چائے والے کا ملائی والی تک کا سفر اور الباکستانی منافقت

15726947_1834820940062784_4715389304376219196_nیہ زندگی بھی بڑی عجیب چیز ہے ہر آدمی 24 گھنٹوں میں ضرور ایک دفعہ دل میں سوچتا ہے کہ مال دولت کہاں سے اکٹھا کروں۔امیر کیسے بنوں تاکہ لوگ میری عزت کر سکیں۔مشہور کیسے بنوں کہ لوگ مجھے یاد کر سکیں۔ایسے کیا کام کروں کہ لوگ داد دیں۔خود کو سچا ایماندار،دیندار ثابت کرنے کیلئے مسجد میں پانچ مرتبہ فرض نماز،سال میں ایک مرتبہ حج اور کیا کروں کہ لوگ مجھے پرہیزگار سمجھیں۔انسان یہ بھی سوچتا ہے کے نیویارک سے لے کر لندن واشنگٹن دوبئ اور بارسلونا میں ایک ایک بنگلہ ہوتا ساتھ میں کار،بزنس غرضیکہ ایک اچھی زندگی ہوتی؟ تو کتنا اچھا ہوتا۔ انسان سوچتا ہے کہ اگر یہ سب سہولیات اور اچھی زندگی بنانے کا ایک موقع بھی مل جائے تو ضائع نہی کروں گا۔جو یہ پڑھ رہا ہے یا میں یہ لکھ رہا ہوں سب کی یہی سوچ اور تمنا ہے مگر اس میں انسان کا قصور نہیں یہ فطرت ہے۔

ایک آدمی صبح گھر سے نکلتا ہے اپنے دفتر جاتا ہے سارا دن اُس کے دماغ میں کام کے ساتھ ساتھ پیسہ بنانے کا چکر گھومتا ہے جس کا وہ عادی بن چکا ہوتا ہے۔بذات خود میں نے جب کالج کے فرسٹ ائیر میں داخلہ لیا تو میں دوپہر کے ٹائم رکشہ چلاتا تھا تاکہ خرچہ پانی کا انتظام ہوجائے میں جب کراچی کے شاہراہ فیصل کے ریجنٹ پلازہ سے سواری اٹھا کر کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کلفٹن یا نارتھ ناظم اباد لے جاتا تو ساری راستے یہی سوچتا رہتا کے اخر میں ان کی طرح امیر کیوں نہیں؟ یہ رکشہ ڈرائیور اور میں انکی سواری کیوں نہیں؟ اگر ان کی طرح زندگی بنانے کا موقع ملا تو جانے نہیں دوں گا۔پھر جب سواری اُتارتا دس بیس روپے زیادہ دیتے تو خوشی سے مچل جاتا۔اس طرح اگر ایک غریب 230 روپے دیہاڑی پہ چائے بنانے والے کو ہزاروں لاکھوں روپے کمانے کا موقع مل جائے تو وہ جانے دے گا؟ نہیں کبھی نہیں۔

مجھے اپنے ہم وطنوں کی ایک بات سمجھ میں نہیں اتی اگر چائے بنانے والے ایک نوجوان،ارشد خان کو ایک اچھی زندگی بنانے کا موقع مل جائے تو اس پر ہنسنے یا اُس کو کوسنے کی کیا جسٹی فیکیشین ہے؟ چائے تو سب بناتے ہیں۔ ہماری گھروں میں ماں بہنیں سب ہی تو چائے بناتے رہتے ہیں ۔اگر آپ کے نزدیک ارشد خان کا فلم ڈراموں یا ماڈلنگ کے بے غیرت فیلڈ میں جانا اچھا نہیں تو یہ غیرت والے فیلڈ نے ارشد خان کو کیا دیا؟ 230 روپے دیہاڑی یا پھر اپ کی شکایات کہ پیالہ صحیح نہیں دھویا،چائے صحیح نہیں بنی۔۔۔۔۔ پڑھی لکھی دنیا میں ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھنا باتیں کرنا چائے پینا ایک نارمل بات ہے۔ اس پر بحث کرنا فضول ہے اسلئے اگر ارشد کی تصویریں لڑکیوں کے ساتھ آتی ہیں تو وہ انسانی ذھن پہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ انسان کا ذھن کتنا منفی اور مثبت ہے.

ویسے ایک سوال ہے اگر ارشد کے جگہ میں یا آپ ہوتے تو کیا کرتے؟ میرا تو جواب یہی ہے کے میں بھی وہی کرتا جو ارشد کر رہا ہے اور مجھے یقین ہے کے تقریبآ سب وہی کرتے جو ارشد کر رہاہے۔ایک اور بات یہ کے کچھ لوگ ارشد کے نام کے ساتھ چائے والا لکھنے پہ مذاق اُڑاتے ہیں تو شاید ان کو یہ پتہ نہیں کے پاکستان کے بڑے بڑے تاجروں کے نام بھی ایسے ہی ہے منڈی والا،اللہ والا،پان والا،سگریٹ والا،ہوٹل والا وغیرہ وغیرہ ۔ ۔

زندگی ایک بار ملتی ہے انسانی تقاضوں میں رہ کر گذارنی چاھیئے کسی پر تنقید کرنے سے پہلے خود کو اُس کی جگہ پہ رکھ کے سوچنا چاھیئے باقی زندگی نہ ملے گی دوبارہ ۔ ۔ زندگی بناؤ خود جیو،دوسروں کو جینے دو۔

تحریر: نوربادشاه یوسفزئ

 

دی پشتون ٹائمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*