ضلع بنوں میں20گھنٹے کی ظالمانہ بجلی لوڈ شیڈنگ کے خلاف وکلاء برادری کا بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

bnu

ضلع بنوں میں20گھنٹے کی ظالمانہ بجلی لوڈ شیڈنگ کے خلاف وکلاء برادری نے بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وسیم خان ایڈووکیٹ، عرفان پیرزادہ ایڈووکیٹ، نعمت علی ایڈوکیٹ، مطیع اللہ جانایڈووکیٹ، نثار ایڈوکیٹ، شاہ قیاز باچا ایڈووکیٹ اور دیگر نے کہا کہ ضلع بنوں میں واپڈا پیسکو نے جنگل کا قانون بنایا ہے ایک طرف20گھنٹے کی غیر قانونی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے تو دوسری طرف بقایاجات کے بہانے بجلی ٹرانسفارمر اُتار کر پورے گاؤں کو تاریکی میں ڈبو دیتے ہیں اب انشاء اللہ واپڈا کے غیر آئینی اور غیر قانونی لوڈ شیڈنگ کے خلاف قانونی جنگ لڑتے ہُوئے واپڈا کیسز سے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں جو کہ لوڈ شیڈنگ شیڈول کے مطابق کئے جانے تک جاری واپڈا کیسز سے بائیکاٹ ہوگا ۔ اُنہوں نے بنوں کے منتخب نمائندوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ جن لوگوں کو بنوں کے عوام نے لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل کے حل کیلئے ووٹ دیئے ہیں وہ عوام کو قیامت خیز گرمی میں واپڈا کے رحم وکرم پر چھوڑ کر ٹھنڈے علاقوں میں ماہ صیام گزارنے کیلئے چلے گئے ہیں اور بنوں میں لوڈ شیڈنگ کا انہیں احساس تک نہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی بنی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جب بھی تاجر اور عوام لوڈ شیدنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو مذاکرات کے وقت ایس ای واپڈا مداری کی طرح پٹارے سے سانپ نکال کر انہیں ورغلاتے ہیں لیکن وکلاء ایس ای واپڈا وکلاء برادری کو دھوکہ نہیں دے سکتے آج کے بعد انشاء اللہ ایس ای واپڈا ہم سے مذاکرات کی بھیک مانگیں گے ۔اُنہوں نے رمضان پیکج میں بنوں کے عوام کو محروم کرنے پر وفاقی وزیر مملکت عابد علی شیر کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی اور لوڈ شیڈنگ کے سلسلے میں بنوں کیلئے بھی وزیر اعظم پاکستان کا اعلان کردہ رمضان پیکیج بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔اُنہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ بجلی ٹرانسفارمر اتارنے کیلئے آنے والے واپڈا اہلکاروں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالیں اور ٹرانسفارمر اُتارنے نہ دیں کیونکہ یہ غیر قانونی اقدام ہے اگر کسی ایک شخص کے پاس بقایاجات ہیں تو اپنے لیگل ایڈوائزراوں کے ذریعے ان پر عدالت میں کیس کریں بل ادا کرنے والوں کوبجلی سے کس قانون کے تحت محروم کیا جاتا ہے۔

By Wasim Baghi, Bannu

THE PASHTUN TIMES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*