پشتون تحفظ موومنٹ کیخلاف ریاستی ہتھکنڈے؟ روشان خان

پشتون تحفظ موومنٹ کیخلاف ریاستی ہتھکنڈے؟
تحریر: روشان خان


پشتون تحفظ موومنٹ کی مزاحمتی عمر لگ بھگ تین ماہ ہے مگر اس نوخیز تحریک نے پاکستان کی مقتدرہ قوتوں کو ہلا کے کر رکھ دیا ہے۔
مطالبے مختصر اور پاکستان کے آئین کے عین مطابق ہیں۔
نقیب محسود کے قتل میں ملوث پولیس افسر راو انور کو سزا، فاٹا میں بچھائے گئے بارودی سرنگوں کی صفائی، فاٹا میں کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد فوج کی طرف سے کرفیو نہ لگانا، چیک پوسٹوں پر لوگوں کو تنگ نہ کرنا اور فوجی کاروائیوں کے دوران مبینہ طور پر غائب کیئے گئے شہریوں کو عدالت میں پیش کرنا پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر مطالبوں کا براہ راست تعلق فوج سے ہے اور فطری بات ہے کہ جلسوں کے دوران تنقید فوج پر ہی ہوگی۔
اس موومنٹ کے نعرے نہ صرف سخت ہیں بلکہ اس تحریک کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ہونے والے مظالم کی وہ ہیبت ناک داستانیں لے کر آئے ہیں جنہیں سن کر تاریخ کے طالب علم کے ذہن میں نازی جرمنی کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔
فاٹا، سوات اور دیگر علاقوں سے باہر رہنے والوں کو فوجی کاروائیوں کی تفصیلات پاکستانی میڈیا کے ذریعے ملتی تھیں جبکہ میڈیا کو یہ معلومات فوج کی شعبہ تعلقات عامہ فراہم کرتی تھی۔
تو ایسے میں عام پاکستانیوں کا دہشت گردی کے خلاف بیانیہ وہی تھا جو پاکستانی فوج کا تھا۔
لیکن پشتون تحفظ موومنٹ نے جلسوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق بیان کرکے اس فوجی بیانیے کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا اور ایک متبادل بیانیہ سامنے لے کر آیا ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ دہشت کے خلاف جنگ ڈالروں کے لئے لڑی گئی ایک ایسی مصنوعی جنگ تھی جو دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ فاٹا، سوات اور دیگر علاقوں کے پاکستانی شہریوں  کے خلاف لڑی گئی ہے۔
اب بھلا فوج کو ایسی تحریک کہاں گوارا ہوسکتی ہے۔
ریاستی ادارے نے پشتون تحفظ موومنٹ کو ناکام بنانے کے لئے ایک کثیرالجہتی حکمت عملی تشکیل دے دی ہے
چونکہ پشتون تحفظ موومنٹ ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ اس میں تقریباً ہر پارٹی کے لوگ شامل ہیں تو سب سے پہلے مختلف سیاسی پارٹیوں کو آمادہ کیا گیا کہ وہ اپنے کارکنوں کو اس تحریک سے دور رکھیں۔
اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی سے رابطہ کیا گیا جس نے پشتون تحفظ موومنٹ میں سرگرم اپنے کارکنوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیئے۔
اس کے بعد اسفندیار ولی کے بیٹے ایمل ولی نے ایک جلسے کے دوران کارکنوں کو پشتون تحفظ موومنٹ سے دور رکھنے کی ہدایت کی مگر کارکنوں کی طرف سے شدید ردعمل آنے کے بعد وہ نہ صرف خاموش ہوگئے  بلکہ پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین سے بیان دلوائی گئی کہ پی ٹی ایم کے مطالبات برحق ہیں۔
لیکن درون خانہ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت ( کارکن نہیں) طریقے طریقے سے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
جس دن پشتون تحفظ موومنٹ کا سوات میں جلسہ تھا اسی دن جلسے میں لوگوں کی تعداد کو کم رکھنے کی خاطر  عوامی نیشنل پارٹی، آفتاب شیرپاؤ کی قومی وطن پارٹی اور پیپلز پارٹی نے مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں جلسے کئے۔
