نیلی آنکھوں والا ارشد خان، سبز آنکھوں والی شربت گلہ

Sami Khan

Sami Khan

میرے دیس میں کسی کو راتوں رات ہیرو یا زیرو بنانے کی روایات روز اول سے رائج ہے۔ چاہے اسے کسی کی ذاتی افتاد طبع کی تسکین ہو یا ایسا قومی مفاد کی کسی مزعومہ تعریف کو ترجیح دیتے ہوئے کیا جائے۔ جیسے اس وقت میڈیا پر اپنی خوبصورت آنکھوں کی وجہ سےخود کی طرف توجہ مبذول کرانے والے اور شہرت پانے والے دو افراد کا چرچا ہے۔ ایک نیلی آنکھوں والا ارشد خان ہے، جسے انسٹا گرام پر ایک تصویر کے بعد سے شہرت ملی ہے، اور ایک سبز آنکھوں والی شربت گُلہ ہے۔ جب افغان جنگ پر مغربی میڈیا کا فوکس تھا اور مہاجر افغان لڑکی کی سبز آنکھوں نے اسے افغان مونا لیزا کا خطاب اور ٹائم میگزین کا کور بنوا دیا تھا۔ اب اتفاق کہیں یا ستم ظریفی لیکن نیلی آنکھوں والا لڑکا اور سبز آنکھوں والی شربت گُلہ دونوں اس سر زمین سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اچھے اور بُرے طالبان کے نام سے عفریتوں کے سائے ہیں۔

ایک ہفتہ پہلی کی بات ہے جب اسلام آباد کے اتوار بازار سے ایک نیلی آنکھوں والا ارشد خان المعروف “چائے والا” ابھرا۔ میڈیا نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور ایسا لگا جیسے کہ وطن عزیز میں کوئی اور موضوع گفتگو یا کوئی اور مسئلہ نہیں رہا۔ ایسا لگ رہا تھا، کہ پاک بھارت کشیدگی تو کوئی سپنا تھا، کوئٹہ میں وکلا پہ خودکش حملہ تو ایک ڈراؤنی مووی تھی، اصل میں مسئلہ تو “چائے والا” ہے۔ ارشد خان کا سفر چائے کی پتیلی، چمچ اور چائے کی پتی سے شروع ہو کر فیشن کے سٹوڈیو پہ جس عظمت کے ساتھ ختم ہوا اس نادان کو خود بھی پتہ نہیں ہوگا۔ اس نیلی آنکھوں والے معصوم پشتون ارشد خان کو شاید یہ نہیں معلوم کہ کہیں آگے جا کر اس کا بھی قصّہ اس شربت گلہ کی طرح ہونے والا ہے جسے ایک عام افغان مہاجر کیمپ سے لے کر کیسے ایک بین الاقوامی جریدے نے اپنے مخصوص نقطہ نظر کے لئے استعمال کیا۔ پھر وہ گمنام ہوئی، تین دہائیاں اس زمین پر گزار دیں اور اب کہیں جا کر اسے پتا لگا کہ وہ تو اب بھی اس سرزمین پر مہاجر ہے، پناہ گزیں ہے اور یہ اس کا وطن نہیں بنا۔ اس نے اسے گود تو لیا لیکن اسے اپنایا نہیں ہے۔ نتیجتاً آج وہ پاکستانی شناختی کارڈ بنانے کی پاداش میں ایف آئی اے کے ہاتھوں سلاخوں کے پیچھے ہے۔

sharbat-gullمیرے ماموں مجھے ایک کہانی سناتے تھے کہ کیسے وہ ایک “شربت گلہ ” کو دیکھنے پشاور ایک افغان مہاجر کیمپ گئے تھے۔ وہ کہہ رہے تھےکہ 1984 میں جب ضیا الحق کے دور حکومت میں افغان مہاجرین کو پشاور میں ایک کیمپ بنا کر دیا گیا تھا۔ روس کے مقابل امریکہ، یورپ، چین اور ایران، اور سب سے بڑھ کر پاکستان میدان میں تھے، سرد جنگ زوروں پر تھی، ایک انجان سبز آنکھوں والی لڑکی جو نہ بولتے ہوئے بھی بہت کچھ بول رہی تھی، اس نے نیشنل جیو گرافک کی توجہ حاصل کر لی اور اپنی تصویر کے باعث وہ افغان مونالیزا کا نام پا گئی تھی۔ کیمرہ مین جب تصویر لے رہا تھا تب اس کو شربت گلہ کا نام بھی نہیں معلوم تھا۔ ظاہر ہے اس کے لئے تو وہ ایک سبجیکٹ تھا، اک امیج، اسے اُس کی ذات سے کیا دلچسپی، اس کے حالات کی کیا پرواہ۔ انہوں نے تو اپنی اس فنی شاہکار تصویر کو “دی افغان گرل” کا ٹائٹل دیا تھا، اور پھر اس کا تذکرہ غائب، وہ فراموش کر دی گئی۔

arshad-khan نائن الیون کے بعد افغانستان کا موضوع پھر مغربی پریس کے حواس پر چھا گیا۔ افغانستان پھر صحافتی پراجیکٹس پر اُبھر آیا تو اُس فوٹو گرافر کو بھی اپنے تصویری شاہکار میں موجود اس افغان لڑکی کا خیال آیا۔ وہ اُس لڑکی کی کھوج میں پشاور کے مہاجر کیمپ پہنچ گیا تاکہ شربت گلہ کو ڈھونڈ سکے۔ تین ہفتوں کی مسلسل تلاش کے بعد اُسے معلوم ہوا کہ شربت گلہ اُس کی تصویر والی بچّی نہیں رہی بلکہ وہ بڑی ہوگئی ہے اور اب عورت بن گئی ہے۔ سو اس کی شادی کرا دی گئی اور وہ اب تورا بورا، یعنی افغانستان میں اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتی ہے۔ اب جتن کر کے کسی بھی طریقے سے شربت گلہ بی بی کو بلا لیا گیا اور عکس بندی کی گئی۔ فوٹوگرافر یہ کہتے ہیں کہ سب بدلا لیکن وہ آنکھیں اب بھی وہی پیغام دے رہی ہیں یعنی بے بسی اور لاچاری کا۔ یہ تھی داستان اس عظیم شاہکار آنکھوں کی جو پوری دنیا میں اپنے “افسانوی آنکھوں” کے حوالے سے جانی جاتی رہی۔

آج سوشل میڈیا پر ایف آئی اے کے ہاتھوں اس کی گرفتاری کی خبر پڑھی تو لگا کہ وہ تصویر جو ٹائم میگزین کے کور پر سجی، جس نے اس فوٹو گرافر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، جس نے اس کے کیریئر میں چار چاند لگا دیئے تھے، کہ وہ بیس سال بعد بھی اسے فراموش نہیں کر سکا اور آکر پھر سے اسے کھوجتا رہا۔ لیکن وہ تصویر شربت گلہ کے لئے نہ اس وقت اس کے کسی کام کی تھی نہ ہی اس کی صعوبتوں میں کمی لاسکی، نہ بیس سال بعد، بلکہ آج وہی تصویر، وہی حوالہ، افغان مہاجر کے لفظ سے جُڑی لاتعلقی، جس میں اب نفرت شامل ہوگئی ہے، آج وہ اس کے لئے نئی صعوبت بن گئی ہے۔

اب ارشد خان کو بھی اپنی آنکھوں کے باعث شہرت تو مل گئی ہے، کچھ قسمت بھی شاید بدلے، خدا نہ کرے کہ اسے شربت گُلہ کی قسمت ملے۔۔۔

بشکریہ: سمیع خان

ایڈیٹر دی پشتون ٹایمز

دی پشتون ٹایمز 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*