پاکستانی عوام کو جشن آزادی منانے سے زیادہ اپنی شخصی اصلاح کی ضرورت ہے: احسان کاکڑ

pakistan-flag

ظلم، بربریت، ریاستی جبر، مذہبی جنونیت، قومی افراتفی، زاتی اور لسانی تعصب، فرقہ واریت، احساس کمتری اور غربت کے زنجیروں میں جھکڑے ہوئے عوام کو جشن آزادی منانے سے زیادہ اپنی شخصی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے

ایسے معاشرے میں جشن آزادی منانا وقت اور مال کا ضیاع ہیں
جہاں آزادی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی
جہاں پرندوں اور جانوروں کے شکار پر پابندی عائد ہو مگر انسانوں کا قتل عام عروج پر ہو
جہاں آئین کے دائرے میں کر بھی اپنے حقوق کی بات کرنا اور اپنے سائل وسائل پر اپنے بچوں کا حق مانگنے کو “غداری” کہا جاتا ہو
جہاں مادرِ وطن کو لوٹنے والے قاتلوں اور غنڈہ گردی سے راج کرنے والے سپاہیوں کو ” امیر المؤمنین” اور “قومی ہیرو” جیسے القابات دیۓ جاتے ہو
جہاں مذہب کے نام پر قتل و غارت عبادت سمجھا جاتا ہو
جہاں حکمرانوں سے سوال کرنا گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہو
جہاں مسلمان کو کافر بنانے والے فتوے سرِ عام چوراہوں پر بکتے ہو
جہاں غیرت کے نام پر بہنوں کا قتل بھائیوں کے لیے کسی مشغلے سے کم نہ ہو
جہاں شہروں سے زیادہ قبرستان آباد ہو
جہاں غذائی قلت سے سالانہ سینکڑوں بچے مرتے ہو
جہاں استاد سے زیادہ ڈرائیور اور منشی کی عزت کی جاتی ہو
جہاں کتابیں فٹ ہاتھ جبکہ جوتے ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں رکھے جاتا ہو
جہاں دفاعی بجٹ تعلیمی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہو
جہاں کپڑے مہنگے اور کفن سستا ہو
جہاں بھیڑ بکریوں کے بجائے گدھوں اور کتوں کا گوشت کھلایا جاتا ہو
جہاں سکولوں سے زیادہ سینما گھر ، مریضوں سے زیادہ ڈاکٹر، مارکیٹوں سے زیادہ اسپتال اور کئیر سنٹرز سے زیادہ شاپنگ سنٹرز ہو

جنابِ اعلی……اس ملک میں جشن آزادی منانا مظہر قدرت کے خلاف شمار کیا جاتا ہے…….لہذا ملک کے “آزاد” باسیوں سے عاجزانہ التجا کی جاتی ہے کہ وقت حاضر کے حالات کو سمجھتے ہوئے جشن آزادی کے بجائے اپنی ” اخلاقی گراوٹ” کا اصلاح کرے جوکہ اولین ذمےداری میں سے ایک ہے

EHSAN KAKAR

احسان کاکڑ، نمل یونیورسٹی اسلام آباد
دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*