پاکستان جنگ و جدل کا راستہ اپنا کر افغانستان میں اپنے احداف تک نہیں پہنچ سکتا: حامد کرزئی کا دی پشتون ٹائمز کو حصوصی انٹریو

سابق صدر نے پشتون ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کابل کو ایک اچھے دوست کی نظر سے دیکھے اور افغانستان میں جاری فساد کو ختم کرنے کے لئے کابل کا ساتھ دے ۔

Hamid Karzai 03

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا ایک بار پھر کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردی اور شدت پسندی کو ہوا دیکر اپنے مقآصد کے حصول تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور اچھا یہی ہوگا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ایک اچھے ہمسائے والی پالیسی اختیار کرے۔

سابق صدر نے دی پشتون ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں چاہے جتنی تباہی پھیلائے، دہشت گردی کی پشت پناہی کرے لیکن افغانوں کو جھکا نہیں سکتیں۔ کرزئی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کابل کو ایک اچھے دوست کی نظر سے دیکھے اور افغانستان میں جاری فساد کو ختم کرنے کے لئے کابل کا ساتھ دے ۔

کرزئی نے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے مشکل وقت میں افغان عوام کا ساتھ دیا، اور خلوص دل سے انکوں اپنے گھروں میں جگہ دی۔ لیکن ساتھ ہی پاکستانی حکومت سے کہا کہ وہ بھی افغانستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں۔

افغان عوام کو مشکل حالات میں پاکستانی عوام نے اتنا پیار اور خلوص دیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ بالکل اسی طرح پاکستانی حکومت کو چاہیئے کہ افغانستان کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔

حکومت پاکستان سے یہ درخواست کرونگا کہ افغانستان کو ایک اچھے ہمسائے کے طور پر تسلیم کرنا کرے۔پاکستان، افغانستان میں شدت پسندی یا انتہا پسندی کو فروغ دے کر جنگ اور تباہی کا باعث بن کر اپنا مقصد کبھی حاصل نہیں کر سکے گا۔کرزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستانی مفادات کا تحفظ صرف دوستانہ، برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون پر منحصر ہے۔”

صابق صدر کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی حکومت سے مخاطب ہوں، کیونکہ پاکستانی عوام افغان عوام کے بہت قریب ہیں، عوام کے عوام سے روابط بہت مضبوط ہیں، اور افغان عوام کو مشکل حالات میں پاکستانی عوام نے اتنا پیار اور خلوص دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب کے عوام دہشت گردی اور انتہا پسندی سے متاثر ہیں اور اس فساد سے دونوں جانب کی عوام کو چھٹکارہ دلانے کا وقت آن پہنچا ہے ۔

ایسا پہلی بار نہیں کہ صابق صدر نے پاکستان پر افغانستان میں دوغلی پالیسی کا الزام لگایا ہو، بلکہ حامد کرزئی نے اپنے دور حکومت میں بھی پاکستانی حکومت کو افغانستان کی تباہی کا زمہ دار قرار دیا ہے۔ کرزئی نے اپنے دور حکومت میں بیسیوں بار پاکستان کے دورے کئے پاکستان کے پالیسی ساز اداروں، حکمرانوں کی افغانستان کے بارے اپنی رائے تبدیل کرنے پر رضا مند کر سکیں۔

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*