بنوں جرگہ: مشران نے مالکان پر پولیٹیکل انتظامیہ سے ملاقات پر پابندی عائد کر دی

B2

بنوں(وسیم باغی سے )احمد زئی اتمانزئی قبائلی جرگہ کی جانب سے مالکان ،خان بہادراور مشران پر کمشنر،ڈپٹی کمشنر اور پولیٹیکل انتظامیہ کے ساتھ ملاقات پر پابندی عائد۔ خلاف ورزی کر نے پر 5لاکھ جرمانہ کیا جائیگا۔حکومت کا ایف آرز میں سکولوں کی بندش کا فیصلہ صرف چند سو سکول کا نہیں بلکہ اس کے ساتھ 60ہزار قبائل کا مستقبل وابسطہ ہے سکولوں اور ہسپتالوں کی خستہ خال عمارتوں کی مرمت کیلئے فوری طور پر فنڈز جاری کئے جائیں فاٹا کے فنڈز قبائلی عوام پر خرچ کئے جائیں کسی سکول اور ہسپتال کی بندش کیلئے تیار نہیں ہمارے بچوں کو دہشت گردی کے راستے پر کیوں اکسایا جارہا ہے آئندہ سوموار کو چھ آیف آر ز کے قبائل کو اکھٹا کیا جائیگا۔ بنوں ٹاؤن شپ میں منعقدہ گرینڈ جرگہ سے ملک مویز خان ،ملک لیاقت علی خان،ملک عالمگیر خان ،ملک دوات خان ،ملک نیاز وال خان ،ملک میر شمد خان اور دیگر نے کہا کہ گزشتہ 25سالوں سے ایف آرز کے سکولوں کی مرمت کیلئے فنڈز جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ ترقیاتی اسکیموں میں ان سکولوں اور ہسپتالوں کی مرمت اور تمام تر بنیادی سہولیات پورا کرنے کیلئے فنڈز شامل کئے جائیں کیونکہ آج کے اس نازک دور میں ہمارے سکول اور ہسپتالوں کی چار دیواری نہیں ۔ گورنر خیبر پختونخوا اور اے سی او ہمارے سکول اور ہسپتالوں کے خاتمے پر تُلے ہیں جوکہ پختون روایات کے منافی ہیں اور یہ قبائل کی رسم و رواج سے نا واقف ہیں۔گورنر خیبر پختونخوا نے صرف ایف سی آر کے معاملے کو سنگین لیا ہے مگر قبائل کے دیگر مسائل و مشکلات پر غور نہیں کرتے۔ خیبر پختون خوا کی حکومت نے صوبے میں سکولوں کی مرمت کیلئے 20سے25لاکھ روپے فی سکول جاری کئے ہیں مگر ایف آرز کے سکولوں اور ہسپتالوں کیلئے تاحال فنڈز جاری نہ ہوسکا۔ فاٹا کے فنڈز فاٹا سیکرٹریٹ اور کچہری میں بے جاء استعمال ہو رہے ہیں مگر فاٹا کے سکولوں اور ہسپتالوں پر خرچ کرنا اسے ضائع سمجھا جاتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے فاٹا کے فنڈز فاٹا کے سکولوں ،ہسپتالوں اور سڑکوں پر ہی خرچ کئے جائیں ۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارا یہ پانچواں جرگہ ہُوا مگر آج تک ہم سے ہمارے مسئلے کے حوالے سے نہیں پوچھا گیا۔مگر ہم بھی یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مطالبہ تسلیم نہ ہونے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے اور احمد زئی و اتمانزئی کے 60قبائلی، تمام ایف آرز بشمول فاٹا کی ساتوں ایجنسیوں کو ساتھ لیکر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔کیونکہ ایف آرز میں سکولں کا خاتمہ کرنا ہمارے بچوں سے قلم چھیننے کے مترادف ہے اور ہم اپنے بچوں کی بہتر مستقبل کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ابتدائی طور پر ہم نے فیصلہ کیا ہے ایف آر کے مشران،ملک اور خان بہادر کو کچہری میں کمشنر ،ڈپٹی کمشنر اور پولیٹیکل انتظامیہ کیساتھ ملاقات کرنے پر پابندی عائد کی ہے جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ اگلے سوموار کو ہونے والے جرگے میں انہیں اقوام ذمہ داریاں سونپ دے گی اور ذمہ داریوں میں کیا کچھ ہوگا وہ حکومت جانتی ہے۔

By our correspondent Wasim Baghi
THE PASHTUN TIMES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: