فاٹا کو شدت پسندوں سے نہیں قبائلیوں سے کلیئر کر دیا گیا ہے: ملک ریاض بنگش

 آپریشن ضرب عضب میں بڑی تعداد میں شدت پسندوں کو ہلاک تو کیا گیا مگر اُن کی لاشیں کہاں گئیں اُنہیں کہاں پر دفنایا گیا اُنہیں میڈیا کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا

Riaz Bangash01

عوامی نیشنل پارٹی ولی کے مرکزی ترجمان ملک ریاض بنگش کی دی پشتون ٹائمز کیساتھ خصوصی انٹرویو

ملک ریاض بنگش ضلع ہنگو میں پیدا ہُوئے خاندان قوم پرست اور سیاسی ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے بھی اپنی سیاست کا آغا ز طالب علمی کے دور 1988سے عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی شاخ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔ سال1992میں عوامی نیشنل پارٹی کوہاٹ ڈویژن کے ڈپٹی سالار منتخب ہُوئے، سال2001میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لیکر حلقہ پی کے (پی ایف)43 کے یونین کونسل نریاب پر الیکشن لڑکر ناظم منتخب ہو ئے اور تقریباً35کروڑ روپے سے زائد نریاب ڈیم کا منصوبہ منظور کر پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ بعد میں 2008میں ضلع ہنگو کیلئے جنرل سیکرٹری منتخب کئے گئے اور پارٹی سرگرمیوں میں تیزی لا کر اے این پی کو قومی نشت حیدر علی شاہ جوکہ ضلعی صدر بھی تھے کی صورت میں دیا۔ آج ملک ریاض بنگش عوامی نیشنل پارٹی ولی کے مرکزی ترجمان کی حیثیت سے سرگرمیاں جاری رکھے ہُوئے ہیں۔

ملک ریاض بنگش نے دی پشتون ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ ایم ایم اے کے دور حکومت میں ایک منصوبے کے تحت سوات میں کالعدم تنظیموں کو منظم کیا گیا اسے باقاعدہ اسلحہ پہنچایا گیا ان کو تربیت دی گئی ملاکنڈ ڈویژن میں مختلف مقامات پر مراکزقایم کئے گئے 2008میں عوامی نیشنل پارٹی بر سر اقتدار آئی اور طالبان کے مطالبے کے عین مطابق سوات میں شرعی نظام کے نفاذ کا فیصلہ کیا اسی اثناء میں طالبان نے ہتھیار رکھنے کی بجائے بونیر میں نمودار ہونا شروع کیا اور وہ کسی قسم معاہدے کو خاطر میں نہیں لاتے اور طاقت کے بل بوتے پر امتیازی حکومت کے قیام میں مصروف رہے ۔ کالعدم تنظیموں نے اے این پی کو صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کو تین دن کا وقت دیا گیا جسے صوبائی حکومت نے مسترد کیا توکالعدم تنظیموں نے اے این پی کے کارکنوں کو اپنا ہدف بنا یا اور جنوبی اضلاع میں سب سے پہلے دہشت گردی کا شکار میں بذات خود رہا مجھے اُس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب میں سرکاری اجلاس سے واپس آرہا تھا میرے ساتھ دو محافظ بھی زخمی ہوئے مجھے زخمی حالت میں طالبان نے تقریباً ایک ماہ اپنی قید میں رکھا بعد ازاں مجھے پچاس لاکھ روپے تاوان کے بدلے رہا کیا گیا اور یہ کوئی ایک واقعہ نہیں مجھے بار بار نشانہ بنا کر مجھے اُڑانے کیلئے دھماکے کئے گئے میرے دوستوں اور رشتہ داروں کو شہید کیا اس طرح علاقے میں دہشت گردی کی ایک لہر طاری ہو گئی میرے برادر ان لاء ڈسٹرکٹ کونسلر ممتاز بنگش کو شہید کیا گیا جس کی برسی پانچ ستمبر کو منانے کیلئے تیاریاں کر رہے ہیں ۔دہشت گردوں کی جانب سے بار بار مجھے نشانہ بننے پر میں پنجاب منتقل ہُوا یہاں پر سیاسی سفر شروع کیا اور عوامی نیشنل پارٹی اسلام آباد کی صدارت کرتے ہُوئے پارٹی گراف بلند کرنے کیساتھ ساتھ یہاں پر مقیم پختون بھائیوں کی خدمت کا موقع ملا ۔

Peshawar attack

دی پشتون ٹائمز: ملک میں مخدوش صورتحال کی وجوہات کیا ہیں اور ان میں کون ملوث رہا ہے ؟

