بنگلہ دیش کے عوام سے معافی نامہ

bangladesh-genocideہم (مغربی) پاکستان کے لوگوں نے روز اول (15 اگست 1947) سے آپ کے حقوق سے محروم رکھا۔ جب کہ پاکستان بنانے میں آپ کی بنگالی قیادت کا کلیدی کردار تھا۔ مسلم لیگ کا پہلا اجلاس بھی ڈھاکہ میں ہوا تھا۔ پاکستان بنتے ہی بابائے قوم جناح اور لیاقت علی نے آپ کی زبان کو ‘مقامی’ اور گھٹیا درجے کی قرار دے دیا۔ جب کہ پاکستان کی آبادی کی اکثریت بھی آپ پر مشتمل تھی۔ جب کہ ہمیں پتہ ہے، برصغیرکی سب سے زیادہ  زبان بنگلہ ہی تھی۔ ہندوستان کی بے شمار زبانوں میں صرف آپ کی زبان کے ادیب کو ادب کا نوبل انعام مل چکا تھا۔ آپ کی عددی اکثریت کو گم کرنے کے لئے ہم نے  اور ون یونٹ کا فارمولہ ایجاد کیا۔ تاکہ آپ کو کبھی اقتدار نہ مل سکے۔ اور نہ آپ اقتدار میں شریک ہوسکیں۔ اس ملک کے اتحاد اور ترقی کے لئے عوام اہم نہ تھے۔ بلکہ اسلام، اردو، اور ہندوستان دشمنی بنیادی ستون قرار دیئے گے۔

ہم نے آپ کو ہمیشہ کم ترنسل کا کالا کلوٹا، چھوٹےقد کے نچلی سطح کے انسان طور پر آپ سے رویہ رکھا۔ آپ کی حب الوطنی پر ہمیشہ شک کیا۔ چونکہ جس طرح ہم پنجاب اور سندھ سے ہندووں سکھوں کا قتل عام کرکے ان کو یا تو مارچکے تھے، یا ان کو انڈیا بھجوا چکے تھے۔ شائد آپ نے اپنے ہندو بنگالیوں کے ساتھ وہ وحشیانہ سلوک نہ کیا۔ چنانچہ آپکے پاکستان کے ساتھ حب الوطنی مشکوک ہوگئی۔ ہم نے ہمیشہ ‘اصل والے پاکستان’ میں یہ پروپیگنڈا کی کہ مشرقی پاکستان تو صرف مالی بوجھ ہے۔ وہ تو سیلابوں کا ملک ہے۔ آپ کے پاس سوائے پٹ سن کے کچھ نہیں، اس کی اہمیت کیا ہے، ہم اس کی بوریاں بنایا کرتے تھے۔ ظاہر ہے آپ کی اوقات بھی اتنی ہی ہونی تھی۔ آپ کی طویل سیاسی حقوق کی جدوجہد سے بالآخر1971 کے ایک ووٹ ایک آدمی کی بنیاد پرآزادانہ الیکشن ہوگے۔ لیکن اصلی والی پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے آپ کی اکثریت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اصلی والے پاکستان نے آپ کو بندوق کی گولی سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی، ہمارے جنرلوں نے کہا، ہمیں بنگالی نہیں بنگال چاہئے۔۔ مار دو ان کتوں سورووں کو۔۔ ہاں ان کی عورتوں کو ‘چکھنے’ کے بعد مارنا۔ آپ کے ہان کی جماعت اسلامی اور بہاریوں نے آپ کی سرزمین سے غداری کی۔ وہ ہماری اسٹیبلش منٹ کے دلال بنے۔ اور آپ کا قتل عام کرانے میں ہماری پنجابی فوج کا ساتھ دیا۔ آپ نے آزادی کے بعد کچھ سال مشکلات میں گزارے، لیکن آپ حیران کن طورپرپاکستان سے زیادہ ترقی کرگے۔

آپ کے پاس کاٹن نہ تھا، لیکن آج مغرب کی منڈیوں میں تمام بڑے چین سٹورز میں آپ کے بنائے کپڑے مل جاتے ہیں۔ ہماری جو بڑی مقدار میں کاٹن تھی، ہمارے بنائے کپڑے دنیا کے کسی سٹور میں دستیاب نہیں۔ ہم خود ہی کپڑے بناتے ہیں۔ خود ہی پہن لیتے ہیں۔ آپ کے بعد امریکہ کی دلالی سے ہمیں اربوں ڈالرز میسر آئے، ہم نے اپنا ملک اور جنوبی ایشیا کو دنیا کی دہشت گردی کا وسیع میدان بنا دیا۔ اب ہم کو چین نے ‘راہداری’ کمیشن پر لگا دیا ہے۔ امید ہے، کچھ سال اربوں ڈالروں کا بندوبست رہے گا۔ ہماری فوجی قیادت کی گردنیں اتنی ہی تنی ہوئی ہوئی، ان کے سینے اتنے ہی چوڑے ہیں۔ اور پہلے سے زیادہ بیج چمک رہے ہیں۔ آپ اپنے غداروں کو بھانسیاں دے رہے ہیں۔ ہم اپنے دلالوں کی خدمت کو نہیں بھول سکتے۔ ہم نے تو چاہا تھا۔ کہ سرنڈر کی آخر رات تک تمام بنگالی شاعر، ادیب، دانش ور، اساتذہ قتل کردیئے جائیں۔۔ تاکہ آپ کی نسلوں میں کوئی سوچنے سمجنے والا پیدا نہ ہو۔ لیکن کیا پتا تھا، دوسروں کی قبرکھودنے والے خود اسی قبر میں جا گرتے ہیں۔ آج ہمارے ہاں کی تمام دانش مرچکی ہے۔ صرف ملاوں کا ہجوم رہ گیا ہے۔ وہی ہمارے فکری راہنما ہیں۔

شوکت رسول

 

پشتون ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: