہ کیا گیا آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کو بڑی تعداد میں ہلاک کرنے کے دعوے تو کئے جا رہے ہیں مگر ہم نے آج تک نہ تو کسی کی قبر دیکھی اور نہ ہی اُنہیں میڈیا کے سامنے لایا گیا آخر لاشیں کہاں گئیں۔جب آرمی وزیرستان میں آپریشن کیلئے گئی تو ہر ہفتہ نئے نئے پیغامات دیتے تھے کہ دہشت گردوں سے علاقہ کلیئر کرانے میں ثمرات مل رہے ہیں مگر آج ہمیں پتہ چلا کہ علاقہ دہشت گردوں سے نہیں بلکہ آپ قبائلیوں سے کلیئر کرایا گیا اگر فوج واقعی آپ کی خیر خواہ ہوتی تو آج شمالی وزیرستان میں آپ لوگوں کے گھروں کی لوٹ مار ہوتی ؟

IDPs Photo

آج جو کچھ وزیرستان کے بازاروں اور گھروں میں ہو رہا ہے اس میں ٹھیکیدار نہیں بلکہ اصل ملوث تو یہ فوجی آفسران ہیںیہ ٹھیکیدار باقاعدہ فوجی آفسران کو لاکھوں روپے دیکر گھروں کا سودا کرتے ہیں یہ ہمیں پاکستانی نہیں سمجھتے اور ایسا ہوتا تو آج وزیرستان میں لوٹ مار نہیں ہوتی مگر آفسوس کہ وزیرستان کو مال غنیمت سمجھ رہے ہیں آج وزیرستان میں فوج بیٹھی ہے اور یہ سب کچھ ان کے ذمے ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ طاقتیں سمجھتی ہیں کہ اگر ان پختونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک ہو گئے تو ہماری اقتدار نہ ممکن ہے اس وجہ پر ہم سے نفرت کی جا رہی ہے ہم نہیں جانتے کہ ڈیورینڈ لائن کے اس پار قبائلی پارلیمینٹرین نے پارلیمنٹ میں ایک بل جمع کی کہ قبائل کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے یہ پاکستان میں موجود پختونوں کی یکجہتی کی ایک کوشش تھی اس اقدم کو حقارت کی نظر سے دیکھا گیا اور اس کیلئے اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دی گئی مگر اس کمیٹی میں جو ممبران ہیں وہ قبائلی روایات سے نا آشنا ہیں اور اس میں پختونوں کی نمائندگی نہیں۔دوسری یہ کہ ہم میں ایسے نمائندے پیدا کئے گئے جو کہتے ہیں کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے مگر الگ صوبے کیلئے جغرافیائی اور انتظامی لحاظ سے اس علاقہ میں کوئی ایسا موزوں علاقہ نہیں جس کو الگ صوبے کا درالخلافہ بنائے جائے فاٹا کے عوام بندوبستی علاقوں میں رہنے والے عوام سے گڑھ جوڑے ہیں اس لئے الگ صوبہ بہتر نہیں یہ ایک سازش ہے مگر اپنی سازش میں یہ عناصر ناکام ہیں کیونکہ اب سوچ رہے ہیں کہ اگر الگ صوبے کا درجہ دیا جائے پھر تو سینیٹ میں انہیں برابری کی بنیاد پر نشستیں دی جائیں گی بہر حال ان کا حل اسی میں ہے کہ فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے۔

fata

عبدالصمد خان نے کہا کہ ہم پاکستان کے مخالف نہیں پاکستان اب بن گیا ہے مگر پختون ہزاروں سال پرانی تاریخی قوم ہے اس لئے ہم اپنی تاریخ کو سبو تاژ بھی نہیں ہونے دیں گے۔اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کو بیت اللہ محسود کی جانب سے خط موصول ہُوا جس میں اُنہوں نے لکھا تھا کہ ہمیں راستہ دیا جائے پھر پنجاب کو دیکھ لیں کہ ہم کیا خشر کریں گے مگر اسفندیار ولی خان کی طرف سے جواب ملا کہ پنجاب میں داخلے سے پہلے ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہوگا ان ساری وفاداریوں کے با وجود بھی ہمارے مشران پر غداری کے الزامات لگائے گئے اُنہوں نے کہا کہ آج ہم ان مشران کو یاد کرتے ہیں جنہیں شہید کیا گیا تو ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگتا ہے ہم واضح پیغام دیتے ہیں کہ دہشت گردوں کی کوپن میں گولیاں اور بارود ختم ہو جائیں گی مگر ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے۔

From our correspondent Wasim Baghi

THE PASHTUN TIMES

About The Pashtun Times

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

x

Check Also

پشتون تحفظ تحریک: پس منظر و مختصر تعارف

تحریر: سنگین باچا 26 جنوری 2018ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ’محسود تحفظ ...