ریاست اور مذھبی بیانیہ سازی / ایمل خٹک

 ایمل خٹک


ایمل خٹک

مذہب کے نام پر بنائے گئے ملک میں مذہب ، اگر ریاست کی لونڈی اور علماء سوء کے ذاتی مفادات کا غلام بن گیاہے،مذہب اگر جنس تجارت بن گیا ہےاور مذہب کو اگر سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے تو اس میں اتنے اچنبھے کی بات نہیں۔  جہاں ہر چیز کو مذہب سے ناپنے کا رحجان زوروں پر ہو اور ہر کام میں مذہب کا حوالہ دینا لازم ہو اور مذہب کی تشریح اور تاویل ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری بن گئی  ہو تو پھر اس معاشرے میں مذہب کے نام پر انتشار اور فساد کے پھیلنے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

اور یہ امکان اس وقت زمینی حقیقت میں تبدیل ہو جاتا ہے جب ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہ ہو جو مذہب کے غلط استعمال پر نظر رکھتا ہو روکتا ہو اور بازپرس کرتا ہو۔ مدارس کی بلا روک ٹوک پھیلاؤ اور خطبات کیلئے کوئی ضابطہ اخلاق یا راھنما اصول موجود نہ ہو تو پھر نیم ملا خطرہ ایمان بن جاتا ہے۔

مذہب سے ملک سے یا ریاستی اداروں سے محبت یا ان کا احترام اپنی جگہ مگر معاشرے میں بڑھتے ہوئے مذہبی انتشار اور فساد کو روکنے کیلئے کچھ امور پر بات کرنا اب ضروری ہوگیا ہے ۔ اتنی تباہی اور بربادی کے بعد اب اندھی عقیدت اور سطحی محبت کے چکر سے نکل کر مذہب کے غلط استعمال کے مضر سیاسی اور سماجی اثرات پر بات کرنا ہوگی۔

اور اب بات کرنے کی ضرورت بھی ہے مگر  بےلاگ اور صاف صاف بات کرنی کی ضرورت ۔ تاکہ مذہب کا کھویاہوا وقار بحال ہو اور مذہب سے دھشت گردی اور انتہاپسندی کا دھبہ دھل جائے۔  اس طرح ریاست اور ریاستی اداروں کی مذہب کے نام پر ڈرامہ بازی پر بھی بات کرنا ہوگی۔

مختلف اوقات میں پاکستانی ریاست نے اپنے تنگ نظر مفادات کے حصول کیلئے مختلف مذہبی اور روحانی شخصیات اور گروپوں کو مذہبی بیانیوں کو پروان چڑھانے اور عام کرنے کیلئے استعمال کیا۔ آجکل بعض مذہبی اور روحانی شخصیات کے علاوہ دفاع پاکستان کونسل نامی تنظیم یہ فریضہ ادا کررہی ہے۔

  اسٹبلشمنٹ کی بی ٹیم دفاع پاکستان کونسل میں کئی کالعدم تنظیموں کے راہنماوں پر  مشتمل کئی نامی گرامی عسکریت پسندوں، انتہا پسندوں اور حتی کہ بعض فرقہ واریت پسندوں کو جمع کیا گیا ہے اور وہ ریاست کی سرپرستی میں کھلم کھلا عوامی اجتماعات اور ریلیاں منعقد کر رہی ہے۔ ریاست کونسل کو ملک میں جنگی جنون کی فضا پیدا اور برقرار رکھنے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بیرونی دباؤ کو کاؤنٹر کرنے اور ریاستی پالیسیوں کی حمایت اور فروغ کیلئے استعمال کر رہی ہے۔جبکہ کالعدم دہشت گرد اور فرقہ پرست حلقے اپنی کال بچانے اور پٹے سیاسی مہرے اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنےکیلئے کونسل کے پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک کتابچہ پڑھنے کو ملا ۔ مفتی غلام فرید صاحب کا لکھا گیا یہ کتابچہ بعنوان “پاکستان اور افواج پاکستان کا تذکرہ قرآن و احادیث میں ” جو کہ  47 صفحات پر مشتمل ہے پڑھنے کے لائق ہے۔ یہ کتابچہ ریاستی اداروں کو مذہب کا مقدس لبادہ پہنانے کا ایک نادر نمونہ ہے۔

ریاستی بیانیے کس طرح فروغ پاتے ہیں ؟ اور علماء حضرات کس طرح مذہب کو ریاست کی لونڈی اور اپنی مفادات  کا غلام بناتی ہیں ؟ کس طرح مذہب کی غلط اور من مانی تشریح اور تاویلات سے عوام کے ذہن پراگندہ اور آلودہ کیے جاتے ہیں ؟ کس طرح مذہبی حوالوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے ؟  اور کیسے مذہبی حوالے بے جوڑ طریقے اور غیر منطقی انداز سے حالات حاضرہ میں فٹ کیےجاتے ہیں؟

 یہ وہ سوالات ہیں جو اس کتابچے جیسی مطبوعات پڑھنے کے بعد عقل و شعور رکھنے والے شہریوں کو پریشان کررہی ہے۔ اس کتابچے کا علمی مقام کیا ہے ؟ تحقیق کا کیا معیار اختیار کیا گیا ہے ؟ اس میں اٹھائے گئے نکات کتنے علمی اور مذہبی معیار پر پورا اترتے ہیں؟  اس میں دئیے گئے حوالے کتنے معتبر اور صیح سیاق و سباق کے ساتھ دیئے گئے ہیں ؟ مذہبی حوالوں اور جس بات کو ثابت کیا جا رہا ہے اس میں کوئی منطقی ربط یا تعلق بھی بنتا ہے یا نہیں ؟ یا یہ کہ یہ کتابچہ کیوں لکھا گیا ؟ کیسے لکھا گیا؟ یہ ایک الگ علمی بحث ہے۔

لگتا ہے مفتی صاحب شدت جذبات اور محبت میں بہہ گئے ہیں۔ مفتی صاحب سے عقیدت اور احترام اپنی جگہ پر مگر فتووں یا مذہبی بیانیوں کے سیاسی اور سماجی پہلووں پر لکھنا اب ضروری ہوگیا ہے۔ مذکورہ فتوے کی حیثیت یا مذہبی مقام کا تعین یا اس کے مذہبی پہلو پر بات کرنا نہ تو میرے بس میں ہے اور نہ اس مضمون کا مطمح نظر ۔

 یہاں پر بحث کا موضوع ریاستی بیانیوں کی تشکیل اور اس میں علماء حضرات کا کردار ہے کہ وہ مذہبی بیانیوں کےذریعے ریاستی  اقدامات اور اداروں کو کیسے تقدس کا لبادہ پہناتے ہیں اور ان اقدامات کو مذہبی حوالوں سے کس طرح جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مفتی غلام فرید صاحب کا یہ کتابچہ ریاست اور اداروں کو مذہب کا مقدس لبادہ پہنانے کا ایک نادر نمونہ ہے۔

کتابچے میں اور باتوں کے علاوہ قرآن پاک اور احادیث میں پاکستان کا اور احادیث ہی میں افواج پاکستان کا ذکر ڈھونڈنکالنے کے بعد افواج پاکستان کی  انڈین فوج کے ساتھ جنگوں کی مماثلت پیغمبر اسلام کے دور کے غزوات سے  ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے دفاع کیلئے 1965 کی جنگ میں پیغمبر اسلام کی جنگ میں شرکت کا واقعہ بھی قلم بند کیا گیا ہے۔ اور پاک فوج کیلئے عظیم فضیلت اور خوشخبری سنائی گئی ہے۔

اداروں اور دنیاوی چیزوں کو مذہبی لبادہ پہنانے اور اسے تقدس کا درجہ دینے کا عمل بڑا پرابلم میٹک ہے۔ مثلا” اگر پیغمبر اسلام کی 65 کی جنگ میں شرکت کے اس ایک واقعے کو بھی سچا مان لیا جائے تو پھر ان کی شایاں شان فتوحات بھی ہونی چاہییں تھیں ۔ انڈیا کو صفحہ ہستی سے مٹ جانا چائیے تھا۔