پشتون تحفظ موومنٹ نے بارہ مئی کو کراچی میں جلسہ کرنا ہے اور اسی روز عوامی نیشنل پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی جلسے کی کال دی ہے۔
چونکہ فاٹا کے تمام انتظامی اختیارات فوج کے ہاتھوں میں ہیں اور یہی علاقہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مرکز رہا ہے اسی لئے پشتون تحفظ موومنٹ یہاں مقبولیت مثالی ہے۔
اس مقبولیت کو کم کرنے کے کئے بظاہر عمران خان کو ٹاسک دیا گیا ہے۔
جب بھی فوج نے کسی پر دباو ڈالنا ہوتا ہے یا خود پر دباو کم کرنا ہوتا ہے تو وہ عمران خان صاحب کو آگے کر دیتی ہے۔
عمران خان نے مردان کے جلسے میں پشتون تحفظ موومنٹ پر دبے دبے الفاظ میں تنقید کی اور اب انہوں نے گیارہ مئی کو شمالی وزیرستان میں جلسے کا اعلان کردیا ہے۔
حالانکہ اسی شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کو دو ماہ قبل جلسے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور جب پی ٹی ایم نے ہر حال میں جلسہ کرنے کی ضد کی تو اس سے میر علی علاقے کے ایک چہاردیواری میں جلسے کی اجازت دی گئی۔
مگر اس دوران گھر گھر جاکر لوگوں کو جلسے میں شرکت کرنے سے روکا گیا اور علاقے میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوخودکش بمبار میر علی میں داخل ہوگئے ہیں جو کسی وقت بھی حملہ کرسکتے ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف انتظامیہ کی سطح پر بھی اقدامات کئے گئے ہیں۔
لاہور میں تو پہلے جلسے کی اجازت ہی نہیں دی گئی اور  جب مجبوراً اجازت دینی پڑی تو موچی دروازے کے گراونڈ میں گندا پانی چھوڑ دیا گیا اور سٹیج پر بد بو پھیلانے کے لئے مردہ جانور پھینکے گئے۔
جلسے سے ایک رات قبل پی ٹی ایم کے رہنماؤں علی وزیر اور دیگر ساتھیوں کو اینٹی ٹریرسٹ سکواڈ نے حراست میں لیا، انہیں زد کوب کیا گیا، غدار کہا گیا اور ان کے موبائل فونوں سے  ڈیٹا ڈانلوڈ کیا گیا۔
اس سے قبل بلوچستان کے شہروں ژوب، قلعہ سیف اللہ اور کوئٹہ میں جلسوں کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت منظور پشتین، علی وزیر، محسن داوڑ اور دیگر ساتھیوں کے خلاف نامعلوم افراد نے ایف آئی آرز درج کیئے۔ دنیا میں یہ اعزاز شاید پاکستان کو ہی حاصل ہے جہاں پر نامعلوم افراد معلوم شہریوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہیں۔
ژوب شہر میں جلسے کے لئے جگہ نہیں دی گئی اور جب اس میں ناکامی ہوئی تو جلسے سے ایک دن قبل فرنٹیر کور والوں نے اسی گراونڈ میں تقریب منعقد کی جس میں گنے چُنے لوگوں نے شرکت کی۔
سوات میں بھی جلسے سے قبل ایڑھی چوٹی کا زور لگایا گیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ جلسہ منعقد نہ کرسکے۔
انتظامیہ نے موومنٹ کو مینگورے کے گراسی گراونڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی حالانکہ اسی گراونڈ میں فوج کی طرف سے پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف بنائی گئی پاکستان تحفظ موومنٹ کو جلسے کی اجازت دی جس کی قیادت ایک ایسے شخص نے کی جس سے میڈیا رپورٹس کے مطابق کرپشن کے الزام میں فوج سے نکال دیا گیا تھا۔
اسی گراونڈ میں کلعدم تحریک نفاذ محمد کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو جلسے کی اجازت دی گئی جنہوں نے دوران تقریر پاکستان کی سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کو ماننے سے انکار کردیا۔
دوسری طرف پشتون تحفظ موومنٹ ہے جو اصل میں پاکستان کی آئین پر عملدرآمد کا مطالبہ کررہا ہے۔
