پشتون نیشنل ازم : نئے رحجانات اور اس کی وجوھات ( حصہ چہارم)

ایمل خٹک

ایمل خٹک

پاکستان میں پشتونوں کو دیوار سے لگانے کی تمام لوازمات موجود ھیں ۔ بجائے اس کے کہ سنجیدگی سے آصلاح احوال کی کوششیں کی جاتی اور پشتونوں کے جائیز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا اور حل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ انتہائی منظم انداز میں اور دانستہ طور پر ” گل خان کلچر” کو فروغ دیا جارہا ہے اور روزانہ جعلی ناموں اور سوشل میڈیا اکاؤنٹوں کے زریعے پشتون قیادت کی کردار کشی ، پشتون تاریخ کو مسخ اور سرحد کے آرپار موجود پشتونوں کے درمیان نفرت اور مخاصمت کو ھوا دی جا رہی ہے ۔ گل خان کی اصطلاح کے استعمال کا کچھ دانشور مخالف ھیں ۔ اور ان کی بات کسی حد تک صیع بھی ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کو بڑے دائرے سے خارج ( ایکس کلوڈ ) کیا جا رہا ہے گل خانی سوچ اس وجہ سے موجود ہے کہ سیاسی تربیت کا فقدان ہے اور قوم پرست یا تو اپنا پیغام بہت سے حلقوں اور خاص کر نوجوانوں کو پہنچانے میں ناکام ھیں اور یا پیغام میں کہیں نہ کہیں سقم موجود ہے۔ دوسرا مٹی یا وطن سے محبت اور آزادی کی سوچ میں فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ھر آزادی کی سوچ رکھنے والا محب وطن ھو سکتا ہے مگر ھر محب وطن آزادی چاھنے والا نہیں۔

پشتون بیلٹ یعنی پاکستان کے پشتون علاقے گزشتہ تین دھائیوں سے زائد سرد جنگ اور نئی گریٹ گیم کے اھم محاذ رہے ھیں اور عالمی قوتوں کی سترٹیجک شطرنج اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے.افغان جھاد اور بعد میں دھشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ بیرونی امداد آئ مگر تباہی اور بربادی تو صوبہ پختونخوا اور فاٹا کے حصے میں آئی اور امداد کے فوائد اور اثرات اوروں کے حصے میں آی۔ میدان جنگ تو پشتون بیلٹ بنا یھاں کے باسی جنگ کا ایندھن بنے مگر ترقی کی رفتار کسی اور جگہ تیز رہی رسمی معشیت تو تباہ ھوئی مگر جنگی معیشت ( وار اکانومی ) اور بلیک اکانومی بڑھی۔ ذخیرہ اندوزی ، اسمگلنگ ، بلیک مارکیٹنگ ، اور منظم جرائم جیسے بھتہ خوری اور اغوا براے تاوان وغیرہ سے وابستہ افراد راتوں رات کڑور پتی اور ارب پتی بنے۔ سینکڑوں سول اور ملٹری بیوروکریٹس ، سیاستدانوں ، علماء ، عسکریت پسند کمانڈروں اور قبائیلی سرداروں نے بھی بہتے گنگا میں ھاتھ دھوے اور ارب پتی بنے۔ اگر ایک طرف لاکھوں لوگوں سے سر چھپانے کیلئے چھت چھن گئ تو دوسری طرف ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن جیسے پوش ھاوسنگ منصوبوں کے تعداد تیزی سے بڑھی۔
اس دوران وسیع تباہی اور بربادی کے ساتھ پشتون اجتماعی وجود اور شعور کو شدید زخمی کیا گیا اور ان کے اجتماعی شعور کو جنجھوڑا گیا۔ علاقائی اور عالمی قوتوں نے پشتنوں کی قومی وقار اور عزت نفس کو مجروح کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا اور جانی اور مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ اس کے قومی غرور اور عزت نفس کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا ۔ قومی مشران کی ٹارگٹ کلنگ اور چیک پوسٹوں پر ان کے ساتھ ذلت آمیز اور ناروا سلوک کے زریعے ان کو سر عام ذلیل و خوار کیا گیا ۔ وسیع پیمانے پر بیدخلیوں اور نقل مکانی سے ان کی عزت نفس کے ساتھ ساتھ ان کی گھروں اور زرائع معاش کو شدید نقصان پہنچایا گیا اور انہیں اپنے آبائی گھروں سے دور محتاجی ، لاچاری اور کمتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا ۔ چند سو یا ھزاروں عسکریت پسندوں کو ٹارگٹ اور انٹلی جنس بیس آپریشنوں کے زریعے نشانہ بنانے کی بجائے وسیع علاقوں میں آپریشن کئے گئے اور شورش ذدہ علاقوں کے عوام کے ساتھ اپنوں جیسا نہیں بلکہ دشمنوں جیسا سلوک کیا گیا ۔

