“سعداللہ جان برقؔ کی نظرمیں‘‘پشتون اورپشتونستان

barq-sb

سعداللہ جان برقؔ صاحب فوٹو: شمشاد ٹی وی

 جناب سعداللہ جان برقؔ صاحب دُنیائے ادب میں شاعر،ایب،تاریخ دان،محقق،نقاد،کالم نگار،براڈکاسٹر، ڈراما نگار،مصنف،مفکرو دانشورغرض کئی بنیادی حوالوں سے معروف اوراپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑچکے ہیں،اُن کاکالم روزنامہ ’’ایکسپرس‘‘میں ’’زیرِلب‘‘کے عنوان سے مستقل چھپتارہاہے،جس کے پڑھنے والوں کاایک بڑاحلقہ موجود ہے،اُن کے قارئین شدّت سے اخبارکے منتظررہتے ہیں۔

جناب سعداللہ جان برقؔ سے ملنے کااشتیاق کافی عرصہ سے تھا،لیکن بلآخریہ اشتیاق:۲۸/اگست:۲۰۱۶ء بروز اتوارپوراہوا،اُن کے صاحب زادے آمین اللہ برق سے وقت کاتعین کرکے ہم تین افراد(ڈاکٹرنعمت اللہ خان،ڈاکٹر عبدالمتین مبتلاؔ اورڈاکٹرحنیف الرحمٰن )اُن سے ملنے نوشہرہ چلے گئے،وہاں پہنچنے پرمعلوم ہواکہ برقؔ صاحب کچھ عرصہ پہلے شہرکا آبائی گھرچھوڑکرنوشہرہ کے نواحی علاقے میں اپنے فارم ہاؤس(زرعی اراضی)میں منتقل ہوچکے ہیں،اُن کا ایک عزیزہمارے ساتھ روانہ ہواجس نے بلآخرہمیں مطلوبہ جگہ پہنچادیا،وہاں عصراورشام کے درمیانی وقفے میں پہنچے، وہاں پہنچ کراِدھراُدھر متجسس نظروں سے دیکھاتومعلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ نے برقؔ صاحب کودُنیاوی مال ودولت سے خوب نوازاہے، کارسے اُترتے ہی دوتربیت یافتہ شکاری اورپہرہ دارکتوں نے ستاناشروع کیا،لیکن برق صاحب کے ڈانٹنے پرفوراًہی کہیں اِدھراُدھرکھسک گئے،ایک بہت بڑاباڑہ جس میں دسیوں انتہائی اچھی نسل کی دودھیلی گائیں اوربھینسیں کھڑی چارہ کھا رہی تھیں، اُن سے گزرنے کے بعددوسرے بڑے باڑہ میں داخل ہوئے جس میں اچھی نسل کی دُنبے اوربھیڑوں کاریوڑتھا،آگے جاکر موسمی سبزیوں کی رنگ برنگ کیاریاں اورکناروں پرمختلف میوؤں کے کافی سارے درخت کھڑے تھے،دواطراف میں گنے کی سرسبزوشاداب فصل تھی جواپنی زرخیزی کی جوبن سے مسلسل ناچ رہی تھی،اوراِن ہی کے درمیان برقؔ صاحب کے بیٹھنے کا ’’چوپال‘‘واقع ہے جسے موسمی سبزیوں کی منڈیروں نے خوب ڈھانپ لیاہے۔

چوپال میں بیٹھنے کے بعدبرقؔ صاحب سے رسمی ساتعارف ہوا،اوراِسی سمے خالص دُودھ سے بنی چائے اورآلو کے پکوڑے پیش کیے گئے جواِس علاقے کی مشہورروایتی پکوان ہے جواپنی نرماہٹ اورلذّت میں لاجواب تھے،چائے پیتے ہوئے ہم باتوں باتوں میں اپنے اصل موضوع پرآگئے اوربرقؔ صاحب سے اُن کی پیشہ ورانہ زندگی کے نشیب وفرازپرروشنی ڈالنے کی فرمائش کی،جوں ہی برقؔ صاحب گویاہوئے ہم یہ سن کرحیران رہ گئے کہ وہ ہمارے آبائی شہر’’ضلع بنوں‘‘ کواپنادُوسرا گھرمان لیا،اُن کے مطابق سن:۶۰ء کی دہائی میں اُن کاخاندان کافی عرصہ کاروبارکے سلسلے میں بنوں میں مقیم ریا، اُن کے لکھنے کی شروعات ہی بنوں میں ہوئی تھی،اُس زمانے میں بنوں کے ادبی حلقے خوب جوبن پرتھے،شعروادب خوب تخلیق ہو رہا تھا،مشرق میں کالاباغ ،مغرب میں وزیرستان اورشمال میں کوہاٹ تک کے شعراء اور ادیبوں کامرکزتھا،خودبرقؔ صاحب بنوں کے جملہ ادبی حلقوں کے اجلاسوں میں شرکت کیا کرتے تھے،لیکن زیادہ تراُٹھنابیٹھنا ’’ترقی پسند‘‘لکھاریوں کے ساتھ تھا، طاہرکلاچوی سے اچھی دوستی تھی،بنوں کے مختلف ادبی حلقوں سے وابستہ شعراء اورادیبوں کی معاصرانہ ادبی چشمکوں کو مزے لے لے بیان کیا،اوراِس ضمن میں بہت سارے ایسے لکھاریوں کے نام بتادیے جن کوآج یاتوکوئی جانتے نہیںیااگرجانتے بھی ہیں تواُن کے وارثین کی غفلت سے اُن کی تخلیقات ضائع ہوگئیں ہیں۔

برقؔ صاحب سے بات چیت کے دوران ہم پریہ حقیقت کھل گئی کہ وہ کمپیوٹر،انٹرنیٹ اورفیس بُک وغیرہ دورِجدید کے برقی سہولیات کے استعمال سے بالکل نابلدہیں،ہم نے استفسارکیاتوفرمایاکہ اِن سہولیات سے فائدہ اُٹھانے سے پہلے سیکھنے کے عمل سے گزرناپڑے گا،اورعمرکے اِس حصے میں میرے پاس اِن چیزوں کے سیکھنے کاوقت نہیں رہا،میں نے بہت ساراکام کرناہے جس پراپنے آپ کومرکوزکیاہواہے۔

دورانِ گفتگوہم نے برقؔ صاحب سے پشتونوں کی موجودہ زبوں حالی،ناگفتہ بہ حالات اورغیریقینی صورتِ حال سے متعلق اُن کے نظریات جاننے چاہے تواِس ضمن میں اُس نے کائنات کے مشہورقاعدے کاحوالہ دیاکہ جس طرح ترقی کے لیے پہلے تنزل ناگزیرہے اورخوشی کے لیے پہلے غم کااحساس ضروری ہے،اِسی طرح پاکستان کی موجودہ غیریقینی صورتِ حال اورپشتونوں کی حالیہ زبوں حالی بھی اُنھیں ترقی،آگاہی اوراستحکام کے راستے پرگامزن کررہی ہیں،نیزایک سوال کے جواب میں برقؔ صاحب نے یہ نویدبھی سنائی کہ وہ نئی پشتون نسل کے حوالے سے کافی پُراُمیدہیں،اُنھیں زندگی کے ہرموڑپراورہر شعبے میں ایسے پشتون نوجوان نظرآتے ہیں جواپنے اپنے شعبوں میں آنے والی نسل کی رہنمائی بہ احسن کرسکیں گے۔

