پشتین ٹوپی

جب سے منظور پشتین کی تحریک کا آغاز ہوا ہے، افغانستان میں بننے والی ٹوپی جسے ’مزاری ہیٹ‘ کہا جاتا ہے، اُس کی مانگ افغانستان بھر کی مارکیٹوں اور پاکستان کے کئی علاقوں میں بڑھ گئی ہے۔ منظور پشتین ’پشتون تحریک‘ کے راہنما ہیں، جنھوں نے عوامی ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں میں یہ ٹوپی پہننا شروع کی۔

سرخ اور سیاہ رنگ کی ’مزاری ہیٹ‘ روایتی ٹوپی ہے، جو زیادہ تر افغانستان کے شمالی صوبہٴ بلخ میں پہنی جاتی ہے۔ حالیہ دِنوں کے دوران یہ پُرامن احتجاج کی علامت بن کر مقبول ہوئی ہے، جسے اب ’پشتین ٹوپی‘ کہا جانے لگا ہے۔

یاما کابل میں ٹوپیاں بیچتے ہیں، جنھیں زیادہ تر افغانوں کی طرح ایک ہی نام سے پکارا جاتا ہے۔

یاما نے بتایا کہ ’’اِسے ’مزاری ہیٹ‘ کہا جاتا تھا، جسے اب ’پشتین ٹوپی‘ کہا جانے لگا ہے۔ ماضی میں یہ ٹوپی ایک ہی ڈیزائن کی ہوا کرتی تھی۔ اب یہ کئی ڈیزائنوں میں آتی ہے، اور خریدار اپنی مرضی کی ٹوپی کا انتخاب کر سکتا ہے۔ لوگ اس ٹوپی کو پسند کرتے ہیں، اور وہ بہت ساری ٹوپیاں خریدتے ہیں‘‘۔

یک جہتی کی علامت

پشتین، جِن کی تحریک کا مقصد پاکستان کی پشتون نسل کی برادری کے لیے انسانی حقوق حاصل کرنا ہے، حالیہ دِنوں اِس بات کی وضاحت کی کہ اُنھوں نے یہ ٹوپی پہننا کیوں شروع کی۔

پاکستان میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، پشتین نے کہا کہ ’’ہمارے لوگ غریب ہیں۔ ایک گاؤں میں ایک نوجوان شخص جو کلینر تھا، اپنی ٹوپی اتارتے ہوئے اُنھیں بتایا کہ وہ بہتر ٹوپی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ میں نے اُن سے کہا۔ یہ مجھے دے دو۔ میں تمہیں اپنی ٹوپی دیتا ہوں۔ پیسے کے لحاظ سے اُس ٹوپی کی کوئی خاص قیمت نہیں ہوگی۔ لیکن، اِس کی اخلاقی قدر انمول ہے‘‘۔

پشتون شکایات

افغانستان میں پشتون سب سے بڑا نسلی گروپ ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ ایک اقلیت ہے۔ جو لوگ کچھ عرصے سے محسوس کرتے ہیں کہ اُنھیں پاکستان میں نظرانداز کیا جا رہا ہے اور نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جنوری میں ماضی کی تلخیاں اُس وقت عروج پر پہنچیں جب کراچی میں 27 برس کا ایک دوکاندار، نقیب اللہ، جو بعد میں ایک ماڈل بنا، پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔

اُس وقت پولیس نے بتایا کہ پاکستانی طالبان کے ایک گروہ کے ارکان کو گولیاں ماری گئیں، جن میں محسود بھی شامل تھا۔ تاہم، داخلی چھان بین کے دوران، اس دعوے پر شہبات پیدا ہوئے، جن میں بتایا گیا کہ محسود کا کسی شدت پسند گروپ سے بظاہر کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اُن کی ہلاکت پر کئی دِنوں تک احتجاج کیا جاتا رہا، جب کہ پاکستان کے شمال مغربی اکثریتی پشتون علاقے میں ہفتے بھر تک ریلیاں نکالی گئیں۔ اس کے نتیجے میں ’پشتین گروپ‘ قائم ہوا، جسے ’پشتون تحفظ تحریک‘ یا ’پشتون تحفظ تحریک‘ کا نام دیا گیا۔

ایک حالیہ فیس بک وڈیو میں، پشتین نے اپنی تحریک کے مطالبات کا اعادہ کیا اور پشتون نسل کی آبادی کے ساتھ مظالم بند کرنے پر زور دیا۔

پشتین نے کہا کہ ’’ہمارے دیس میں لڑائی چل رہی ہے جسے بند ہونا چاہیئے۔ آپ (فوج) نے فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ ہم نے کبھی بھی اِن کی مخالفت نہیں کی۔ اگر آپ طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں، آپ جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن، ہم ماورائے قانون ہلاکتوں، گم شدگیوں اور طالبان کے خلاف لڑائی کے بہانے لوگوں پر ظلم و ستم کے مخالف ہیں‘‘۔

اس احتجاجی تحریک کی ملالہ یوسف زئی نے بھی حمایت کی ہے، جس نوجوان بچی کو ’نابیل پیس پرائز‘ عطا کیا گیا، جنھیں پاکستان مین لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کی بات کرنے کی پاداش میں سر میں گولی ماری گئی تھی۔

اپنے شائقین اور حامیوں کو پیغام دینے کے لیے پشتین نے رفتہ رفتہ سماجی رابطے کے میڈیا کا سہارا لینا شروع کیا ہے، یہ شکایت کرتے ہوئے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اُن کی تحریک کو کوریج نہیں دیتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*