افغان امن مذاکرات کی کا میابی کے امکانات اور چیلنجز/ ایمل خٹک

ایمل خٹک

ایمل خٹک

پاکستان کی آشیرواد سے افغان طالبان اور افغان حکومت کے مابین قطر میں بلا واسطہ ابتدائی بات چیت ھوئی ہے۔ اور مستقبل میں قطر یا سعودی عرب میں امن بات چیت کے جاری رہنے کا امکان ہے ۔ کچھ حلقے مذاکرات کی کامیابی کیلئے سعودی عرب کو مزاکرات کے سلسلے میں آن بورڈ کرنا چاہتے ھیں۔ طالبان نے پاکستان اور چین کو مذاکرات کے سلسلے میں اعتماد میں لیا ہے۔

اس سے قبل پچھلے سال جولائی کے اوائل میں پاکستان کی سہولت کاری سے مری میں بعض طالبان راھنماوں اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات ھوئے تھے مگر اس سے طالبان کے قطر آفس نے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا اور اسے مذاکرات کرنے والے طالبان کی انفرادی کوشش قرار دیدیا تھا۔ اس کے بعد مذاکرات دوبارہ پھر منعقد ھونے تھے مگر بوجوہ نہ ھوسکے۔

گزشتہ سال ڈیڑھ سال میں طالبان پر مذاکرات شروع اور پھر دوبارہ بحال کرنے کیلئے سخت دباؤ موجود تھا۔ اور مذاکرات کی معطلی کے بعد پاکستان بھی شدید بیرونی دباؤ میں رہا۔ ایک طرف پاک-امریکہ اور دوسری طرف پاک-افغان تعلقات انتہائی کشیدہ ھوگئے۔ اس دوران امریکہ اور چین مختلف زرائع سے طالبان پر مذاکرات بحال کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے رہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا مذاکرات کیلئے آمادگی بیرونی دباؤ کو کم کرنے کا ایک حربہ ہے۔ جس میں مختلف تاخیری حربوں سے مذاکرات کے عمل کو طول دیا جائیگا یا طالبان واقعی مذاکرات میں دلچسپی لے رہے ھیں۔ پاکستان نے حال ہی میں چند اھم طالبان راھنماوں کو گرفتار کیا ہے۔ بعض مبصرین اس کو پاکستان کی جانب سے طالبان کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کیلئے دباؤ قرار دے رئے ھیں جبکہ کچھ اور مبصرین جن میں افغان بھی شامل ھے اس کی مختلف تشریح کر رہے ھیں ان کے نزدیک پاکستان ان طالبان راھنماوں کو گرفتار کرتا ہے جو اپنے طور پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کرتے ھیں۔ اور پاکستان بیرونی دباؤ کو کم کرنے کیلئے یہ حربے استعمال کرتا ھیں۔

مسلہ افغانستان اب اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے کہ کاسمیٹک اقدامات یا محض خانہ پُری سے کام نہیں چلے گا۔ فریقین ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات چاہتے ھیں۔ افغان طالبان کی سینئر قیادت ملا عمر اور خاص کر ملا اختر منصور کی ھلاکت کے بعد طالبان صفوں میں انتشار اور مایوسی پھیل رہی ہے ۔ افغانستان بھر میں مختلف فوجی مھمات شروع کرنے اور افغان حکومت پر فوجی دباؤ بڑھانے کے باوجود طالبان سخت مالیاتی مشکلات کا شکار ہے۔ اور مختلف محاذوں پر فوجی سازوسامان کی رسد بھی بڑا مسلہ بنتا جا رہا ہے۔

اب اس کے بیرونی آقاؤں کو طالبان پراجیکٹ جاری رکھنا مشکل ثابت ھو رہا ہے۔ بڑھتے ھوئے داخلی اور خارجی دباؤ کے پیش نظر طالبان نے افغانستان سے بیرونی افواج کے مکمل انخلاء کے شرط میں نرمی کرنے اور مذاکرات کی کامیابی کے فوری بعد بتدریج انخلاء کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ قطر ، ترکی اور سعودی عرب بھی طالبان کو حزب اسلامی افغانستان کی طرح پرامن مذاکرات کے زریعے مسائل کےحل پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ھیں ۔

