بھارت کی جارحانہ سفارتکاری اور پاکستان/ ایمل خٹک

indiapak

وزیراعظم نریندرا مودی کے دور میں بھارت کی جارحانہ پالیسی علاقے میں نئی تزویراتی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ھو رہی ہے۔ جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں نئی ابھرتی ھوئی تزویراتی تبدیلیوں کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی قوتوں کی نئی صف بندی وجود میں آرہی ہے۔ علاقے میں موجود قدرتی وسائل اور بیرونی منڈیوں تک رسائی اور انرجی اور تجارتی راھداریوں کو محفوظ بنانے اور اس پر کنٹرول کیلئے جاری جنگ اب زیادہ کھل کر اور شدت سے ھونے کا امکان ہے۔ اور فریقین اپنی سودا بازی کی قوت بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ معاشی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے اپنے اپنے شطرنج کے گھوڑوں کے ساتھ میدان میں اتر رہے ھیں۔ اگر سٹرٹیجک شطرنج پرامن طریقے سے نہیں کھیلا گیا تو جاری سرد جنگ گرم جنگ میں بدل سکتی ہے۔ اور تنازعات کے حل کا ایک ناپسندیدہ اور تباہ کن طریقہ ہی سہی مگر محدود جنگ کے امکان کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ ابھرتا ھوا صورتحال علاقے میں کشیدگی اور بے یقینی کو جنم دے گا۔ یہ صورتحال جنگ پرست اور کشیدگی کو ھوا دینے والے قوتوں کیلئے خوشی کا اور امن پسند قوتوں کیلئے باعث تشویش ہے۔

امریکہ سے بڑھتی ھوئی قربت اور آشیرواد کی وجہ سے بھارت اب کھل کر چین اور پاکستان کے ساتھ سٹرٹیجک گیم کھیلنے لگا ہے۔ وہ چین اور پاکستان دونوں کے دکھتی رگوں کو چھیڑ رہا ہے۔ بلوچستان اور سی پیک پر وزیر اعظم مودی کے حالیہ بیانات اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین مخالف قوتوں سے دوستی بڑھانا بھارت کی جارحانہ انداز سفارتکاری کی بین ثبوت ہے۔ قدرے اقتصادی استحکام کی وجہ سے بھارت اب علاقائی سے بڑھ کر عالمی طاقت بننے کے چکر میں ہے اور اس میں شک و شبھے کی گنجائش نہیں کہ وہ پاکستان کو کسی خاطر میں نہیں لا رہا بلکہ وہ چین سے سیاسی ٹکر لینے کے تیاریوں میں ہے۔

اگر ایک طرف چین نے خاموشی سے جنوبی ایشیا میں اپنے پنجے گاڑھے ھیں ۔ بھارت اس عمل کو اپنی علاقائی چودھراہٹ کیلئے خطرہ محسوس کر رہا ہے۔ تو دوسری طرف بھارت جنوبی چینی سمندر کے متنازعہ علاقے میں ھاتھ پاؤں مارنے لگا ہے اور سمندر پر چین کے دعوے کی بجائے دیگر ممالک مثلا ویت نام وغیرہ کی موقف کی تائید کر رہا ہے۔ اور باتوں کے علاوہ مودی کا حالیہ دورہ ویت نام اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ بھارت چین کو کاؤنٹر کرنے کیلئے جاپان سے بھی پینگیں بڑھا رہا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت، جاپان اور امریکہ کی مفادات میں مماثلت کی وجہ سے تینوں ممالک کے درمیان ذھنی ھم آھنگی اور اشتراک عمل بڑھ رہا ہے ۔ جو کہ یقیناً چین کیلئے باعث پریشانی ھوگا۔

