اکنامک کوریڈور…خوشحالی کا راستہ : ضیاء الدین یوسف زئی

Ziauddin sb
ناانصافی، عدم رواداری، شکوک و شبہات، دوغلا پن اور بے اعتمادی دو سگے بھائیوں کے درمیان بھی حد سے بڑھ جائے تو بھائی بندی ٹوٹ جاتی ہے۔ بھائی چارہ چند بھائیوں کے درمیان ہو، قوموں کے مابین ہو اور یا ملکوں کے بیچ، ہمیشہ باہمی اعتماد، انصاف اور حقوق کی یکساں پاسداری پہ قائم رہتا ہے۔ پاکستان کے مثالی گھرانوں میں تو بڑے بھائی کو باپ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ چھوٹے بھائیوں کا حق کھانا تو درکنار بڑے بھائی کی اخلاقی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ چھوٹے بھائیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے ہر طرح کی قربانی دے۔ اور قبائلی سماج میں بڑے بھائی کو اگر ذرا بھی شک یا ادراک ہو جائے کہ ان کی بھائی بندی کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں تو وہ اور بھی محتاط ہو جاتا ہے۔

آپ ہوشیار لوگ ہیں۔ اتنی لمبی تمہید پڑھنے کے بعد آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ میرا اشارہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، کشمیر اور قبائلی علاقوں سمیت پختون خوا کی اس بھائی بندی کی طرف ہے جو مل کر پاکستان کہلاتی ہے۔ ہاں، ہمارے بیچ ایک اور شناخت بھی ہے۔ یعنی میں ایک پشتون ہوں، مسلمان ہوں، یوسف زئ ہوں اور مَیں، مَیں بھی ہوں لیکن یہ سارے مضبوط اور گہرے رشتے میری پاکستانیت کے ساتھ متصادم نہیں ہیں بلکہ میں اپنے ان تمام خوب صورت اور متنوع حوالوں کے ساتھ ایک پاکستانی ہوں۔ میرے اس مضمون کا مطمع نظر خود کو کوئی بڑا محب وطن پاکستانی یا قوم پرست پشتون ثابت کرنا نہیں بلکہ ان کروڑوں پاکستانیوں کی حالتِ زار اور بے زاری کا ذکر کرنا ہے جو اپنے دوسرے تعارف میں پشتون، بلوچ یا قبائلی پشتون ہیں۔

چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے حوالے سے اس نصف سے زائد پاکستان میں جو احساسِ محرومی، بیزاری اور کراہت پائی جاتی ہے، اس کو میں اور دوسرے ملک بدر پاکستانی ہزاروں میل دور شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کے ملک کے اندر رہنے والے حکمران اور صاحبِ اختیار دیدہ و دانستہ اتنے بے حس کیوں ہیں؟ جان بوجھ کر انھوں نے خاموشی کی رِدا کیوں اوڑھ رکھی ہے؟

میں اس گھمبیر صورتِ حال کو جب تاریخ کے آئینے میں دیکھتا ہوں تو گھبرا جاتا ہوں۔ جن محب وطن پاکستانیوں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ہے، وہ آج کے پختون خوا، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے عوام کی بیزاری کو دیکھ کر نوشتۂ دیوار پڑھ سکتے ہیں۔ مشرقی پاکستان یعنی آج کے بنگلہ دیش کو اگر زبان اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے محرومیوں کے نقطۂ عروج پر نہیں پہنچایا جاتا اور اس کے سیاسی اور جمہوری مینڈیٹ کو تسلیم کر لیا جاتا تو بہ خدا دنیا کا کوئی پراپیگنڈہ اور کوئی فوجی طاقت پاکستان کو دولخت نہیں کر پاتی۔

میں سن رہا ہوں، دیکھ رہا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کوریڈور کے حوالے سے صوبہ پختون خوا اور بلوچستان کے سیاسی رہبروں، سیاسی کارکنوں، سماجی حلقوں اور باشعور عوام میں بے چینی روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے سیاسی رہنما تو جیسے خود راستہ کھو چکے ہوں اور وہ شیکسپئر کے ہیملٹ کی طرح خوف اور مخمصے کے شکار ہیں۔ سماجی اور سیاسی کارکن اپنے اپنے فہم اور شکوک کے مطابق نتائج اخذ کر رہے ہیں۔