مگر انڈیا اب بھی بدستور موجود ہے بلکہ اگر تعصب اور دشمنی کے لینز کو ایک طرف کرکے دیکھا جائے تو دنیا میں اس کی عزت اور توقیر ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر موجودہ حکمران مزید کچھ عرصہ برسر اقتدار رہے یا ریاست کو ضرورت پڑی تو ہو سکتا ہے کچھ علماء ان کی موجودگی بھی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں ثابت کرنے میں زمین و آسمان کے قلا بے ملانے میں دیر نہ کریں۔

 کتابچے پر بحث کے دوران کسی منچلے نے رائے دی کہ شاید مصنف نے کتاب کچھ عرصہ پہلے لکھی ہے اگر حال ہی میں لکھتا تومذہبی تعلیمات سے وہ جنرل راحیل شریف کی سپہ سالاری بھی ثابت کرلیتے۔ بیشک نام نہاد علماء نے مذہب کو مذاق بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

عوام توقع کر رہی تھی کہ علماء جاری مذہبی  دھشت گردی اور عسکریت پسندی کی انسداد کیلئے سلامتی اور امن کا مذہب کہلائے جانے والے مذہب کا درست اور حقیقی چہرہ سامنے لائیں گے ۔ تنگ نظر اور جنگجویانہ بیانیوں کی جگہ امن پسند، میانہ رو اور رواداری کے بیانیوں کو سامنے لائیں گے ۔ مذہبی دہشت گردی پھیلا نے والوں کی مذہبی بنیاد اور بیانیوں کو چیلنج کرینگے لیکن الٹا وہ قوم کو اور چکروں میں ڈال رہی ہے۔

اس طرح ریاست کو بھی مذہب کی امن پسند، میانہ رو اور روا دارانہ بیانیوں میں دلچسپی نہیں ورنہ صحیح علماء کی سرپرستی کرتے ان کو سامنے لاتے۔ الٹا ریاست دفاع پاکستان کونسل جیسے تنظیموں کی سرپرستی کررہی ہے جو ملک میں جنگجویانہ اور انتہاپسند جذبات کو بھڑکانے میں مصروف ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے قوم کو دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی اور اندرونی دشمن یعنی دہشت گردی کو دشمن نمبر ون قرار دینے کی نوید سنائی گئی تھی۔ مگر ریاست نے اندرونی دشمن کو دشمن نمبر ون  قرار دینے والے بیانیے کو زیادہ فروغ نہیں دیا۔ الٹا ریاستی سطح پر آزادی پسند اور دہشت گرد ، اچھے اور برے طالبان کی تمیز کی پالیسی نے اس بیانیے کومبہم اور متذبذب بنا دیا ہے۔

اسی تذبذب اور ابہام کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ تاحال کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی اور کوئٹہ اور مردان کی حالیہ دہشت گرد کاروائیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد اب بھی بڑی اور تباہ کن کاروائیاں کرنے کی سکت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔

موجودہ مذہبی انتشار اور فساد پھیلانے میں ملا اور ریاست کے گٹھ جوڑ جس کو بعض تجزیہ نگاروں اور سیاسی کارکنوں نے مُلاملٹری الائنس کا نام دیا ہے کا بھی بڑا رول رہا ہے۔ علماء اور ریاست کاتعلق بہت قدیم ہے۔ لیکن برصغیر پاک و ھند میں یہ انگریز سامراج تھی جس نے اپنی اقتدار کی دوام اور طوالت کیلئے منظم انداز میں علماء کا استعمال شروع کیا۔

اگر ہم پشتون بیلٹ کی بات کریں تو یہاں انگریزوں نے افغان حکمران امیر امان اللہ خان ، اصلاح پسند اور آزادی پسند مذہبی علماء اور بعد میں خدائی خدمتگار تحریک کے خلاف علماء کو استعمال کیا۔

