ہمارے صبر کا اور امتحان نہ لیں/ ھمدرد یوسفزی

ہمدرد یوسفزیی

ہمدرد یوسفزیی

بنگلہ دیش (مرحوم ومغفور پاکستان ) کی آبادی پورے پاکستان کی آبادی کا پچپن فیصد تھی ۔تحریک پاکستان کے سب سے زیادہ سرگرم رہنما اور کارکنان کا تعلق بھی بنگلہ دیش تھا ۔قرداد پاکستان پیش کرنے والا بھی ایک بنگالی ہی تھا ۔اس کے برعکس پنجاب میں یونیسٹ پارٹی کا راج تھا جس کے منشور کا اہم نکتہ متحدہ پنجاب کے نام سے ایک ازاد مملکت کا قیام تھا یہ تو بعد میں چالیس کی دہائی کے بعد یونیسٹ پارٹی کا زور ٹوٹا اور پھر یہ لوگ مسلم لیگی بن گئے۔

مسلم لیگی بھی ایسے تھے کہ خود جناح صاحب ان کو کوٹے سکے کہا کرتے تھے ۔ مگر پاکستان کے قیام کے بعد مسلم پنجاب جو پاکستان کے حصے آیا عددی سول اور ملٹری بیوروکرسی پہ ان کا قبضہ ہوگیا اور یوں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت انھوں نے دیگر اقوام کو پوسٹ کالونیل غلامی کے زیر اثر رکھنے کی پالیسی اپنائی بنگال کے لوگوں میں شروع سے سیاسی شعور زیادہ تھا۔

اس لئے انھوں اکہتر میں اکثریت ہوتے ہوئے بھی اقلیت سے ازادی حاصل کی اور یوں دو قومی نظریے جس کے رو سے برصغیر میں دو قوموں (ہندو مسلم اگرچہ مذہب اور قومیت دو الگ چیزیں ہیں ) کا وہ تصور ہی ختم ہوگیا ۔اور جناح اور دیگر مسلم لیگی لیڈرز کے خواب میں خلل آیا باقی ماندہ پاکستان میں پنجاب اس کے بعد ایک واضح اکثریت میں بدل گیا ۔

اور انھوں نے تاریخ سے کچھ بھی نہیں سیکھا دیگر چھوٹی اقوام پشتون سرائکی سندھی اور بلوچوں کے حقوق کو پاکستان کے وسیع تر مفاد کے فارمولے کے تحت لوٹا گیا قارئین دل چھوٹا نہ کریں اور نہ ہی اس کا مطلب نسل پرستی لیں دیگر اقوام کی زبانیں کلچر ثقافت کو علاقائی قرار دے کر ان کی قومی تشخص اور ثقافتی اقدار کی ترقی اور خوشحالی سے پہلو تہی کی گی ۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات ہو یا پھر وزیرستان اور سوات میں بے گھر ہونے والے پشتنوں کا پنجاب جانے والے حالات ہو جس میں انھیں پنجاب جانے سے روکا گیا۔

 اب دو دن پہلے منڈی بہاؤالدین پولیس جس قسم کی پمپلٹ تقسیم کئے کہ کوئی بھی پھٹان افغان جو قہوے اور خشک میوہ جا ت کے کاروبار سے وابستہ ہو ان کی اطلاع فورا پولیس کو دی جائے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپ کس طرح پورے ایک قوم کے بارے ایسا سوچ سکتے ہو ۔ ہم پورے پشتون کمیونٹی کی طرف سے اس طرح کی سوچ کی شدید لفظوں میں مذمت کرتے ہیں اور اسلام آباد میں بھیٹے پشتون نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس طرح کے رویوں کے خلاف قومی اسمبلی اور سینٹ ہر فلور پہ اواز اٹھائیں اور پنجاب کے صاحب اختیار لوگوں سے عرض کرتے ہیں کہ خدا راہ دہشت گردی سے متاثرہ اس قوم کے صبر کا اور امتحان نہ لیں

تحریر:ھمدرد یوسفزی

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*