پاکستان کے پالیسی ساز اور ریاستی دانشور ابھی تک سرد جنگ اور نئی سرد جنگ کے خمار سے نہیں نکلے۔ وہ ابھی تک پاکستان کی اہمیت اور مغربی دنیا کی جانب سے خوشنودی کے انتظار میں بیٹھے ھیں ۔ حالانکہ امریکہ اور پاکستان کا نکاح عملا” ٹوٹ چکا ہے ۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچی اور ھم ابھی تک ھاتھی کے کان میں سو رہے ھیں ۔ ھم ابھی تک اپنے آپ کو مغربی دنیا کیلئے ناگزیر سمجھتے ھیں ۔ اور ان کے پہلے جیسے دست شفقت اور لطف و کرم کے متمنی ھیں ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس وقت یہ اہمیت تھی اس وقت ھم نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ اور کئ سنہرے مواقع گنوائے۔ مثلا” اگر بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی دی جاتی تو نہ صرف پاکستان کو سالانہ راھداری کی مد میں اربوں ڈالر کی آمدن حاصل ھوتی بلکہ علاقائی تعاون اور ترقی کے دور میں علاقائی روابط کے فوائد سے بھی مستفید ھوتے۔ پاکستان سے مایوسی کے بعد اب بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ کی شکل میں متبادل روٹ ڈھونڈ لیا ہے۔ چاہ بھار بندرگاہ کی شکل میں افغانستان کو بھی متبادل روٹ ھاتھ آگیا ہے جس سے اس کا پاکستان پر انحصار کم ھو جائیگا۔ افغانستان پاکستانی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی تھی اور اب افغانستان کی مارکیٹ آہستہ آہستہ پاکستان کے ھاتھوں نکلتی جا رہی ہے۔ جس سے پاکستانی صنعت کو سخت دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ اپنی خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں کی شکار پاکستانی اسٹبلشمنٹ جب خواب خرگوش سے بیدار ھوگئ تو پتہ چلے گا کہ اس کے ساتھ کیا ھاتھ ھو گیا ہے۔ ھمارے اکثر پڑوسی ممالک خارجہ تعلقات میں نظریات کی بجائے اقتصادی مفادات کو فوقیت دے رہے ھیں جبکہ ھماری پہلی ترجیع نظریات ھوتے ھیں۔

پاکستان میں سفارت کاری ایک اھم اور عام اصول کہ ممالک کے مفادات مستقل ھوتے ھیں نہ کہ تعلقات کو اکثر و بیشتر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ھم بعض عالمی اور علاقائی قوتوں کے ذھنی غلام بن گئے ھیں اور یہ سوچ پیدا ھوگئی ہے کہ ان کے بغیر ھمارے معاملات نہیں چل سکے گے۔ ھم نے ایک قوت یا ھم خیال قوتوں کے گروپ یعنی امریکہ اور اس کے حلیف قوتوں پر انحصار کیا اور ان کی حریف قوتوں سے دوستی سے اجتناب کیا۔ اب سارے انڈے چین کے تھیلے میں ڈالے جا رہے ھیں لیکن چین جیسے بنیا سے لو لگانے کے اثرات اب دیکھنا باقی ہے۔ روس سے سٹرٹیجک تعلقات کی باتیں ابھی تک شیخ چلی کے خواب ھیں۔ روسی صدر کا دورہ پاکستان سالوں سے متوقع ہے لیکن اس کا عملی شکل اختیار کرنا ابھی باقی ہے۔

ھمارے پالیسی سازوں کی سوئی ابھی تک جیو- پولیٹکل نظریہ پر اٹکی ھوئی جبکہ دنیا اس تصور کو کب کا خیرآباد کہہ چکی ہے۔ ھم ابھی تک اس مفروضے کے ساتھ زندہ ھیں کہ پاکستان کی جیو- پولیٹکل یا جیو-سٹرٹیجک اہمیت مستقل یا ابدی ہے۔ جبکہ ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ ممالک کی جیو- پولیٹکل یا جیو-سٹرٹیجک اہمیت وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے۔ علاقوں کی اہمیت مستقل یا ابدی نہیں ھوتی ۔ ممالک کی اہمیت وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے۔ ھمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چائیے کہ اب ھماری اہمیت پہلی جیسی نہیں رہی۔ اس طرح سفارتی تعلقات میں جیو-اکنامک کا نظریہ اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ اور اب بیرونی تعلقات میں معاشی مفادات کو ترجیع دی جا رہی ہے ۔

ھمارے اکثر ریاستی دانشوروں کا طرز بیان جذباتی اور سطحی ہے اور علمی گہرائی سے عاری ھیں۔ ان کی بات کشمیر سے شروع ھو کر کشمیر پر ختم ھوتی ہے ۔ مسلہ کشمیر کی اہمیت اپنی جگہ مگر کشمیر کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہے۔ بین الاقومی تعلقات اور نظریات ٹھوس معاشی مفادات پر قائم ھوتے ھیں جہاں جذبات یا جوش کی بجائے بردباری یا ھوش کی ضرورت ھوتی ہے۔ سرحد پار کشمیریوں کی پاکستان سے جذباتی وابستگی اپنی جگہ مگر کشمیر میں عوامی سطح پر پاکستانی حکمرانوں سے بیزاری بڑھ رہی ہے ۔ حتی کہ کشمیری عسکریت پسند بھی ناراض اور مایوس ھیں ۔

امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کو شامل نہ کرنا اور افغانستان کے حوالے سے آئندہ چند روز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ھونے والے سہ فریقی مذاکرات جو اس سے پہلے پاکستان ، امریکہ اور افغانستان کے درمیان ھوتے تھے میں پاکستان کی جگہ بھارت کو شامل کرنا خطے میں امریکہ کی بدلتی ھوئی ترجیحات کی غمازی کر رہی ہے۔ اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان اب امریکہ کی اولین ترجیح نہیں رہا۔ اور ان میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کوئی ثابت قدمی اور تسلسل اور نہیں اور وہ اپنی ضرورت اور مفاد کے تحت کبھی مسلہ کشمیر پر جارحانہ اور کبھی مصلحت آمیز موقف اختیار کرتا رہتا ہے۔

اس طرح پہلے پاکستان کی حساسیت کے پیش نظر امریکہ بھارت کو مسلہ افغانستان میں نظر انداز کرتا رہا اور اسے کوئی رول دینے کیلئے تیار نہیں تھا بلکہ ماضی قریب میں اسے افغانستان میں لو پروفائیل رکھنے کی تلقین کرتا رہا ہے۔ اب بدلتی ھوئی تزویراتی صورتحال میں امریکہ بھارت کو اھم رول دینے کا عندیا دے رہا ہے۔ افغانستان کو بھارت تک تجارتی رسائی کے انکار کے بعد کابل نے ردعمل میں پاکستان کو وسطی ایشیا تک زمینی رسائی نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ پاک-افغان تعلقات میں بڑھتی ھوئی کشیدگی بھارت کو پاکستان کی سفارتی حصار بندی کیئے موقع اور فرصت فراہم کر رہی ہے ۔ مجوزہ امریکہ ، افغانستان اور بھارت سہ فریقی مذاکرات ، دہلی سرکار کا افغانستان کی کھل کر فوجی امداد کا عندیا اور اس کی افغانستان کو پاکستان کی تجارتی انحصار سے نکالنے کی کوششیں پاکستانی پالیسی سازوں کی نیندیں حرام کررہی ھے۔ چین اور بھارت مثبت رقابت کر رہے ھیں جبکہ پاکستان اور بھارت منفی رقابت کا شکار ہے ۔ مثبت رقابت میں اقوام ایک دوسرے کے ساتھ رقابتوں کو زندہ رکھنے کے ساتھ ایک دوسرے کیساتھ مکالمے کو بھی جاری رکھتے ھیں اور معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی تگ و دو کرتے ھیں۔ مسائل اور مشکلات کے باوجود بھارت کے پاکستان کے علاوہ تمام پڑوسی ممالک سے پرامن تعلقات ھیں جبکہ پاکستان کے چار میں سے تین ھمسائیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ھیں۔ چین بعض اوقات دبے الفاظ جبکہ باقی تین کھلے الفاظ میں پاکستان کی سرزمین ان کے خلاف دھشت گردی کیلئے استعمال کرنے کے الزامات لگاتے رہے ھیں۔ جبکہ منفی رقابت میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور مات دینے کیئے مخاصمانہ جذبات کو بھڑکانے کے ساتھ ایک دوسرے کو سیاسی ، معاشی اور حتی کہ فوجی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔

دنیا سپیشلائیزیشن یعنی تخصیص کی طرف جا رہی ہے، ھمارے ھاں یہ پتہ نہیں چل رہا کہ کس ادارے کے کیا فرائض اور اختیارات ھیں اور کچھ ادارے اپنے آیئنی اختیارات سے تجاوز کرکے ھر فن مولا بنے کے چکر میں ھیں ۔ جس سے سول ملٹری تعلقات ریکارڈ حد تک غیر متوازن ھو چکے ھیں ۔ جنرل راحیل شریف کی یوم دفاع کے موقع پر تقریر ایک پیشہ ور فوجی سربراہ کی تقریر کے بجائے ملک کی خارجہ تعلقات پر ریاستی پالیسی بیان کا ایک شاندار نمونہ تھا۔ اندرونی اور بیرونی پالیسیوں کی مکمل اور ھالنگ اور تمام اسٹیک ھولڈرز کی موثر اور بامعنی شرکت کی بغیر سفارتی چیلنجوں کا سامنا کرنا اور سنگین بحرانوں سے نکلنا مشکل ہے۔ کاسمیٹک تبدیلیوں یا اقدامات سے نہ تو بھرپور طریقے سے چیلنجوں کا سامنا کیا جا سکتا ہے اور نہ بحرانوں سے سرخرو ھو کر نکلا جا سکتا ہے۔ البتہ بحران کے مذید سنگین ھونے کا احتمال زیادہ ھوتا ہے۔

 ایمل خٹک

ایمل خٹک

سینئر جرنلسٹ اور تجزیہ کار ایمل خٹک  اخبارات اور جرائد میں انتہاپسندی اور امن کے موضوعات پر لکھتے رہتے ھیں ۔ ان کا رابطہ ایمیل یہ ہے

aimalk@yahoo.com

دی پشتون ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*