شورش زدہ علاقوں میں واپس گئے افراد کی شکایات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ھوئے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی نہ تو باعزت واپسی ھوئی اور نہ ان کی مناسب طریقے سے بحالی کے انتظامات۔ مثال کے طور پر شمالی وزیرستان کے قبائل گوناگوں مشکلات اور مسائل سے دوچار ھیں ۔ جبکہ حکومت ان کے مسائل اور مطالبات حل کرنے کی بجائے الٹا ان کی زمینوں ، معدنی وسائل اور چلغوزے کی منافع پر ناجائز اور بزور قبضے کے زریعے ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ شمالی وزیرستان آئ ڈی پیز کی واپسی کے بعد اپنے جاھیز مطالبات کے حق میں اور حقوق کی حصول کیلئے ان کے احتجاجی مظاھروں اور بیانات میں اضافہ ھو رہا ہے۔ جبکہ حکومت ٹس سے مس نہیں ھو رہی ہے جس کی وجہ قبائلی عوام میں غم وغصہ بڑھ رہا ہے اور سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیاں بڑھ گئی ہے۔

سوات اور بعض دیگر شورش زدہ قبائل علاقوں میں امن پسند اور حقوق کیلئے سرگرم عمل افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس طرح پختونخوا کے دیگر علاقوں میں قوم پرست اور جمہوری سیاسی سوچ رکھنے والے راھنماوں اور کارکنوں کی پرسرار ھلاکتوں جس کو عرف عام میں ٹارگٹ کلنگ کہتے ھیں سلسلہ جاری ہے ۔ اوروں کے علاوہ صوابی میں اے این پی کے شعیب خان اور بنوں میں حالیہ دنوں میپ کے خلیل سرباز کی شہادت قابل ذکر ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا قول ہے کہ نامعلوم افراد کے ھاتھوں قتل ھونے والے مقتول کے قاتل حکمران ھوتے ھیں ۔ سوات اور قبائیلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں ایجنسیوں پر کھلے عام شک کیا جاتا ہے۔ اور اس ضمن میں کافی قصے کہانیاں سینہ بہ سینہ چل رہی ہے۔

دوسرا شورش زدہ علاقوں خاص کر قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی عملداری ختم ضرور ھوئی ہے مگر طالبانیزئشن کا عمل کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ۔ اور عسکریت پسند چاہے گڈ طالبان کی شکل یا کسی اور شکل میں ابھی تک موجود ہے ۔ اس طرح ریاستی اداروں کا امن پسند اور قومی مشران کے ساتھ ناروا سلوک ابھی تک برقرار ہے ۔ جس کی حالیہ مثال وانا میں میرزا عالم مارکیٹ کو گرانا ہے ۔

اس عظیم قومی ٹریجڈی کے ذمہ دار بیرونی کے ساتھ ساتھ اندونی عوامل بھی ھیں جو شعوری یا لا شعوری طور پر علاقائی اور عالمی قوتوں کی سازشوں کا حصہ بنے اور اس کو پروان چڑھایا۔ بعض سادہ لوح پشتون یا ان کا لبادہ اوڑھے پشتون نما کرداروں کے زریعے قومی وقار اور عزت نفس کو قسماقسم طریقوں سے مجروح کیا گیا۔

پشتنوں کی ثقافت کو شعوری طور پر آلودہ کیا گیا ۔ جہادی سرگرمیوں کی مرکز ھونے کی حیثت سے پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں نفرت ، فرقہ واریت اور تشدد کی کلچر کو فروغ دیا گیا اور تشدد کی نئی نئی شکلیں متعارف کرائی گی اس طرح ھر نئے پراجیکٹ کے ساتھ تشدد اور خوف و ھراس پھیلانے کے نئے طریقے آئے۔ افغان جہاد کے دوران پہلے وہابیت اور پھر اس کے بعد اس کے مزید تنگ نظر نظریات مثلا تکفیری سوچ نے پشتون معاشرے میں کافی سرایت کی اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا۔ تنگ نظر مذھبی سوچ کے نتیجے میں فرقہ واریت میں شدت کے ساتھ ساتھ تمام دیگر مسلکوں اور فرقوں کے لوگوں سے نفرت اور امتیازی سلوک میں اضافہ ھوگیا ۔ سکولوں خاص کر بچیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ مزارات کی مخالفت کی وجہ سےپشتون صوفیاء اور شاعروں کے قبروں کو بھی اڑانے کی کوشش کی گی حالانکہ وہاں دیگر مزاروں کی طرح لوگ منتیں مانگنے یا چڑھاوے چڑھانے نہیں جاتے۔

