پاکستان کی سماجی بیماری، علامات اور اثرات/ ایمل خٹک 

ایمل خٹک

ایمل خٹک

سوشل میڈیا پر حالیہ کریک ڈاؤن پر جاری بحث کے تناظر میں کئ معاشرتی مسائل سامنے آرہے ھیں ۔ جس میں سے ایک اھم مسلہ معاشرے میں بڑھتی ھوئی ایکس کلوسیو نیس بھی ہے۔ ایک ریس لگی ھوئی ہے کوئی ان بلاگرز کو حب آلوطنی کے دائرے سے نکال باھر کر رہے ھیں کوئی مذھبی یا فرقے یا مسلک کی۔  ایکس کلوسیونیس ایک معاشرتی بیماری ہے۔ جب ھم بیمار معاشروں کی بات کرتے ھیں تو بیمار معاشروں سے ھماری مراد کیا ھوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ کونسی معاشرتی علامات ھونگی جس کی بنیاد پر ھم کسی معاشرے کو بیمار معاشرہ کہہ سکتے ھیں ۔ بیمار معاشرے کی پہچان کیا ہے۔ بیماری کی علامات کیا ھونگی اور اوراس کے معاشرے پر اثرات کیا ھونگے۔ کوئی بھی سماجی امور کا ماھر اس کی مختلف تعریف کرسکتا ہے ۔

مگر میرے خیال میں کسی معاشرے کی صحت اور بیماری جانچنے کا کئی پیمانوں میں سے ایک بنیادی پیمانہ اس میں ایکس کلوسیونیس ہے۔ مطلب کسی معاشرے میں ایکس کلوسیونیس کی سطح جتنی زیادہ ھوگی اتنا وہ معاشرہ بیمار ھوگا ۔ ایکس کلوسیو نیس اس عمل کو کہتے ہے جس میں افراد کو کسی بھی سماجی گروہ سے مطابقت نہ رکھنے یا اختلاف نظر کی بنا پر پر خارج کیا جاتا ہے ۔ ھر برادری یا طبقہ یا گروہ خود ہی اچھے یا برے کے پیمانے مقرر کرتے ہے اور جو ان پر پورا اترتا ہے وہ تو اس دائرے میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ مگر جو نہیں اترتا وہ خارج سمجھا جاتا ہے۔  اکثر کیسوں میں خارج شدہ افراد کو گروہ کی دیگر اراکین کی توھین آمیز اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 ایکسلوسیو نیس کی بیماری لگنے سے قوم، قومیت، برادری ، مذھب ، فرقہ اور مسلک، سیاسی اور سماجی گروہ سمیٹنا اور محدود ھونا شروع ھو جاتے ھیں کیونکہ کبھی ایک اور کبھی دوسرے بہانے سے لوگوں کو اپنے لسانی ، مذھبی یا سیاسی دائرے یا گروہ سے خارج کیا جاتا ہے یا خارج سمجھا جاتا ہے ۔ آگر ایک مذھب یا فرقہ یا مسلک یا سیاسی اور سماجی گروہ یا قومیت اور قوم کو ایک دائرہ فرض کرلیں تو ھر مخصوص دائرے میں شامل رہنے کیلئے کچھ عمومی علامتیں یا معیار یا اوصاف یا اصول مقرر ھوتے ھیں جس کی بنا پر اس بات کا تعین ھوتا ہے کہ کون اس دائرے میں شامل ہے اور کون نہیں۔

مذھبی گروھوں میں ان اصولوں ، معیارات اور اوصاف کو آسمانی سمجھا جاتا ہے اور اس کو تقدس کا درجہ دیا جاتا ہے ۔ جبکہ دیگر سماجی گروھوں میں یہ آسمانی تو نہیں سمجھے جاتے مگر اس کی پاسداری لازمی سمجھی جاتی ہے۔ آسانی اور سمجھنے کیلئے ان اصولوں اور اوصاف وغیرہ کی درجہ بندی ظاھری علامات اور نظریاتی یا فکری یکسانیت  میں کرسکتے ھیں ۔ یعنی ھر دائرہ یا سماجی گروہ عموما ایک تو اپنے ارکان سے ایک مخصوص قسم کی ظاھری وضع قطع ، علامات اور لباس وغیرہ اور دوسرا مخصوص سوچ ، کردار اور رویوں کا متقاضی ھوتا ہے۔

دائروں میں موجود افراد کو اس کے اصولوں اور معیارات کے ساتھ مطابقت اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مطابقت پیدا نہ کرنے والوں کو خارج کیا جاتا ہے ۔ سوشلزئشیشن یا سماجی میل جل کے عمل میں ان دائروں کے معیارات، اصول اور اوصاف کو سیکھا جاتا ھیں ۔ دائروں میں موجود افراد کو اس کے اصولوں اور معیارات کے ساتھ مطابقت اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مطابقت پیدا نہ کرنے والوں کو خارج کیا جاتا ہے ۔

دائرے بننے اور ٹوٹنے کا عمل خود رو نہیں ھوتا اور ھر سماجی مظہر کی طرح نہ تو یہ دائرے ابدی ھیں یہ وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ھوتے رہتے ھیں ۔ نئے دائرے بنتے ھیں پرانے ٹوٹتے ھیں ۔ ان دائروں میں ٹوٹ پھوٹ اور تغیر اور تبدل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مفادی حلقے ریاستی بھی ھوسکتے ھیں اور غیر ریاستی اس کو کنٹرول کرتے ھیں ۔ دائروں کے بننے اور ٹوٹنے کے عمل میں خاص کر ریاستی پالیسیوں کا زیادہ عمل دخل ھوتا ہے ۔