بلوچستان اور پختون خوا کے عوام جو پہلے سے ناراض اور نالاں ہیں، وہ اپنے ساتھ مزید کسی قومی خیانت اور حق تلفی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ وہ کئی دہائیوں سے مسلسل محرومی کے شکار چلے آ رہے ہیں۔ وہ جبر، دہشت اور خوف کے ایسے بھنور میں پھنس چکے ہیں کہ انھیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ پختون خوا اور قبائلی علاقوں کے بچے اسکول نہیں جا سکتے۔ بوڑھے والدین جوان بچوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کتاب، قلم، طالبعلم اور استاد پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اونچی دیواروں، خاردار تاروں، سی سی ٹی وی کیمروں، بندوق بردار چوکیداروں اور مسلح اساتذہ کرام ایک ایسا منظر پیش کر رہے ہیں جیسے ہمارا ہر تعلیمی ادارہ کسی سکیورٹی اسٹیٹ کا ایک مِنی ماڈل ہو۔

ایسے مایوس کن حالات میں جب چین نے پاکستان کے شمال سے لے کر جنوب تک اکنامک کوریڈور گزارنے کی نوید سنائی تو یہاں کے مکینوں کو ایسے لگا جیسے ان کے جہنم زدہ خطے سے کوئی جنت کا راستہ گزارنا چاہتا ہو۔

ان کو محسوس ہوا جیسے تاریخ ایک نئی کروٹ لے رہی ہو اور آج سے 38 سال پہلے امریکا اور مغرب نے جس خطے کا انتخاب روس کے خلاف میدانِ جنگ کے طور پر کیا تھا، آج اسی خطے کا انتخاب پاکستان کے مخلص ترین دوست چین نے امن، صنعت و حرفت، ترقی اور خوشحالی کے لیے کیا ہو۔ میں بھی بہت خوش تھا کہ چلیں اب ہمارے نوخیز لڑکے جنت کی حوروں کی ہوس میں خود کو بم سے اڑا کر دوسروں کے چیتھڑے اڑانا چھوڑ دیں گے۔ کیونکہ ان کا اپنا وطن جنت بن جائے گا لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ میاں محمد نواز شریف سمیت دوسرے حکومتی ترجمان بار بار کہ رہے ہیں کہ مغربی روٹ سب سے پہلے بنے گا۔ لیکن سید عالم محسود اور سلیم صافی جیسے باخبر لوگ ہر بار چیلنج کرتے ہیں کہ ہیں اگر کسی مغربی روٹ کا وجود ہو کسی دستاویز میں، تو دکھاؤ قوم کو۔

آج ہر پشتون، بلوچی، سندھی اور باشعور و محب وطن پنجابی کے ذہن میں ایک ہی سوال اُبھرتا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور پر متعدد اے پی سیز کے اعلامیوں کے باوجود شکوک و شبہات ختم کیوں نہیں ہو رہے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آنا چاہیے۔ یہ کسی صحافی کا کسی سیاستدان سے معمول کا سوال نہیں کہ وہ اسے گول مول کر کے چھٹکارا حاصل کرے۔

