ٹرمپ کا بطور صدر چناؤ اور مشرق پر اس کے ممکنہ اثرات

inzemam

ڈونلڈ جے ٹرمپ امریکی صدر منتحب ہوگئے ہیں اور 20 جنوری کو وہ صدر کے کرسی پر براجمان ہوجائیں گے۔ وہ ایک متصب بندہ تصور کئے جاتے ہیں اور ان کا آنا امریکیوں کیلئے نیک شگون شمار نہیں کیا جاتا، کیونکہ ایک سیاہ فام صدر (اوباما) کے ہوتے ہوئے وہاں کے سیاہ فام زیر عتاب تھے، پر اب تو حالات اور بھی خراب ہیں۔ لیکن آؤ کہ ہم ان الیکشن کو مشرقی نظر سے دیکھیں۔

عائشہ جلال اور حسین حقانی وغیرہ متعدد بار اپنے کتب میں اس باتوں کی وضاخت کرچکے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ایک ایسے لیول پہ رکھتا ہے کہ وہ امریکہ کو باور زیادہ سے زیادہ کرانا چاہتا اور طالبان کے خلاف کاروائی کم سے کم کرنا چاہے، تاکہ زمریکی فنڈز کے بہاؤ میں بھی روک نہ آئے اور خطے میں انڈیا و افغانستان میں بھی بوقت ضرورت اپنے “اثاثوں” کے ذرئعے بوقت ضرورت کاروائیاں کرسکے۔ گو پاکستان ایک نہایت ہی پتلی دیوار پہ اپنے کرتب دکھانے کی کوشش کررہا ہے اور کسی بھی فریق کی طرف سے ایک چھوٹا جھٹکا بھی ان کے توازن کو بگھاڑنے کیلئے کافی ہے۔ اب چونکہ ٹرمپ کئی بار اس امر کی وضاخت کرچکے ہیں کہ ہم اب بیوقوف نہیں بنیں گے۔ یعنی پشتو ٹپہ”نه دي يرې کړم نه دي کډے باراومه” کی طرح وہ بھی پاکستان کو کہیں گے کہ تم جانو تمہارے دہشتگرد جانے انہیں چھوڑنا ہے یا مارنا ہے سب کچھ آپ نے کرنا ہے ہمارا کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں پاکستان امریکی فنڈز سے بھی ہاتھ دھو سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے پہلے ہی پاکستان چائینہ کو اپنا دوست بنا چکا ہے لیکن یہاں پر وضاخت ہوجائے کہ چائنہ ہمارے ساتھ کاروبار کررہا ہے جس میں ان کے اپنے فوائد ہیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان سے فنڈز کی توقع نہ رکھی جائے۔ اور اگر فنڈز کی بہاؤ روک جائے تو ان لوگوں، جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان خود ہی دہشتگردوں کی سرپرستی کررہا ہے، کے مطابق پاکستان خود ہی دہشتگردوں کو ختم کرنا شروع کرے گا۔

دوسری جانب ٹرمپ نے تارکین وطن کے متعلق بھی کہا ہے کہ وہ ان کو واپس اپنے ممالک میں بھیجےگا۔ اگر وہ یہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس سے زیادہ مشرق کیلئے اور کوئی اچھی بات ہوہی نہیں سکتی۔ یہاں سے قیمتی دماغ مغربی ممالک جاتے ہیں اور وہاں گوروں کو “سرو” کرتے ہیں۔ اب اگر وہ یہاں رہنے پر مجبور ہوجائیں تو مشرق کو خوشحال بنانا ان کی مجبوری بن جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف تعلیمی میدانوں میں بھی اپنے اپنے ممالک کے ترقی میں خاص کردار ادا کریں گے۔ ان پراگریسیو لوگوں کی مجبوری بن جائے گی کہ وہ اس نہ ختم ہونے والے دہشتگردی کو روک دیں جو کہ ہمارے لئے باعث مسرت ہے۔

افغانیوں کیلئے یہ بہت نازک مقام ہے، اب انہیں سوچنا چاہئیے کہ یہ ملک ان کا ہے اور انہوں نے ہی اس کو بنانا ہے۔ یہ کوئی اٹھارویں صدی نہیں کہ یہان تاج کیلئے خون ریز لڑائیاں لڑی جائے بلکہ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیے۔ کیونکہ ٹرمپ کی پالیسی پھر صرف پاکستان کیلئے نہیں بلکہ افغانستان کیلئے بھی ہوگی۔ اگر انہوں نے افغانستان کے فنڈز میں سے بھی کٹوتی کی یا اپنے افواج کو وہاں سے نکال دیا تو افغان طالبان کیلئے یہ اچھا موقع ہوگا نتیجتاً ملک میں احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یار والے جیسے حالات ہوجائیں گے اور افغانستان میں ایک بار پھر خون کی ندیاں بہنا شروع ہوجائیں گی۔ اور اگر افغانی حالات کو کنٹرول کرگئے تو یہ ان کیلئے “فتحٌ مبین” سے بھی کچھ آگے کا مقام ہے۔

ٹرمپ کے سامنے سے وار والے پالیسی نے حالات کو مجبور کیا ہوا ہے کہ وہ دو انتہاؤں میں سے ایک انتہا پر چلے جائیں۔ انہوں نے انتحابات اس نعرے پر جیتے کہ Let’s make America great again لیکن سیاہ فام کو قومی دھارے سے نکال کر امریکہ کو گریٹ نہیں بنایا جسکتا۔ تاہم اگر وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہوگئے تو سیاہ فام کا خدا ہی حامی و ناصر ہو کیونکہ پہلے ہی امریکہ میں ان کیلئے حالات کافی خراب رہے ہیں اور پچھلے عرصے میں کئی ایکسیڈنٹس میں سیاہ فام قتل ہوئے۔

خرف آخر: اہل مشرق کو اب یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئیے کہ اگر انہوں نے محنت کرنا ہے اور انہوں نے علم کو ترقی دینی ہے تو مشرق بھی مغرب سے کم نہیں۔ یہ ان کا گھر ہے اور انہوں نے ہی اس کو سنوارنا ہے۔ مشرق کے اپنے طریقے ہیں اور اپنی ہی ایک معاشرتی و قومی رویہ ہے اور اسی ہی کو مدنظر رکھ کر مشرق کو عظیم تر بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ٹرمپ امریکہ کو گریٹ بنانے کے نعرے لگا سکتا ہے تو ہم بھی مشرق کو عظیم بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ گو ٹرمپ کا چناؤ ہمارے لئے آر یا پار والا معاملہ ہے۔

تحریر: انضمام الحق داوڑ

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*