پاکستانی ریاست اور ریاست کی پروردہ میڈیا اور دانشوروں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنی تنگ نظر اور محدود ( ایکس کلوسیو) پالیسیوں کی وجہ سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر بار بار قوم پرست جماعتوں کی حب آلوطنی اور وفاداری کو چیلنج کر رہی ہے جو چھوٹی قومیتوں کو علیحدگی پسند سوچ کو زندہ رکھنے پر مجبور کر رہی ہے ۔ ریاستی دانشوروں نے نہ تو مکمل طور قوم پرست بیانیوں کو سمجھنے کی کوشش کی اور نہ اختلاف نظر کو برداشت کیا ۔ اور مزید یہ کہ ریاستی دانشور قوم پرست بیانیوں کی بڑی بھونڈے اور منفی انداز میں تشریح کرتے رہے۔

قوم پرست سیاست میں نظریاتی طورر چار تبدیلیاں اھم ہے ۔ جس کی درجہ بندی میں اس طرح کرتا ھو۔ آزادی پسند قوم پرستی ، علیحدگی پسند قوم پرستی ، وفاق پرست قوم پرستی اور نیو علیحدگی پسندی۔ قیام پاکستان تک آزادی پسند قوم پرستی رہی۔ پاکستان بننے کے بعد آزادی پسند خیالات علیحدگی پسندی میں تبدیل ھوگئے۔ اور سترویں کے آخر اور آسی کی دھائی میں قوم پرستی میں ایک نظریاتی بدلاؤ آیا اور وفاق پرستی میں تبدیل ھوگئ ۔

اب گزشتہ چند سالوں میں نیو علیحدگی پسند رحجانات کا ظہور شروع ھوگیا۔ بعض مایوس اور ناراض سیاسی کارکن جو عرصہ دراز تک کسی سیاسی تحریک کا فعال حصہ نہیں رہے اور یا وہ نوجوان جو پشتون بیلٹ میں جاری سوشیو-اکنامک اور سیاسی تبدیلیوں سے متاثر ھیں علیحدگی پسند رحجانات کی طرف راغب ھیں ۔ نیو علیحدگی پسندوں کی اکثریت مخلص اور جذباتی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو قومی حقوق کیلئے ھر قدم اٹھانے کیلئے تیار ہے۔ بدقسمتی سے ایک محدود تعداد ان مفاد پرست عناصر کی بھی ہے جو علاقے میں بڑھتی ھوئی کشیدگی اور تناؤ کی فضا میں پراکسی وارز کا ایندھن بن کر اپنا آلو سیدھا کرنا چاھتے ھیں ۔ نیو علیحدگی پسندوں کے پاس کوئی واضع اور ٹھوس پروگرام نہیں بلکہ چند پر کشش جذباتی نعرے ہے۔ اور اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنے کے بہانے مروجہ سیاسی جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ھیں ۔ خدشہ یہ ہے کہ نہ تو کوئی متبادل قوت وجود میں آجائیگی اور مروجہ سیاسی جماعتوں کو مزید کمزور کیا جائیگا ۔ جس سے غلامی کی جڑیں مضبوط ھوجائیگی ۔

نئی علیحدگی پسند سوچ ابھرنے کی وجوھات درج ذیل ھیں ۔ پشتونوں میں مایوسی پھیلنے کی ایک وجہ جیوئن قیادت کا فقدان بھی ہے۔ موجودہ قوم پرست قیادت کا عوام سے تعلق کمزور ھوتا جارہا ہے ۔ بدعنوانی ، اقرباروری اور دیرینہ مخلص کارکنوں کو نظر انداز کرنے اور مفاد پرست اور زاتی وفاداروں کو ترجیع دینے کی وجہ سے کافی ناراضگی اور غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ موروثی سیاست یا سیاست میں خاندانی مفادات کو فوقیت دینے سے بھی کارکنوں اور حامیوں میں بے دلی اور عدم دلچسپی بڑھی ہے ۔ سیاسی رقابت اور حسد کی وجہ سے دشمن کی بجائے قوم پرست جماعتوں کے راھنما اور کارکن ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں اور کردار کشی میں مصروف رہتے ھیں۔ قیادت کی ترجیحات اور عوامی مطالبات اور مسائل میں کوئی جوڑ نہیں یعنی ڈس کنیکٹ موجود ہے ۔ قیادت اور عوام میں دوریاں اور خلیج بڑھ رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے عوام میں اور خصوصا دانشور طبقے میں سیاست سے لاتعلقی یا بیگانگی بڑھی۔