بھئی یہ پاکستان کی دو اکائیوں کے کروڑوں عوام کا سوال ہے۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ وقت اب وہ نہیں رہا جب لوگ جاگتی ماں سے بچہ چراتے تھے۔ یا پشتو ضرب المثل کے مطابق اونٹ کو شلوار میں چھپاتے تھے (یعنی اوخ پہ بڈہ کول)۔ اب تو لوگوں کے پاس سوال اٹھانے کے ہزاروں پلیٹ فارمز ہیں۔ کوریڈور کا سوال ایک اہم قومی سوال ہے۔ کسی فردِ واحد کا سوال نہیں جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ اس قسم کے کسی بڑے سوال کا جواب آیندہ کی نسلیں بھی مانگتی ہیں۔
ایک استاد اور سماجی کارکن کی حیثیت سے میرا خیال ہے کہ قومی یک جہتی اور باہمی اعتماد کے مقابلہ میں لاکھوں بلین ڈالرز کے منصوبے ہیچ ہیں۔ حرص و لالچ اور وقتی فائدے عزت کی بجائے ذلت اور رسوائی لاتے ہیں۔ سی پیک اگر پاکستان کے عوام کو ایک دوسرے سے بدظن کرنے کا منصوبہ ثابت ہوتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اس منصوبے کو روبہ عمل ہی نہ لایا جائے۔

خدا کرے کہ مرے ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

ہم کوریڈور کی اس فصل گل سے امیدِ بہار لگائے بیٹھے ہیں، خدا کرے کہ پاکستان کے حکمران، سیاسی قیادت بصیرت سے کام لیں اور قوم کو کھل کر بتائیں کہ اصل صورتِ حال کیا ہے؟ اس کا ایک آسان حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ احسن اقبال صاحب جائنٹ کواپریشن کمیشن (JCC) کے چینی سربراہ کو پشاور، کوئٹہ یا اسلام آباد بلا کر ایک پریس کانفرنس منعقد کریں جس میں چینی سربراہ (چینی زبان میں ہی سہی) یہ وضاحت کریں کہ مغربی روٹ منصوبے کا اٹوٹ حصہ ہے اور اپنی تمام تر معیاری سہولتوں اور صنعتی یونٹوں کے ساتھ بن کے رہے گا۔ ایسا کر کے محمد نواز شریف صاحب ایک عظیم پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں گے اور احسن اقبال صاحب ان کروڑوں بلوچو ں اور پشتونوں پر احسان کریں گے جن کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ جو حالاتِ کی ستم ظریفی کے باعث شدید دباؤ، احساسِ محرومی، مظلو میت اور تعصب کا شکار ہیں۔

میں صوبہ پنجاب کے غیور عوام، نڈر صحافیوں اور حق گو سیاسی رہبروں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ تو داتا گنج بخش کی نگری سے تعلق رکھتے ہیں جو دوسروں کا حق چھیننے کی بجائے اپنے خزانے بخشنے پر یقین رکھتے تھے۔ آپ کی دھرتی میں حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے خبردار کیا تھا کہ

فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں قوموں کے گناہوں کو معاف

اور آپ تو ہمارے سب کے رہنما فیض احمد فیض کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں جو کہتے ہیں

جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی
یہیں عذاب و ثواب ہو گا
یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہو گا

چین پاکستان اکنامک کاریڈور کا منصوبہ کوئی معمولی منصوبہ نہیں ہے۔ یہ چین اور پاکستان دونوں ممالک کے لیے ہمہ جہت فوائد کا حامل ہے۔ چین کے لیے تو اس راہداری کے علاوہ بھی ایران کی شکل میں متبال آپشن موجود ہے لیکن ہمارے لیے تو یہ ایک نعمتِ غیرمترقبہ ہے۔ اس لیے اس منصوبے کے حوالے سے ہر طرح کے شبہات اور ابہامات فوری طور پر دور کیے جانے چاہئیں۔

اسے نہ صرف پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی نشاۃ ثانیہ سمجھنا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے اگر مغربی روٹ میں آنے والے پس ماندگی کے شکار علاقوں کو ترقی اور خوشحالی شامل کرلیا جائے تو اس سے ایک مضبوط، متحد اور قومی یک جہتی کے جذبے سے سرشار پاکستان کی تعمیر ممکن ہو سکے گی۔ خدا کرے کہ سی پیک کا منصوبہ ہمارے لیے اور ہماری آیندہ نسلوں کے لیے تقسیم کی ایک بدنما لکیر کی بجائے پاکستان کی تمام اکائیوں کے لیے برادرانہ قربت، امن، ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے۔

 

The article was first published in ExpressNews

THE PASHTUN TIMES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: