دادی ماں کا پاکستان

Noman02

باتوں باتوں میں جون ایلیا کی بات رہ نہ جائے۔ کیا خوب کہا کہ ہم نے تاریخ کے دسترخوان پہ حرام خوری کے سوا کیا ہی کیا ہے۔

میری دادی جو پاکستان سے عمر میں بڑھے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر کہتی رہتی ہے کہ بیٹا آپ کا پاکستان تو میرے سامنے پیدا ہوئے اورآپ یقین جانے اتنی بےشرمی سے میں نے اپنے 90سال کی عمر میں کسی کو جنم لیتے ہوئے نہیں دیکھآ کہ پیدا ہوتے ہی اپنے ماں کو مار کر اس پر فخر محسوس کر رہا تھا اور ابھی تک اُ سی گنہونا حرکت پہ شرمندہ ہونے کی بجائے ہر سال بڑے دھوم دھام سے اپنی سالگرہ مناتاہے اور اس کے بچے بھی اپنے باپ پہ ہی گئے ہیں اس بے شرمی سے مجھے وہ بات یاد آتی ہے کہ جب چور باپ مر رہا تھآ تو اُ س نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ بیٹا میں نے تو عمر گزار لی اور کوئی اچھآ کام نہیں کیا تو آپ لوگ کچھ ایسا کرو کہ لوگ مجھے اچھے نام سے یاد کرئے۔ بیٹوں نے بہت سوچنے کے بعد یہ طریقہ نکالا کہ کسی کو لوٹنے کے بعد اُ س کے کپڑے بھی اُ تارلیتے۔ تو ایک دن دو بزرگ  مسجد میں اس کے بچوں کو دیکھنے کے بعد کہنے لگے کہ ان کا باپ مسکین کتنا اچھآ انسان تھآ صرف مال ہی لوٹ لیتے۔ یہ لوگ تو مال کے ساتھ ساتھ عزت بھی لوٹ رہے ہیں۔ تو بیٹا آج آپ کے پاکستان کا بھی یہی حال ہے۔اگر آپ ان کے بچوں کو میری باتیں بتاو گے تو یہ لوگ میرے ساتھ ساتھ آپ کو بھی گالیاں دیں گے اور ایسے ملک میں رہنے سے میں آج بھی    پناہ مانگتی ہوں۔ کہ جس ملک میں آپ کے پڑھے لکھے طبقے کو گمراہ و کافر کہہ کر یا مار دیا جاتا ہے اور یا ملک سے بھگا دیا جاتا ہے۔ بیٹا آپ میری باتیں غور سے رہئے   ہو ۔ اور اگرآپ کو یقین نہیں آتا تو جا کے پتا کراوُ  کہ منٹو جو مجھ سے عمر میں تو کم پر عقل اور دانش میں بہت بڑھکر تھے اُ س کا کیا حشر ہوا. سائنسی خدمت کرنے والے عبدالسلام جس کو دنیا تو مان گئ پر ان بدبخت بچوں نے کافر کہہ کر زندگی عذاب بنالی  آگے جتنا آتے جاوٴ گے اُ تنی گنہونی مثالیں ملیں گے ظلم کی انتہا تو اِدھردیکھو گے جب میری پوتی کے عمر کے بچی ملالہ یوسفزئی کو چور باپ کے بدبخت بیٹوں نے گولیاں مار کر یہودیوں کے ایجنٹ کے فتوحات لگائے.                                                       

یہ وہ کمبخت لوگ ہیں جن سے جون ایلیا بھی ہار گئے اُ س کی دو باتیں میری ذہین سے نہیں نکلتی ایک وہ جب ہار گیا تھا تو دکھ بری آواز میں کہنے لگا میں ہار گیا ہوں میں ہار گیا ہوں میں اِ س معاشرے کو ارسطو اور افلاطون کا معاشرہ سمجھ رہا  تھا مگر میں غلط  تھا اُ سے یہ نہیں پتا تھا کہ یہ اُ س کا معاشرہ نہیں بلکہ یہ معاشرہ تو عریت مقبول جان کا معاشرہ ہے( جس کو عریانی کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا  بیٹا میں تو اِ س بات پہ ڈر رہی ہوں کہ کہیں اُ سے میری باتوں سے بھی عریانیت کی خوشبو نہ آئے)۔ یہ معاشرہ تو ذید حامد، حکیم اللہّ محسود کا معا شرہ ہے اور بیٹا حکیم اللہّ محسود کی بھی اپنی کہانی ہے کسی دن وہ بھی تفصیل سے بتاونگی اُس کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے جس میں قتل وغارت ،سرمایہ دارانہ  نظام ، افغانستان کی ہزاروں انسانوں کی جانیں ہیں ۔بیٹا آپ کا یہ پاکستان نہ یہ کے صرف بےشرم ہے بلکہ بہت بڑا قاتل بھی ہے۔

             بیٹا آپ پوچھوگے نہیں کی پاکستان کا باپ کون تھا جس نے اپنے جیسے بےشرم اور قاتل بیٹے کو جنم   دیا ۔ خیر چھوڑو آج کل باپ کا کون پوچھتا  ہے ۔ آپ کے تکرار پہ میں بتا ہی دیتی ہوں جہاں پہ آپ کا وزیراعظم صاحب علاج کی جھوٹی گرز سے گئے ہیں ۔ اب مجھے لگ رہا ہے کہ میری باتیں بہت تلخ ہوتی جا رہی  ہے ۔ پر بیٹا میں کیا کروں جب حقیقت ہی اتنی تلخ ہو اور اب مجھے لگ رہا ہے کہ اتنی تلخ حقائق بتا کے میں نے آپ کی جان خطرے میں ڈھال دیا ہو ۔  بیٹا باتوں باتوں میں جون ایلیا کی بات رہ نہ جائے ۔ اُ ن کی دوسری بات کو زرا غور سے سنو ۔ کیا خوب کہا کہ ہم نے تاریخ کے دسترخوان پہ حرام خوری کے سوا کیا ہی کیا ہے۔ اور کتنی دُ رست بات کہی تھی واقعی اِ ن لوگوں نے تاریخ کے دسترخوان پہ حرام خوری کے سوا اور کیا ہی کیا ہے ۔ آج تک آپ کو لوگ دو قومی نظریہ ، نظریہ پاکستان اور علامہ اقبال کے خواب جیسی فضول فضول باتوں پہ دلائل دیتے ہوئے نظر آہیں گے جسکی پیشنگوئی عبدالکلام آزاد نے اِ تنے سالوں پہلےکی اور بنگالیوں (جس کا جینہ اپنے مسلمان بھائیوں نے حرام کردیا تھآ) سے کب کی ہوا نکال دی۔ ٹھیک کے جو ہوا اُ س کو غلطی تسلیم کر کے بھول جاو اور آگے اب کیسے بڑھنا ہے کہ بحث کا آغاز کر دو مگر نہیں مجال ہے کہ کوئی ایسا سوچھے ۔ اور خبردار آپ بھی نہ سوچھو کیونکہ اتنی بڑھاپے میں تمھاری لاش اُ ٹھانے کی اوقات ہی نہیں رہی ۔

لاشوں سے ایک بار پھر مُجھے اپنے بدقسمت قوم کی یاد آئی جو پچھلے 40 سال سے بغیر کسی وجہ بارڈر( جس کو میں مانتی تک نہیں ہوں) کے دونوں جانب لاشیں اُ ٹھا رہی ہے اور وہ بھی بنا کسی وجہ اور گناہ کے ۔ اور اِ ن کو ابھی تک یہ عقل نہیں آئی کے پشتون اور افغان میں کوِئی فرق ہی نہیں  ہے ۔ لفظ افغان تو افغانستان کے نام سے کہیں صدیاں پہلے پشتونوں کے لئے ااستعمال ہوا  ہے ۔ جو قوم اپنی تاریخ پہ لڑ رہی ہو اُ س سے دُ شمن کو پہچاننے اور ختم کرنے کی ہر گز اُ مید نہ جائے ۔ بیٹا سب سے ضروری بات جو مجھے اکثر رُ لاتی ہے وہ مذہب اور اِ ن کی ثقافت کا ایک دوسرے کے ساتھ جڑھنا  ہے اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے 360درجہ زاویہ پہ مختلف ہیں اِ ن دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ ورنہ مجھے یہ قوم اور اندھیرے میں دکھائی دے رہی ہے۔

         بیٹا اگر میری باتوں نے پریشان کیا ہے تو دِ لی معاذرت ۔ اب روزے کی حالت اور عمر کے تقاضے کی وجہ سے کسی بات پر تفصیلاً بات نہیں کر سکتی ۔ بس آخر میں پنڈی کے طاقتور بیٹے کا شکریہ ادا کروں گی جس نے میرے قوم کی اتنی جارہانہ انداز میں ذہنی نشوونما کی ہے کہ آپس میں اتفاق کا کہیں سے کوئی امکان نہیں بلکہ اُن کی ذہنوں میں ایک دوسرے کے لیے زہر، جھوٹے تاریخی حقائق، انتہا پسندی ، اور مذہبی جنونیت کمال کی دی  ہے.

 نعمان شاہ. ہسٹری ڈیپارٹمنٹ، جی سی یونیورسٹی لاہور

THE PASHTUN TIMES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*