مہمان نواز پشتون

inzemam

ہم پشتونوں کے متعلق یہ مشهور تھا کہ ہم مہمان نواز قوم ہیں۔ اسامہ افغانستان آئے تو اس وقت کے امریکہ جس کو بعض لوگ “وقت کا خدا” بھی کہتے تھے نے افغانستان سے اسامہ کو نکالنے کا مطالبہ کیا، جس پر ملا عمر نے کہا کہ ہم مہمان نواز قوم ہیں اور جب تک اسامہ خود نہیں جاتے میں اس کو آپ کے حوالے نہیں کروں گا، جس کو تمام پاکستانی دانشوروں بالخصوص “اوریا مقبول اینڈ کو” نے سراہا اور ایسے استعارے استعمال کئے جس کے بیان کیلئے بھی استعارے لینے پڑیں۔
ایک لڑکی تھی شربت گلہ۔ افغان جہاد کے وقت پاکستان آئی۔ نیلگوں آنکھوں کی وجہ سے وہ پوری دنیا کے توجہ کی مرکز بن گئی۔ وہ چاہتی تو پیرس کے رنگینوں میں کھو جاتی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پشاور میں کئی سال گزارے آج حکومت پاکستان نے ان کو قیدی بنایا ہوا ہے۔ مہمان نوازی کیلئے مشہور قوم آج اپنے مہمانوں کو نکال رہی ہے اور “کلہ بہ زے، کلہ بہ زے” کے فقرے کس رہی ہے۔ ملا عمر نے امریکہ کو للکا تو سب نے سراہا لیکن آج کا پشتون للکھڑاتے ہوئے حکومت سے بھی بغاوت نہیں کرسکتا، کہ نہیں یہ ہمارے مہمان ہیں، اس پشتونخواہ کو خوبصورت بنانے میں ان کی مثالی محنت شامل ہے ہم اس کو اسی طرح نکالنے نہ دیں گے۔
آج ہم بےغیرتی کے جس انتہا پہ کھڑے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے، کہ نوازشریف نے “مبینہ طور پر” پاکستانیوں کا پیسہ کھایا جس پر ہمارے پی-ٹی-آئی والے دوست حکومتی اداروں اور مسلم لیگ-ن کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ شیلنگ ہے، مار دھاڑ ہے، آگ ہے، لاٹی چارج ہے اور آنسو گیس ہے۔ وہ یہ سب برداشت کررہے ہیں اور بقول ان کے وہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ لے کے ہی دم لیں گے۔ وہ پیسوں کیلئے سر بھی قربان کریں گے لیکن اپنی عزت و ناموس، اپنی بہن اور مہمان شربت گلہ کیلئے آواز تک بھی نہیں اٹھائیں گے۔ وہ احتساب کیلئے تو اسلام آباد پہنچ جائیں گے لیکن اپنے ہی محلے میں ہونے والے ان کے مہمان کے ساتھ ظلم کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولیں گے۔ سپر پاور کو للکارنے والے ملا عمر کو تو وہ داد دیں گے لیکن “ایگزسٹینس” کے مسائل سے دوچار گورنمنٹ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولیں گے۔ شربت گلہ کو جیل میں بند کرنا مخض ایک شخصیت کا قیدی ہونا نہیں بلکہ پورے پشتون قوم کے غیرت کو قیدی کرنے کے مترادف ہیں۔ غیرت جس کا زیور تھا آج وہ تعلیم اور غیرت دونوں سے خالی دوسروں کے جلسوں میں بھنگرا ڈال کے کہے گا کہ نہیں میں نے نواز شریف کا احتساب کرنا ہے۔ یا خدا کس زمانے میں مجھے پیدا کیا؟ عقل ہم میں نہیں آنی بے حس مجھ سے نہیں بنا جاتا!
نو تاسو کے پښتو چرتا ايمان چرتا دي

تحریر : انضمام الحق داوڑ

دی پشتون ٹایمز 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*