طالبان زرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے مکس سگنلز مل رئے ھیں۔ مذاکرات کے ساتھ ساتھ فوجی سرگرمیاں تیز کرنے کے اشارے بھی مل رئے ھیں۔ افغان طالبان کے رویے میں تبدیلی کے حوالے سے تین اھم وجوھات کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ فوجی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے باوجود طالبان کسی اھم شہر پر قبضہ کرنے اور قبضہ برقرار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ملا اختر منصور کی ھلاکت کے بعد طالبان تحریک سخت مشکلات کا شکار ہے۔ نئی قیادت نہ تو ملا عمر جیسی کرشماتی شخصیت اور نہ ملا اختر منصور کی طرح انتظامی اور فنڈز جمع کرنے کی صلاحیتوں کی حامل ہے۔

دوم ، ملا محمد عمر کے وفات کے بعد طالبان کے اندر طاقت کے مختلف مراکز بن چکے ھیں۔ ملا اختر منصور نے طالبان پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے داخلی اختلافات کو بزور دبانے سے بھی گریز نہیں کیا بلکہ اس کے بعض مخالفین نے ان کی حمایت یافتہ بیرونی ایجنسی پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے مخالفین کو ملا منصور کی حمایت پر مجبور کرنے کیلئے ھر قسم کا دباؤ ڈالا۔ طالبان حلقوں میں مولوی ھیبت اللہ کی نیک نامی اور احترام اپنی جگہ مگر ان میں تحریک کی قیادت کیلئے درکار قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے۔

اگرچہ طالبان شورای میں سراج الدین حقانی کی اثرورسوخ میں اضافہ ھوا ہے مگر ملا عمر کا بیٹا ملا محمد یعقوب بھی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ اور آھستہ آھستہ طاقت کا منبع بنتا جا رہا ہے۔ ملا یعقوب کو عام طالبان کے علاوہ ملا اختر منصور مخالف گروپ کے اکثر کمانڈروں کی حمایت بھی حاصل ہے اور وہ کئی ناراض شخصیات کو طالبان صفوں میں واپس لایا بھی ہے۔

عام طالبان اور خصوصا جنگجو کمانڈروں کو کسی بھی ممکنہ حل پر راضی کرنے کیلئے ملا عمر کا خاندان اھم رول ادا کرسکتا ہے۔ سوم ، پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات میں بد اعتمادی اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہے اور طالبان قیادت پر پاکستان سے اندرون افغانستان منتقل ھونے کیلئے اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

طالبان قیادت پر پاکستان کے اثرورسوخ اور دباؤ کو اب محسوس کیا جانے لگا ہے۔ اور یہ احساس زور پکڑ رہا ہے کہ علاقائی ممالک کسی مذھبی بھائی چارے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کی حصول کیلئے ان کی حمایت کر رئے ھیں ۔علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کو ترجیع دیتے ھیں اور اکثر ان کے یعنی طالبان کے مفادات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اور ایشیوز کے علاوہ افغان مہاجرین کی بزور بیدخلی کی کوشش اور بعض طالبان راھنماوں کی گرفتاریوں سے طالبان میں غم وغصہ بڑا ہے۔

طالبان صفوں میں اندرونی اختلافات اور بعض علاقائی طاقتوں کے بارے میں ان کے نکتہ نظر میں تبدیلی کے آشارے ھمیں اھم طالبان راھنما اور ملا عمر کے معتمد خاص سید طیب آغہ کی طالبان سربراہ مولوی ھیبت اللہ کو لکھے گئے حالیہ خط میں بھی ملتے ھیں ۔ جس میں انھوں نے طالبان قیادت کو کچھ تجاویز پیش کی ھیں۔ طیب آغہ نے تجویز دی ہے کہ طالبان امیرالمومنین اور امارت اسلامی کا الفاظ اس وقت تک استعمال نہ کریں جب تک ضروری شرائط برابر نہ ھو۔ انھوں نے انھیں سویلین ٹارگٹس کو نشانہ بنانے سے اجتناب کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ اس نے طالبان قیادت کو کہا ہے کہ آزادانہ فیصلے کرنے کیلئے وہ پاکستان اور دیگر ممالک سے افغانستان کے اندر منتقل ھوجائے کیونکہ ان ممالک میں قیام کی صورت میں طالبان آزادانہ فیصلے نہیں کر سکتے اور میزبان ممالک اس پر اثرانداز ھوتے ھیں۔