مضحقہ خیز بات یہی ہے کہ جو عدالت کو رد کرتا ہے انہیں بولنے کی اجازت ہے اور جو عدالت کی بالادستی کے لئے جدوجہد کررہا ہے ان کے زبانوں پر تالا لگایا گیا ہے۔
فوج کی ایماء پر مقامی انتظامیہ نے پی ٹی لوگوں کی کم تعداد میں شرکت کو یقینی بنانے کے لئے پی ٹی ایم کو مینگورے شہر سے دور کبل کے علاقے میں جلسے کی اجازت دی۔
اس دوارن لوگوں کو امن کمیٹیوں کے ذریعے دھمکایا گیا کہ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں شرکت نہ کریں۔
جبری طور پر لاپتہ افراد کی خواتین کو یہاں تک دھمکایا گیا کہ اگر جلسے میں شرکت کی تو گھر کے دیگر افراد کو بھی لاپتہ کردیا جائے گا۔
لیکن جب انہوں نے کی شرکت کی تو اس کے اگلے روز خفیہ  ایجنسیوں کے اہلکار ان کے جا جا کر انہیں ہراساں کررہے ہیں۔
دوسری طرف میڈیا کو کہا گیا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں کی کوریج نہ کریں حالانکہ اس موومنٹ کے خلاف بنائی گئی پاکستان تحفظ موومنٹ اور پاکستان زندہ باد موومنٹ کے سرگرمیوں کو مکمل کوریج دی جارہی ہے۔
ایک چشم دید گواہ جو کہ خود بھی صحافی ہیں نے بتایا کہ پشاور کے جلسے میں جب ٹی وی سے وابستہ ایک صحافی نے لائیو کوریج شروع کی تو میں وہاں کھڑا تھا اور آئی ایس پی آر کے ایک کرنل صاحب کا فون آیا اور اس نے صحافی کو لائیو کوریج بند کرنے کا حکم دیا۔
اس کے علاوہ پاکستان کے اردو اور انگریزی اخبارات کو کہا گیا ہے کہ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں نہ رپورٹ شائع کریں اور نہ ہی کوئی کالم۔
اس کی واضح مثال پاکستان کے اخبارات کی جانب سے مبشر زیدی، بابر ستار اور افراسیاب خٹک کے کالمز کو چھاپنے سے انکار ہے۔
جب دی نیوز آن سنڈے نے خان زمان کاکڑ اور فرمان کاکڑ کے کالم شائع کئے تو کچھ دیر بعد ان تحریروں کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔
چونکہ پشتون تحفظ موومنٹ کا زیادہ انحصار فیسبک اور ٹویٹر پر ہے تو یہاں پر بھی موومنٹ کے خلاف پروپیگنڈہ زوروں پر ہے۔
جعلی آئی ڈیز اور چند نوجوانوں کے ذریعے پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔
موومنٹ کی لیڈرشپ کے خلاف دھمکی آمیز ویڈیوز جاری کیئے جارہے ہیں۔
اس کے علاوہ جب بھی پشتون تحفظ موومنٹ کا جلسہ ہوتا ہے تو انٹرنیٹ سروس یا تو بند کردی جاتی ہے یا اس میں خلل ڈال دی جاتی ہے۔
کئی بار ایسا بھی ہوا ہے کہ جب پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ فیسبک پر لائیو آتے ہیں تو انٹرنیٹ میں خلل ڈال دی جاتی ہے۔
قبائلی سطح پر بھی پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف چند مراعات یافتہ مشران اور اسمبلی ممبرز کو استعمال کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
اس کے ساتھ آئے روز پاکستان کے مختلف علاقوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے سرگرم کارکنوں کو لاپتہ کرکے ان پر دباو ڈال پی ٹی ایم کے احتجاجی مظاہروں کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کراچی، دیر، چمن اور باقی علاقوں میں پی ٹی ایم کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کو نامعلوم فون ممبرز سے فون آتے ہیں، پنجاب کے بعض یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پشتون طلبا کو تعلیمی اداروں سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
ان نوجوانوں کے خاندان والوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں سے دور رکھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*