اس طرح افغانستان میں جاری مداخلت کی وجہ سے بھی بے چینی اور غم وغصہ کے جذبات موجود ھیں۔ غلط پالیسیوں اور نئے ناقص بارڈر منجمنٹ کے انتظام سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اب متبادل راستے تلاش کر رہی ہے ۔ اس طرح پہلے طورخم اور اب چمن بارڈر پر کشیدگی اور اب سرحد پر مقامی قبائل کی نقل و عمل پر پابندیوں سے پشتون تاجروں ، ٹرانسپورٹروں اور دیگر متعلقہ کاروباروں سے وابستہ افراد اورسرحدی علاقوں کے عوام کی اقتصادی قتل عام شروع ہے۔ پاک-افغان سرحدی علاقوں کے لوگ پہلے سے بد آمنی کی وجہ سے بدحال اور پریشان تھے اب نئی بارڈر منجمنٹ پالیسی سے متبادل روزگار کا انتظام کئیے بغیر لاکھوں قبائلیوں کو زرائع آمدن سے محروم کیا جا رہا ہے۔

طاقتور حکمران طبقات کے کنٹرول اور فرسودہ قومی سلامتی کے بیانیوں کی وجہ سے عوامی بیانیوں یعنی عوام کی رائے، مسائل ، مشکلات اور مطالبات کو دبایا جاتا ہے۔ فاٹا کا بہت عرصے تک اور بلوچستان کا ابھی تک میڈیا بلیک اوٹ ہے اور عوامی مسائل اور شکایات کو مین سٹریم میڈیا میں کوریج سے روکا جاتا ہے۔ شورش زدہ علاقوں میں اھم واقعات کی خبریں اور رپورٹنگ کنٹرول کی جاتی ہے اور صرف ریاستی اداروں کے نکتہ نظر کو سامنے لایا جاتا ہے۔ میڈیا کو صرف سرکاری ھینڈاوٹس اور پریس ریلیز شائع کرنے کا اختیار ھوتا ہے۔ اس صورتحال میں مظلومیت اور محرومی کا احساس بڑھتا ہے۔ پچھلے سال وانا جنوبی وزیرستان کے نواح میں کرکٹ کا میچ جیتنے کی خوشی میں خوشیاں منانے پر جب عسکریت پسندوں نے نوجوانوں کو روکنے کی کوشش کی اور گولیاں چلائی جس ایک نوجوان ھلاک ھوا تو سیکورٹی اداروں نے اس خبر کو قومی سلامتی کے نام پر روکنے کی سرتوڑ کوشش کی۔

نفسیات دان زیادہ تفصیل اور بہتر انداز میں اس بات پر روشنی ڈال سکتے ھیں کہ بے بسی اور لاچاری کی فضا بھی لوگوں میں ریڈیکل سوچ کو جنم دیتے ھیں ۔ اور تبدیلی لانے کی کوشش میں وہ پورے نظام کو بدلنے کی کوشش کرتے ھیں ۔

بہت سے لوگ اگرچہ ابھی تک موجودہ آئینی اور جغرافیائی ڈھانچے کے اندر معاملات کو دیکھنے اور حل کرنے کا سوچ رکھتے ھیں مگر نوجوان نسل نے دوسرے زاویوں سے بھی چیزوں کو دیکھنا شروع کیا ہے۔ اگرچہ ابتدائی ہی سہی مگر ادھر اُدھر سے مختلف آوازیں اٹھنا شروع ھوگئی ہے۔ اگر صورتحال اس طرح جاری رہی تو یہ کمزور آوازیں آگے جاکر مضبوط ھو سکتی ہے۔

پاکستان میں علیحدگی پسندی خاص کر بلوچ سرمچاریوں کی سرگرمیوں کے بعد دیگر قومیتوں کو بھی شہہ مل رہی ہے اور بلوچ سرمچاری بھی پشتنوں اور سندھیوں کو طعنے یا ترغیب دیتے ھیں ۔ گزشتہ تین ساڑھے تین دھائیوں کے حالات اور واقعات نے بھی پشتون تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ایسا سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

یہ سوال کہ پشتونوں کے مسائل موجودہ جغرافیائی فریم ورک کے اندر رہتے ھوئے حل ھو سکتے ھیں یا اس سے علحیدگی میں انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ سوال ہے۔ جس کیلئے کافی غور و حوض اور سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ قوموں کی تاریخ میں ایسے سوالوں کے جوابات جوش سے نہیں ھوش سے ڈھونڈے جاتے ھیں ۔ آزادی جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ ضروری مشاورت کے زریعے بنائے گئے ایک ٹھوس عملی پروگرام سے حاصل ھوتی ہے۔ جہدوجہد میں نعروں کی اھمیت کی بہت زیادہ اھمیت ھوتی ہے اور کوئی بھی سیاسی ورکر اس کی اھمیت سے انکار نہیں کرسکتا ۔ مگر نعرہ برائے نعرہ نہیں ھوتا بلکہ نعرے سیاسی شعور اور عملی جہدوجہد کی آئینہ دار اور ھر معاشرے کے مخصوص معروضی اور موضوعی صورتحال کی پیداوار ۔

تحریر: ایمل خٹک

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*