ملک ریاض بنگش: ان سارے مخدوش صورتحال کی وجہ ہماری پالیسیاں ہیں اور ہم بد قسمت ہیں کہ ہماری پالیسیاں اسٹبلیشمنٹ کےہاتھوں میں ہیں ۔

wb01

جنرل ضیاء کے دور سے اب تک پختونوں پر آگ برسائی جا رہی ہے اُن کے دور میں افغانستان میں جاری روس اور امریکہ کی اپنے مفادات کے حصول کیلئے جنگ کو ہمارے برائے نام مذہبی جماعتو ں نے کفر و اسلام کا نام دے کر جہاد کا اعلان کیا حالانکہ جہاد نہیں بلکہ وہ ریاست میں مداخلت تھی کیونکہ جہاد اُس وقت فرض بنتا ہے جب ریاست کے اندر غیر اسلامی قوتیں داخل ہو کر جنگ لڑیں۔ ہماری اداروں نے بھی کوئی دیر نہیں کی اور مداخلت کرتے ہُوئے جہادی گروہ تیار کرکے وہاں بھیجی اور روس کو شکست دی ،روس کی اقتصادی حالت کمزور ہونے اور امریکہ کو اپنے مقاصد حاصل ہونے کے بعد اُنہوں نے افغانستان کو اسی طرح تباہ چھوڑ دیا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تین مرتبہ جنگ ہوئی افغانستان کی بھارت کیساتھ دیرینہ تعلقات ہونے کے باوجود ان کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔ ہم نے دوسری بار بھی غلطی دوہرا کر افغانستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کروائی اور افغانستان کو تباہ کر ڈالا لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہ ہوں پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں ہو گا اسجنگ میں نقصان پختونوں نے کر ڈالا مگر فائدہ کسی اور نے حاصل کیا ۔

انڈیا سے دیرینہ تعلقات کے باوجود پاک انڈیا کے درمیان ہونے والے کسی بھی لڑائی میں افغانستان نے انڈیا کی حمایت نہیں کی

آج ملک اور پورے خطے میں جو حالات خراب ہیں اُسی مداخلت کا نتیجہ ہیں ۔اُس دور سے پختونوں پر مختلف ناموں اور نظر یات کے ذریعے آگ برسائی جا رہی ہے مذہب کے نام پر ہماری غیور نوجوان نسل کو طالب علمی کے راستے سے ہٹا کر دہشت گرد بنانے کی پر زور کوششیں کی جا رہی ہیں جو ہماری آئندہ نسلوں کی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں ایسے میں خالیہ اندوہناک واقعات اور قتل و غارت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں کہ جب خان عبدالولی خان اور فخر افغان باچا خان ہمارے قومی مشران نے جب اس جہاد کی مخالفت کرتے ہُوئے اسے روس اور امریکہ کا جنگ قرار دیا اور پیشنگوئیاں کیں کہ اس آگ کی چنگاریاں یہاں آئیں گی کیونکہ جب تم کسی کے گھر پتھر پھینکو گے تو وہاں سے اچھے توقعات نہیں رکھنے چاہیئے اُس وقت تو برائے نام مذہبی عناصر نے ہمارے مشران کے خلاف فتوے جاری کئے تو آج معصوم اور بے گناہ جانوں کے ضیاع پر ہونے والی پر اسرار خاموشیکیا معنی رکھتی ہے ہمیں ان عناصر کی فتوے لگانے کی فیکٹریاں کھولنے ہوں گے۔

دی پشتون ٹائمز: ان حالات میں کس امر کی ضرورت ہے؟

ملک ریاض بنگش: آج ضرورت اس امر کی بنی ہے کہ ہم مساجد میں موجود چند کسبی امام صاحبان اور اُن کے زیر استعمال لاؤڈ اسپیکرز کو دہشت گردوں کے خلاف حق آواز بلند کرنے پر مجبور کریں ۔

 

wb003

دہشت گردی کی جنگ میں نقصان پختونوں نے کر ڈالا مگر فائدہ کسی اور نے حاصل کیا

دی پشتون ٹائمز:  حالیہ جنگ کا ہمارے بچوں پر کیا اثر ہُوا اور مذہبی عناصر کن صورت میں اس جنگ میں دہشت گردوں کی حمایت میں کمر بستہ ہیں؟ 

ملک ریاض بنگش: گزشتہ چالیس سالوں سے پختون قوم پر آگ برسائی گئی اور ان چالیس سالوں میں تقریباً پچیس لاکھ سے زائد لر و بر کے پختونوں کا قتل عام کیا گیا مذہب کے نام پر ہمارے بچوں سے قلم چھین کر اُن کے ہاتھوں میں بندوق تھما دیئے گئے ،مذہب کے نام پر ہمارے بچوں کو اسکول بستہ کی بجائے خود کش جیکٹ پہنائے گئے آج تک جتنے بھی خود کش یا دھماکے کئے گئے ہیں زیادہ تر نو عمر اور نا بالغ بچوں کے ذریعے کروائے گئے ہیں۔ یہ عناصر آج بھی اپنی کرتوت چھاپنے کیلئے امریکہ بھارت یا پھر اپنی حکومت کی مذمت میں تو ہر حد پھلانگ جاتے ہیں مگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کیلئے چندہ اکھٹا کرنے اور ان کی کارروائیوں کو اخلاقی جواز مہیا کرنے پر پر اسرار خاموشی کے ذریعے ان کی حمایت میں کمر بستہ نظر آ رہے ہیں۔

