پشتون تحفظ موومنٹ: پشتون اقلیتوں کو بھی ان کا حق نہیں مل رہا, رادیش سنگھ ٹونی

جلسے کے شرکامیں ایک بڑی تعداد لاپتا افراد کے لواحقین کی بھی تھی جنہوں نے اپنے پیاروں کی تصاویر اُٹھائی ہوئی تھیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک کے پانچ مطالبات ہیں جن میں نقیب اللہ کے قتل میں ملوث ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو سزا دلانا، لاپتا افراد کی واپسی اور عدالتوں میں پیشی، ماورائے عدالت قتل ہونے والے افراد کے لیے عدلتی کمیشن کا قیام، قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی اور فوجی چوکیوں پر پر پشتونوں کی مبینہ تذلیل روکنا شامل ہیں۔

جلسے میں موجود ‘آل پاکستان سکھ سوسائٹی’ کے صدر رادیش سنگھ ٹونی نے کہا کہ ہم پشتون اقلیتوں کو بھی ان کا حق نہیں مل رہا۔

انہوں نے کہا کہ مناسب جگہیں نہ ہونے کے باعث وہ آج تک اپنے مروں کو 80 کلومیٹر دور لے جا کر دفن کرنے پر مجبور ہیں۔ سکھ رہنما نے کہا کہ ان کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کے مجرموں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔

یاد رہے نقیب اللہ محسود کے کراچی میں مبینہ ماورائے عدالت قتل کے بعد ‘پشتون تحفظ موومنٹ’ نے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے فروری میں اسلام آباد میں کامیاب دھرنا دیا تھا جو کئی روز تک جاری رہا تھا۔

اس دھرنے کے بعد یہ تحریک بلوچستان، قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں اپنے مطالبات کے لیے احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کرچکی ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

لیکن جیسے جیسے اس تحریک کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے ویسے ویسے اس کے خلاف بھی بالخصوص انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے آواز بلند ہورہی ہے۔ کئی افراد اس تحریک پر قوم پرستی کو فروغ دینے اور ملک دشمنوں کے آلۂ کار ہونے کا الزام بھی لگارہے ہیں۔

تاہم تحریک کے سربراہ منظور پشتین کا موقف ہے کہ پاکستان کے مقتدر ادارے ان کی تحریک سے خائف ہیں اور اسی لیے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف نہ صرف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*