لیکن پہلے علماء سوء یا مفاد پرست علماء کی نسبت حقیقی علماء کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی مگر قیام پاکستان کے بعد سرد جنگ اور خاص کرافغان جہاد کے دوران ریاست اور علماء کا تعلق مضبوط اور گہرا ہوگیا۔ پہلے پہل ریاست بڑے بڑے علماء اور روحانی شخصیات کو ریاستی بیانیوں کی فروغ اور  اپنی پالیسیوں کو جواز فراہم کرنے اور حمایت کیلئے ان کی خدمات حاصل کرتی تھی۔

افغان جہاد کے دوران ریاست نے اپنا اثر و رسوخ عوامی سطح تک پھیلانے ، اپنی انتہاپسند اور عسکریت پسند پالیسیوں کو پروان چڑھانے اور اس کیلئے سازگار ماحول اور حمایت حاصل کرنے کیلئے درمیانے اور چھوٹے علماء کی خدمات بھی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جس سے مذہب کا عامیانہ اور بھونڈا استعمال شروع ہوا ۔ سادہ لوح عوام کو ورغلانے ، مخالفین کو فتووں سے ڈرانے، جہاد کیلئے سازگار ماحول بنانے اور اس کیلئے انسانی خاشاک مہیا کرنے کیلئے ہر چیز کو قرآن و سنت کی روشنی میں ثابت کرنے کی دوڑ شروع ہوئی۔ اور وہ کونسا کام یا طریقہ نہیں تھا جس سے انہوں نے مذہب کی جگ ہنسائی اور بے توقیری نہیں کی۔

 ریاست کی سرپرستی میں مُلا گردی کے رحجان کو فروغ ملا ہے ۔ مُلا گردی انتہاپسند، فرقہ پرست اور تنگ نظر علماء کی پیدا کردہ وہ کٹر مذہبی اور فتوے بازی کا ماحول ہے جس کی وجہ سے عام شہری مسلسل ایک خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ مبادا کوئی مولوی اس کے خلاف کچھ بول نہ دے یا اس پر فتوی ٰنہ لگائے۔

مُلا گردی کی وجہ سے اگر ایک طرف علماء سوء کی سماجی قوت اور ان کی بلیک میلنگ پوزیشن بڑھی ہے تو دوسری طرف اس سے معاشرے میں اختلاف نظر اور اظہار رائے کی حوصلہ شکنی ہو ئی ہے۔ اس طرح مذہب خالصتا” علماء سوء کا ڈومین بن گیا ہے جس میں شہریوں کو کچھ کہنے سننے کی گنجائش نہیں رہی۔

 اب مذہبی انتشار اور فساد کو روکنے کا وقت آگیا ہے۔ مذہب کے نام پر جو تباہی اور بربادی ہوئی یا ہو رہی ہے اس کے پیش نظر اب سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کچھ سخت فیصلے کرنے ہونگے ۔ انتہاپسندی ، فرقہ پرستی  اور عسکریت پسندی کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہونگے تاکہ دنیا میں مذہب کو تنگ نظری اور تشدد سے پہچان اور شناخت کرنے کی رحجان کی حوصلہ شکنی ہو ۔

مدارس کی بہتر انتظام اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے مدارس کی رجسٹریشن کے عمل اور مالی اور انتظامی معاملات کو کنٹرول کرنا ہوگا اور مذہبی خطبات کیلئے کوئی ضابطہ اخلاق کو لاگو کرنا ہوگا ۔  ملک میں وسیع فرقہ وارانہ تقسیم اور تشدد کے پیش نظر مذہبی رسائل ، جرائد اور مطبوعات کی اشاعت کیلئے بھی کوئی نظام وضع کرنا ہوگا تاکہ مذہب کے نام پر فساد پھیلانے کے رحجان کی حوصلہ شکنی ہو۔

ان کاموں کیلئے سیاسی قوت ارادی اور علماء کی بیجا خوشنودی کو خیرباد کہنے کی ضرورت ہے جس کیلئے ریاست اور ریاستی ادارے ابھی تک تیار نہیں۔

دی پشتون ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*