آزادی کا جشن یا غلامی کا سوگ؟ احسان کاکڑ

IDPs Photo

اپنے گھر جاتے ہوۓ راستے میں تین بار روک کر پوچھا جاتا ہے کہ کہاں جا رہے ہو؟

 صدیوں سے اپنے مٹی کے بنائے ہوۓ گھروں میں آباد تھے مگر تیری اس گمنام اور بدنام آزادی کے بعد اپنے  سرزمین پر خانہ بدوش بن گئے……..گھر کے بجائے اب بسر آئ ڈی پیز کے نام پر دئے گئے خیموں میں ہے

روز اول سے اپنی محنت کی کمائی پر انحصار تھا مگر آج ایک تھیلی آٹے کی حصول کے لئے سائلوں کی طرح قطار میں کھڑے ہو کر  “خاکی ہیلی کاپٹر ” کی پوجا کرتے ھیں

زمانے کی بدنام ترین شناخت ” دہشت گرد” اور ” شدت پسند” جیسے القابات سے نوازنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی………حتی کہ بعض اوقات اپنے ہی سب پر بازی لے جاتے ھیں…….. اظہار رائے کا حق چھین لیا گیا…… خون کا قیمت نہ رہی…… ریاستی افراتفری اور تعصب سے فرصت نہیں…… اپنے پیاروں کی لاشیں غیروں کے قبرستان میں دفناتے ھیں……. قلم کے بجائے بندوق تھمائے جاتے ھیں……. مہنگائی کی تو بات ہی کچھ اور ہے…….. کہیں بچے یتیم ہو رہے ھیں تو کہیں ماؤں سے جگرگوشے چھیننے جا رہے ھیں……… خدا کے زمین پر خدا کے دیۓ ہوۓ وسائل سے محروم رکھ کر انسٹھ سالوں سے ذاتی اور لسانی تعصب کے شکار بنائے بیٹھے ھیں…….. فوجی آپریشنز کے نام میری معیشت کا خانہ خراب کر دیا گیا……. آزادی کے اس عظیم نعمت کے بعد بڑے بھائی نے ملکی اور بین الااقوامی سطح پر اپنے دفاع کے لیے مظلوم پشتونوں اور بلوچوں کی خون کا نذرانہ پیش کرنے میں کبھی تاخیر نہیں کی……… عدل و انصاف کا معیار بھی کچھ یوں ہے کہ پورے ملک کو ستاسٹھ فیصد بجلی ہم بنا کر دیتے ہیں مگر لوڈشیڈنگ کی تقسیم میں ہمارا پلڑا سب پہ بھاری……. اپنے گھر سے حاصل کیے جانے والے “گیس” جیسے عظیم نعمت سے محروم ھیں…….. ظلم اور بربریت اس انتہا تک کہ انڈیا سے “امن کی آشا” مگر ” بلوچستان،سوات،فاٹا اور وزیرستان پر بموں کی برسات “…….. ہمارے چٹان جیسے جوان “مسخ شدہ” لاشوں میں تبدیل کر دیے گئے……. تعصب ایسی کہ آپ مرے تو “شہید”……میں مروں تو “دہشت گرد”….. آپ ” محب وطن “……..میں “بھارت کا ایجنٹ”…… آپ بولے تو “جمہوریت اور اظہار آزادی”…….ہم بولے تو “آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ”…… صاحب ایمان …….اب آپ ہی بتائے کہ مجھے آزادی کا “جشن” منانا چاہے یا غلامی کا “سوگ”؟

EHSAN KAKAR

   احسان کاکڑ، نمل یونیورسٹی اسلام آباد

Ehsankakar295@gmail.com

THE PASHTUN TIMES

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*