پشتون نیشنل ازم : قومی آزادی سے صوبائی خودمختاری ( حصہ سوم)

ایمل خٹک

ایمل خٹک

بہت سی سوشیو- پولیٹکل اور معاشی وجوھات کی بناء پر قومی آزادی کی سوچ کمزور ھوتی گئی ۔ اور قومی آزادی کی سوچ کی جگہ صوبائی خودمختاری کی سوچ غالب آتی گئی۔ سوچ میں یہ تبدیلی کسی سازش یا قیادت کی سوچ میں کسی فتور کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹھوس معروضی وجوھات کی وجہ سے آئی۔ سیاست کوئی جامد عمل نہیں یا خلاء میں نہیں کی جاتی بلکہ سیاست ایک تغیر پزیر سماج میں کی جاتی ہے اور یہ ایک حرکی ( ڈائنا مک ) عمل ہے۔ سیاسی مظاھر ٹھوس سوشیو -اکنامک تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بدلتے ھیں۔ سوچ میں اس تبدیلی کے پیچھے بھی ٹھوس سوشیو- پولیٹکل اور ثقافتی تبدیلیاں ھیں۔

آزادی کے نعرے کو کئی داخلی اور خارجی قوتوں نے وقتا فوقتا اپنے اپنے سیاسی اور سٹرٹیجک مفادات کیلئے استعمال کیا ہے۔ مگر بہت سے پشتون سیاسی کارکنوں اور دانشوروں کیلئے یہ ایک آئیڈیل رہا۔ سال 1973 کے بعد پشتون اور بلوچ نوجوانوں کی مسلح جہدوجہد کے بعد آھستہ آھستہ یہ سوچ کمزور پڑگئ ۔

آزادی کے تصور کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت پہنچا جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پشتونوں اور بلوچوں کی شروع کئ گئی مھم جوئی ناکام ھوگئی ۔ دلچسپ بات یہ کہ گوریلہ جنگ تو شروع کی گئ مگر اس وقت آزادی کا کوئی ٹھوس نعرہ یا پروگرام نہیں دیا گیا۔ اور آخر تک یہ کنفیوژن رہی کہ آیا یہ گوریلا جنگ آزادی کیلئے تھی یا حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے اور بہتر سوداکاری ( بارگینگ ) کیلئے۔

  • آزادی کی سوچ کو دوسرا دھچکا افغانستان میں مجاھدین کی حکومت کے قیام سےپہنچا جب افغانستان میں پاکستان کے اندر پشتونوں اور حتی کہ بلوچوں کی پشت پنائی کرنے والی قوتیں کمزور ھوگی ۔ اس طرح اس شفٹ کے پیچھے اور وجوھات کے علاوہ پشتون سیاسی دانشوروں کے اس احساس کا بھی عمل دخل تھا کہ بیرونی قوتوں پر ان کا تکیہ کرنا ایک غلطی تھی اور جو کچھ بھی کرنا ھے وہ انہوں نے اپنے بل بوتے پر کرنا ھے۔ افغانستان میں کمیونسٹ رژیم کے خاتمے کے بعد کی سیاسی تبدیلیوں نے بھی پشتون سیاسی دانشوروں کی سوچ میں بیرونی کی بجاہے اندرونی عوامل پر توجہ مرکوز کرنے کی سوچ میں تبدیلی کے عمل کو تیز کیا۔ اس طرح علیحدہ ریاست کا خواب خودمختار صوبوں یا صوبائی خودمختاری کی تحریک میں بدل گئی۔

    تیسری جھٹکا پشتون بیلٹ کی پاکستان کے دیگر علاقوں سے سوشیو-اکنامک رشتے مضبوط ھونے سے ملا۔ شروع میں یعنی افغان جہاد کے دوران جہاد کیلئے بے پناہ بیرونی سرمایہ آنے سے مقامی کاروبار اور صنعت کو ترقی ملی۔ روزگار کے کافی موا قع پیدا ھوئے اور مقامی کاروبار اور صنعت کا ملک کے دیگر خاص کر بڑے صنعت کاروں اور کاروبار ی افراد سے روابط بڑھے۔ پشتون سرمایہ داروں کو مختلف وفاقی صنعتی اور کاروباری انجمنوں میں رکنیت بڑھی اور نتیجتا ” نمائندگی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ھوا۔ بعد میں طالبان اور خاص کر پشتون علاقوں میں طالبانیزیشن سے بدامنی اور شورش پھیلنے کی وجہ سے شورش زدہ پشتون علاقوں میں زرائع آمدن اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ھوئی۔ اور بدامنی کی وجہ سے ان علاقوں سے ملک کے دیگر حصوں میں معاشی اور سیاسی مہاجرت میں بھی اضافہ ھوا۔ اس میں شک نہیں کہ نقل مکانی سے کئی افراد کی زندگی میں بہتری بھی آئی ہے۔ سندھ کے علاوہ پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں خاص کر جی ٹی روڈ یا بڑی بڑی شاھراوں پر پشتون آبادی میں اضافہ ھوا ھے اور شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر جگہ جگہ خان مارکیٹوں ، باڑہ مارکیٹوں ، شاپنگ پلا زوں اور ھو ٹلوں وغیرہ کے جال بچھ گئے ھیں۔ پشتونوں کی جائدادیں اور کاروبار اب محسوس ھونا شروع ھوگئی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے اکثر پشتونوں کو یا تو ان کو اپنی قوت کا اندازہ نہیں یا وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے مگر ان کی سماجی اور سیاسی حیثت میں اضافہ ھوا ہے۔

    بلوچ یا سندھی دوستوں کا یہ کہنا بیجا بھی نہیں کہ پشتونوں کا ایک طبقہ یا قشر بھی حکمران طبقات یا سیاسی اشرافیہ کا حصہ بن گئے ھیں۔ جونئیر پارٹنر صیح مگر پشتون اشرافیے کے ایک حصہ کا شمار حکمران طبقات میں ھونے لگا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ عام پشتون گزشتہ بیس پچیس سالوں میں معاشی طور پر بڑا بدحال ھوا ہے ۔ کیونکہ پشتون اشرافیہ نے مقامی انڈسٹری اور کاروبار میں بہت کم سرمایہ کاری کی ۔ اور پشتون بیلٹ میں مسلسل بدامنی نے بچے کھچے صنعتوں کا بھی پٹہ بٹھا دیا ۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا نہ ھوسکے اور پہلے سے موجود صنعتیں بند ھونے سے پشتون بیلٹ میاں بیروزگاری میں خاطر خواہ اضافہ ھوا۔

    تحریر: ایمل خٹک

    دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*