دہشت گردوں کا سر چشمہ جنوبی پنجاب میں ہے’ پولیس آپریشن نہیں کرتی: مختار خان یوسفزئی

Mukhtar lala

بنوں(وسیم باغی سے) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر مختار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ جمہوریت کے لئے قربانیوں کا دعویٰ کرنے والے اپنے دعوؤں میں جھوٹے ہیں جمہوریت کے لئے قربانیاں پشتون قوم نے دی ہیں جب بھی ملک میں مارشل لا ء لگا ہے اور کسی امر نے شب خون مارا ہے تو اس کے خلاف پشتونوں نے ہی جد وجہد کی ہے اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والے ان حالات میں مصلحت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں یا چپ جاتے ہیں صرف ہری پور جیل سے مارشل لا ء دور میں پشتون قوم کے غیور پشتونوں کے اٹھارہ جنازے نکلے ہندوستان کی آزادی کے لئے قربانی ہم دی لیکن جب ملک آزاد ہوا تو اس پر قبضہ ان ہی لوگوں نے کیا جو انگریز کے نمک خوار تھے ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے تاجی کلہ میں خدائی خدمت گار ملک رحمزاد خان کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس سے صوبائی جنرل سیکرٹری ارباب مجیب الرحمان ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جہانگیر خان ، پی ایس او کے سیکرٹری اول احمد جان خان ، ڈاکٹر حبیب اللہ خان اور کفایت اللہ خان نے بھی خطاب کیا اُنہوں نے کہا کہ پشتون قوم کو اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ اُنہوں نے عوام کے لئے انگریزوں سے آزادی کیوں حاصل کی اُنہوں نے کہا کہ آزادی کے لئے سب سے زیادہ قربانی ہم نے دی اور ہم آج بھی غلام ہیں بلکہ انگریز دور سے بھی بد تر حالات سے دوچار ہیں انگریز دور میں نہ تو ہمارا کوئی سکول دھماکے سے اُڑایا گیا اور نہ ہمارے بچوں کو اس بے دردی سے ذبح اور قتل کیا گیا جو کہ آج پشتونوں کے سرزمین پر ہو رہا ہے اُنہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آزاد قومیں کیسی زندگی گزارتے ہیں وہ اپنے بال بچوں کی کس طرح دیکھ بال کرتے ہیں اور ان کا خیال رکھتے ہیں چین ہم سے بعد میں آزاد ہوا لیکن چین میں ایک بھی شخص بے روزگار نہیں اور یہاں صورت حال یہ ہے کہ ہماری زمین تمام وسائل سے مالا مال ہے لیکن پشتون قوم کے افراد لاکھوں کی تعداد میں محنت مزدوری کے لئے دوسرے ملکوں میں اپنی زندگی برباد کر رہے ہیں ہمیں معاشی طور پر کمزور کرنے والے اب ہماے بچوں سے تعلیم کی روشنی بھی چین رہے ہیں اُنہوں نے کہا کہ وزیرستان کا آپریشن اس بنیاد پر کیا گیا کہ یہاں دہشت گردوں کی پناگاہیں ہیں لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ہی عناصر کا سرچشمہ جنوبی پنجاب میں ہے اور وہاں پولیس کا آپریشن تک بھی نہیں کیا گیا اُنہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے سامنے پشتون کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے پنجاب میں پشتونوں اور پشتون طالب علموں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی خطرناک صورت حال کی طرف ملک کو لے کر جا رہے ہیں۔ ہمارے سینکڑوں بچوں کے قاتل ایک صوبے ک حکمرا ن ہیں جو اپنے علاوہ باقی ملک کو پاکستان تصور ہی نہیں کرتے ۔ اُنہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کشمیر کی آزادی کو ممکن بنایا آج وہی لوگ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں سوات میں 25لاکھ اور وزیرستان سے دس لاکھ افراد بے گھر کئے گئے اور ستم ظریفی یہ کہ ان کے گھروں اور بازاروں کو مسمار کیا گیا ایسا تاریخی ظلم پشتون قوم کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا مختلف ادارے لوگوں کو ماورائے عدالت اُٹھا رہے ہیں جس کا کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا ۔اُنہوں نے کہا کہ قوم ملک رحمزاد خان جیسے لوگوں کو یاد رکھتی ہیں جنہوں نے اپنے لئے کچھ نہیں کیا لیکن ملک اور قوم کے لئے جیلیں کاٹیں اور کوڑے کھائے ۔ جائیدادوں سے محروم ہوئے اور قوم کو منزل تک لے جانے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا مقررین نے مطالبہ کیا کہ جب وزیرستان کو 85فیصد علاقہ کلئیر ہے تو وزیرستان کے لوگوں کوکیوں جانے نہیں دیا جا رہا ہے ان کی فوری واپسی یقینی بنائی جائے اور ان کے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کا ازالہ بھی کیا جائے یہ بھی مطالبہ کیا گیا بنوں شوگر ملز جس سے ہزاروں افراد وابستہ کو فوری طور پر شروع کیا جائے۔

From our correspondent Wasim Baghi

THE PASHTUN TIMES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: