پاکستانی سفارت کاری اور سنجیدگی کا فقدان

  • ایمل خٹک

    ایمل خٹک

    اب جبکہ پاکستان کی ناکام سفارت کاری اور سفارتی تنہائی کی باتیں معمول بن چکی ہے مگر سفارتی سطح پر غیرذمہ دارانہ بیانات اور اس سے پیداشدہ خجالت اور شرمندگی اس سفارتی بحران کی شدت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

    سفارت کاری کے علم اور فن دونوں پر ھم جیسے غیر سفارتکار لوگوں کی بات بڑی عجیب لگتی ہے ۔ مگر سفارتی میدان میں حماقتیں اور سنگین غلطیاں دیکھ کر چار و ناچار اس پر بات کرنے پر مجبور ھو جاتے ھیں۔

    بقول شخصی اگر وہ کوئی بیوہ قوف نئ بیوقوفی نہ کریں تو لوگوں کو کیا ضرورت کہ انکی پرانی بیوہ قوفیوں کو یاد کریں۔ یہی حال ھماری سفارت کاری کا بھی ہے ۔ اگر پاکستان کے سفارتی معاملات چلانےوالے غلطیوں پر غلطی نہ کریں تو ان پر انگلی اٹھانے کی نوبت نہیں آئیگی۔

    بین الاقوامی تعلقات کا شعبہ انتہائی نازک اور اھم ھوتا ہے۔ اور اس میں ھر بات کہنے اور پبلک کرنے سے پہلے اس کو ھر حوالے سے پرکھا اور تولا جاتا ہے کہ مبادا بیان میں کوئی تذبذب اور خوش فہمی یا غلط فہمی پیدا نہ ھو ۔ اسلئے اکثر الفاظ کی ادائیگی کرتے وقت ضبط اور احتیاط کا دامن تھامنا رکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی تعلقات میں افراد کے نہیں بلکہ ریاستوں کے درمیان تعلقات داؤ پر ھوتے ھیں ۔ پاکستان میں بے احتیاطی اور سفارتی اصولوں اور آداب سے روگردانی کی وجہ سے کبھی کبھار سفارتی سطح پر بدمزگی اور شرمندگی اٹھانی پڑتی ھے ۔ جس کی حالیہ مثال روس کے حوالے سے یہ خبر تھی کہ روس نے چین-پاکستان اقتصادی راھداری کے منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔

    روس کے بارے میں سرکاری سطح پر ایسی باتیں کئ گئ کہ آخر کار روسی حکومت نے مجبور ھو کر وضاحت کردی ۔ گزشتہ دنوں پاکستانی میڈیا نے اعلی حکام کے حوالے سے روس کی جانب سے گوادر کی بندرگاہ کے استعمال اور سیپیک منصوبے میں شمولیت کی باقاعدہ درخواست کا ذکر کیا تھا اور گزشتہ ماہ روس کی انٹلی جنس ایف سی بی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنی کوف کی خفیہ دورہ پاکستان کا ذکر بھی کیا تھا ۔ اس طرح روسی حکام کی دورہ گوادر کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔ اس بیان کے تین کے اندر اندر روسی وزارت خارجہ کا تردیدی بیان آیا اور سی پیک کے حوالے سے خفیہ مذاکرات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ھوئے کہا کہ روس نے سی پیک منصوبے میں شرکت کے حوالے سے پاکستان کے کیساتھ مذاکرات نہیں کئے ۔

    سفارتی تعلقات میں تردیدی بیانات کو ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے ۔ اور اس سے تعلقات میں بدمزگی پیدا ھوتی ہے ۔ اس وجہ سے دو ممالک کے تعلقات اور متعلقہ ممالک کے ذمہ داران کے درمیان بات چیت کو بے حد احتیاط سے لکھا اور بیان کیا جاتا ہے۔ روس کے معاملے میں اس سے پہلے بھی کئ بار ھمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ مثلا چند سال پہلے تواتر سے روسی صدر کی دورہ پاکستان اور اس کی منسوخی کی خبریں چھپتی رہی ہے ۔ جس پر روسی وزارت خارجہ کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ روسی صدر ولاڈی میر پوٹین کا نہ تو کوئی دورہ پلان تھا اور نہ اس کی منسوخی کا سوال پیدا ھوتا ہے ۔

    عموما یہ صورتحال اس وقت پیدا ھو جاتی ہے جب یا تو دیگر ممالک کی اعلی شخصیات کے ساتھ بات چیت کو غلط معنی پہنائی جاتی ہے یا ان کے موقف کو صیع پیش نہیں کیا جاتا اور یا اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات بہت سی مصلحتوں کی بناء پر ممالک اپنے تعلقات کو یا جاری بات چیت کو منطقی انجام تک پہنچنے سے قبل افشا نہیں کرنا چاہتے۔ اس طرح غیر سفارت کار افسران کی جانب سے اھم سفارتی تعلقات پر اظہار خیال بھی غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ صورتحال میں حکومت پر آزاد اور غیر جانبدار مبصرین کی جانب سے سفارتی تنہائی کے الزامات کے بعد حکومت اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے غیر ضروری پھرتی کا مظاھرہ کرنے لگی ہے ۔ اور بہت سی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگی ہے۔

    مذکورہ اخباری بیان کی ملک کے تمام چھوٹ بڑے اخبارات میں بھرپور اور نمایاں کوریج اس بات کی غماز ہے کہ یہ خبر کسی رپورٹر کی ذھنی اختراع نہیں بلکہ سفارتی اسرار و رموز سے نا آشنا کسی سرکار بابو کی لکھی گی تحریر تھی۔ جس کا مقصد سفارتی تنہائی کے تصور اور الزام کو زائل کرنا اور داخلی رائے عامہ کیلئے سفارتی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا تھا ۔ پاکستان میں سفارتی ناکامیوں کی ایک بنیادی وجہ دو عملی ہے ۔ یہاں پالیسی بناتا کوئی اور ہے اور چلاتا کوئی اور ہے۔

    تحریر: ایمل خٹک

    دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*