دی پشتون ٹائمز: کیا یہ ہماری پالیسیاں ناکام ہیں ؟

ملک ریاض بنگش: جی بالکل ہم نے دعوے تو بڑے بڑے کئے مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے ان پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے ملک میں ایسے لوگ آئے جس کی وجہ سے خصوصاً پورے فاٹا کے قبائل خانہ بدوش ہوئے یہ ساری طاقتیں پختونوں کیلئے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہیں ۔دوسری جانب جب تک ہماری پالیسیاں ایسی رہی توہم اچھے شہری ہونے کی تمام تر ضروریات سے محروم ہوں گے۔

دی پشتون ٹائمز: فاٹا میں جاری فوجی آپریشن سے قبائل کس حد تک متاثر ہُوئے ؟

wb04

ملک ریاض بنگش: فاٹا کے قبائل کیساتھ خوف ضرور تھا مگر اپنی گھروں میں محفوظ اور اور ان کا حجرہ اور مسجد آباد تھا فاٹا میں فوجی آپریشن کی وجہ سے پورے فاٹا کے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے اور وہ قبائل جو کبھی ایک وقت پر سینکڑوں افراد کی مہمان نوازی کرتے آج حکومتی راشن کیلئے قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں اور اس طرح کے ہزاروں قبائلی مشران اس صورتحال سے دو چار ہیں۔ آپریشن ضرب عضب واحد آرمی آپریشن ہے جو شروع کئے جانے کے دو ہفتے پہلے سر عام اعلان کیا گیا اعلان کیساتھ وہ عناصر جن کے خلاف آپریشن ہو نا تھا محفوظ مقامات پر منتقل ہُوئے آپریشن کی وجہ سے ہماری پردہ دار خواتین بے پردہ ہو گئیں اس آپریشن میں بڑی تعداد میں شدت پسندوں کو ہلاک تو کیا گیا مگر اُن کی لاشیں کہاں گئیں اُنہیں کہاں پر دفنایا گیا اُنہیں میڈیا کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا فاٹا کو شدت پسندوں سے نہیں بلکہ قبائلیوں سے کلیئر کر دیا گیا ہے ۔

wb03

دی پشتون ٹائمز: فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنا چاہیئے یا نہیں ؟

ملک ریاض بنگش: خیبر پختون خوا کو فاٹا میں ضم کرنا چاہیئے کیونکہ یہ طاقتیں جن کی وجہ سے آپریشن شروع کیا گیا نہیں چاہتے کہ ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ملائیں ہم نہیں جانتے کہ ڈیورنڈ لائن کے اس پار قبائلی پارلیمنٹیرین پارلیمنٹ میں ایک بل جمع کی کہ فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا جائے اس اقدام کو نہایت حقارت سے دیکھا گیا اور اس کیلئے فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے نام پر ایک کمیٹی بنائی گئی جن میں ایک بھی ممبر کا تعلق فاٹا سے نہیں اور فاٹا کے روایات سے نا آشنا ہیں ہم میں ایسے نمائندے پیدا کئے گئے جو فاٹا کو الگ صوبہ بنانا چاہتے ہیں مگر جغرافیائی لحاظ سے فاٹا الگ صوبے کیلئے مناسب نہیں اور نہ ہی یہاں پر کوئی ایسا علاقہ ہے جسے فاٹا کی انتظامی امور چلانے کیلئے داراخلافہ بنایا جائے اس لئے فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنا چاہیئے ۔

دی پشتون ٹائمز: خطہ میں مخدوش صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہماری کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں ؟

ملک ریاض بنگش: یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری بنتی کہ  ہم ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو پختونوں کے قتل عام میں ملوث عناصر کی حمایت میں ہیں ہمیں اپنی مذہبی جماعتوں کو خاموشی کا روزہ توڑنے پر مجبور کرنا ہو گا جس کا کفارہ پختون قوم مزید دینے کے متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہمیں یہ محسوس کرنا ہو گا کہ ظاہری لباس چرب زبانی اخلاقی اقدار کا میزانیہ نہیں ہو سکتے بلکہ ہماری اخلاقی قدروں کا تقاضہ ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کریں ہم پر آگ برسانے والے ، ہمیں لاشوں کے تحفے دینے والے اور ہمارے بچوں کو ہمیشہ کیلئے آگ میں جھونکے والے چاہے ایجنسیاں ہوں ،اندرونی یا بیرونی چاہے صہیونی طاقتیں ہوں یا طالبان انسان کہلانے کے لائق نہیں۔

دی پشتون ٹائمز: اس صورتحال سے نمٹنے کیا ضروری ہے؟

ملک ریاض بنگش: ان حالات سے نمٹنے کیلئے سب سے پہلے ملک میں مخلص لیڈر شپ اور بعد ازاں داخلی و خارجی پالیسیاں مضبوط کرنے کیساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں سے بچانا ہے۔

Interviewed by our correspondent Wasim Baghi

 ALL RIGHTS RESERVED WITH THE PASHTUN TIMES 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*