افغان مسلے کے حوالے سے اب عالمی قوتوں کی صبر اور برداشت جواب دے چکی ہے۔ اب پاکستان نے کوئی فیصلہ کرنا ہے کہ طالبان کی حمایت جاری رکھی جائے یا طالبان پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ھوئے مثبت ثالثی یا سہولت کاری کے زریعے افغان مفاہمتی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ اس سلسلے میں تین ممالک کا دباؤ بہت اھم ہے۔ سب سے پہلے امن مذاکرات کے حوالے سے افغانستان کی ناراضگی بڑی اھم ہے ۔

افغانستان میں پاکستان -مخالف جذبات ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ھیں۔ اسلام آباد سے مایوس ھونے کے بعد کابل انتظامیہ کا رویہ اب بہت سخت ھوگیا ہے اور سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کے بغیر وہ کسی بھی طرح پاکستان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں۔ کابل انتظامیہ چار فریقی رابطہ کاری میکنزم جس میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، امریکہ اور چین شامل ہے کے تحت جو روڈ میپ تیار ھوگیا تھا اور جس میں تمام شامل ممالک نے وعدے وعید کئیے تھے پر عملدرامد اور پاکستان سے اپنے وعدے ایفا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ امن مذاکرات کے حوالے پاکستان سے مثبت ، ٹھوس اور نتیجہ خیز تعاون کا طلب گار ہے۔

پاکستان کیلئے اب کابل انتظامیہ کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ وہ اب بین الاقوامی فورمز پر بغیر کسی لگی پٹی اپنا موقف بیان کر رہا ہے۔ دوسرا امریکہ نے بھی اقتصادی اور فوجی امداد کو افغان مذاکراتی عمل اور عسکریت پسندی کے خلاف بلا امتیاز کاروائی سے مشروط کردیا ہے ۔ امریکی انتظامیہ اور پالیسی ساز اداروں کے موقف میں سختی کا پہلو نمایاں ہے۔ ان کے رویے میں پاکستان سے خفگی اور مایوسی عیاں ہے اور وہ اپنی ناراضگی کا اظہار مختلف طریقوں سے کر رہے ھیں ۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کی ایک وجہ مسلہ افغانستان بھی ہے۔ اس وجہ سے اس مسلے میں پیش رفت کے بغیر دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا امکان نہیں۔ تیسرا اب کچھ عرصے سے چین بھی پاکستان کی بعض داخلی اور خارجی پالیسیوں پر اثرانداز ھو رہا ہے۔ چین کی اقتصادی راھداریوں کے منصوبوں میں افغانستان کے قدرتی وسائل اور تجارتی راستوں کی اپنی اہمیت ہے۔

اس کے علاوہ علاقے میں عسکریت پسندی کے پھیلاؤ کے حوالے سے اس کی حساسیت اور تحفظات کی وجہ سے بھی افغانستان کے حوالے سے اس کی خاموش مگر مسلسل دباؤ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اپنے مطلب کے کام نکالنے اور بنیاگری کے حوالے سے چین نے سب کو مات دی ہے۔ چین گاجر آسانی سے نہیں کہلاتے۔ گاجر کہلانے سے پہلے ، کھانے کے دوران اور کھانے کے بعد انتہائی مہارت کے ساتھ ڈنڈا بھی چلاتے ھیں۔

ایمل خٹک

سینئر جرنلسٹ اور تجزیہ کار ایمل خٹک  اخبارات اور جرائد میں انتہاپسندی اور امن کے موضوعات پر لکھتے رہتے ھیں ۔ ان کا رابطہ ایمیل یہ ہے

aimalk@yahoo.com

دی پشتون ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*