برقؔ صاحب کے مطابق عہدِحاضرمیں’’پشتونوں‘‘کو کافی فکری آزادی حاصل ہے،اُن کے بقول جنرل ضیاء کے دورِآمریت میں پشتونوں کی فکرپرسخت پہرے بیٹھائے گئے تھے،خوداُن پربیتے ہوئے ایک واقعے کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ اُس نے ’’ریڈیوپاکستان پشاور‘‘پراپناپشتوکلام سناناچاہاجس میں’’پشتونوں کی مہمان نوازی‘‘کاذکرصرف ایک شعرمیں ہواتھا،پروڈیوسرخلیل صاحب نے اِس شعرپراعتراض کرکے اُسے کلام سے یوں کہہ حذف کرنے کاحکم دیاکہ اِس سے ہم دونوں کوکسی ایسے مسئلے کوسامناکرناپڑسکتاہے جس کے نتائج سنگین ہوں گے،لہٰذابادلِ نخواستہ اُس شعرکوکلام سے حذف کرناپڑا۔

باتوں باتوں میں برقؔ صاحب سے’’پشتونستان‘‘کی حقیقت یامحض فسانے کی بابت دریافت کیاگیاتواُنھوں نے اِسے’’حقیقت‘‘قراردے کرکہاکہ جس دن ’’لر‘‘اور’’بر‘‘پشتون ایک ہوجائیں تویہ ایک بڑی قوت بن جائے گی،اوریہ بات حقیقت کارُوپ دھار سکتی ہے،ڈیورنڈلائن نہ صرف انگریزوں کی خواہش تھی بلکہ  اِس سازش کی جڑیں امیرعبدالرحمٰن کی سیاسی تدبرتک پھیلی ہوئی ہیں،ڈیورنڈلائن کوبخوشی قبول کرنے کی ایک کلیدی وجہ یہ بھی تھی کہ امیرعبدالرحمٰن خود’’پشتونوں‘‘کو دو حصوں’’لر‘‘اور’’بر‘‘میں تقسیم کرکے اُن کی طاقت کوکمزور کرناچاہتے تھے،تاکہ اُن کے لیے حکومت کرنے میں آسانی ہو۔

برقؔ صاحب کی صحبت میں وقت گزرنے کامطلق احساس تک نہیں ہوا،ہمارادھیان وقت کی طرف ہواتوپتہ چلاکہ شام کافی ڈھل چکی ہے،عشاء قریب ہے،توہم نے اُن سے جانے کی اجازت چاہی،پہلے تووہ عشائیہ کھلانے پہ مصررہے لیکن ہمارے بروقت یونیورسٹی پہنچنے کی ضدکے آگے اپنے میزبانی کاسرخم کردیا،اورپھریہاں تشریف لانے کاوعدہ لے کرہمیں رُخصت کیا۔ اُن سے رُخصت ہوکرراستے پرکافی دیرتک ہرکسی پریہ بات ثابت ہوچکی تھی کہ ہم ایک ایسی شخصیت سے مل کرلوٹ رہے ہیں جس کی فکری اورتہذیبی جڑیں اپنی سرزمین اوراپنی ہی دھرتی سے جڑے ہوئے ہیں،ذاتی زندگی میں خالص دیہاتی پشتون کی اپنی مثال آپ ہیں،محب قوم اورہرمعاملے میں مثبت سوچ اُس کاانفرادی وطیرہ ہے،اللہ تعالیٰ ایسے لوگ کسی قوم میں صدیوں بعداوربطورِخصوصی انعام پیداکرتے ہیں،اُن کی ادب پر اُستادانہ اورپشتون قوم پرپدرانہ اورقائدانہ شفقت کا سایہ تادیر قائم رہنے کی ڈھیرساری دُعائیں۔

 تحریر: نعمت اللہ خان/ڈاکٹرعبدالمتین مبتلاؔ

نعمت االلہ خان جامعۂ پشاورمیں درس وتدریس سے وابستہ ہے۔ ڈاکٹرعبدالمتین مبتلاؔ نے اردوادبیات میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ ایمیل آیی ڈی ہے۔ ۔ 

naimat@upesh.edu.pk

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*