 کسی خاص کمیونٹی یا سیاسی یا مذھبی یا سماجی گروہ یا ملک میں رہنے کے پیمانے، علامتیں ، اوصاف ، اصول جتنے زیادہ لچکدار اور نرم ھوتے ھیں وہ انکلوسیو کہلاتا ہے مثلا اس میں زیادہ سی زیادہ افراد کو اپنے آپ میں سمونے ، شامل کرنے یا رکھنے کرنے کی گنجائش ھوتی ہے ۔ اور جن کے پیمانے، اوصاف اور اصول زیادہ سخت اور غیر لچکدار ھوتے ھیں وہاں کم سے کم افراد کو اس میں رہنے یا شامل رہنے کی گنجائش ھوتی ہے جبکہ دائرے سے افراد کو باھر کرنے کا رحجان زیادہ ھوتا ہے ایسا معاشرہ یا گروہ ایکس کلسیو کہلایا جاتا ہے ۔ معاشرتی گھٹن ، خوف ، عدم تحفظ ، عدم رواداری اور برداشت ، نفرت، امتیاز اور تشدد میں اضافہ اس بیماری کے عام علامات ھیں۔

اس طرح ذھنی یا فکری بانجھ پن بیمار یعنی ایکس کلوسیو معاشروں کا خاصہ ھوتی ہے۔ فکری بانجھ پن کے کئی وجوھات ھوتی ھیں۔ ھر مخصوص دائرہ مثلا فرقہ یا مسلک اپنے اوصاف کو سب سے زیادہ اچھے، برتر اور بہتر سمجھتے ھیں ۔ تنقید کی بجائے تقلید کرنے کے عادی ھوتے ھیں۔ اپنے عقائد ، رسومات اور تقریبات وغیرہ کو تقدس کا درجہ دیتے ھیں ۔ بہت سی سماجی چیزوں کو تقدس کا لبادہ اڑا کر آسمانی چیزوں کا درجہ دیتے ھیں مثلا مختلف مذھبی جلوس وغیرہ۔ اس طرح اپنے سے باھر دیگر دائروں کو نسبتا کم تر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے عقائد، مذھبی یا غیر مذھبی رسومات ، کلچر وغیرہ کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا تحضیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ دائرے اکثر و بیشتر اجتماعی نرگیسیت کے شکار ھوتے ھیں۔

دائرے سے نکالے گئے افراد کو اکثر مخصوص ناموں یا القابات سے نوازا جاتا ہے ۔ مثلا مرتد ، کافر ، غدار ، منحرف ، گمراہ وغیرہ وغیرہ۔ دائرہ یا سماجی گروہ میں نکالے گئے افراد کیلئے سزا دینے کا  رواج بھی پایا جاتا ہے ۔ سزا کی دو قسمیں عام ھیں۔ ایک امتیازی سلوک جیسے مخصوص القابات سے نوازنا، سماجی بائیکاٹ وغیرہ اور دوسرا جسمانی جیسے مارنا پیٹنا اور جان سے مارنا شامل ھوتا ہے۔ جن دائروں میں رواداری اور برداشت کی زیادہ کمی ھوتی ہے مثلا بعض مذھبی دائرے تو وہاں نکالے گے افراد کو یا تو سخت امتیازی اور توھین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یا اس کو مارا جاتا ہے۔

بیمار یعنی ایکس کلوسیونیس کے دو اثرات اھم ھیں ۔ جس طرح پہلے بھی ذکر ھوا کہ اس میں دائرے سے افراد کے نکالنے کا رحجان زیادہ ھوتا ہے جس کی وجہ سے یہ دائرے سمٹتے اور محدود ھوتے جاتے ھیں ۔ دوسرا دائرے سے افراد کو خارج کرنے یا دھکیلے اور نکال باھر کرنے کے اس عمل میں اکثر خارج کئیے گے افراد کا دائرے سے متعلق رویہ مخاصمانہ اور منفی بن جاتا ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی فرد لاشعوری طور پر اور یا اپنی لا علمی یا سادگی کی وجہ سے بھی اس گروہ کے معیارات کا لحاظ نہیں رکھتا یا اختلاف نظر رکھتا ہے تو اس کو باھر کیا جاتا ہے ۔ جتنا زیادہ اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ امتیازی اور ناروا سلوک برتا جاتا ہے ۔ دائرے سے خارج یا باھر دھکیلے گے فرد کا رویہ اتنا ہی اس دائرے کے حوالے سے منفی، مخالفانہ اور جارحانہ ھوگا۔

دائروں سے نکالنے کا کام اجتماعی طور پر بھی ھوتا ہے اور انفرادی طور پر بھی ۔ ریاستی سطح پر دائروں سے نکالنے کا کام اکثر دو طرح سے ھوتا ہے ایک رسمی طور پر اور دوسرا غیر رسمی طور پر ۔ اس طرح دائرے سے افراد کو نکالنے کا کام دو قسم کے مفادی حلقے کرتے ھیں ۔ ایک ریاستی اور دوسرا ریاست کے زیر اثر یا پروردہ افراد کے زریعے ۔

اب اس بحث کے نتیجے میں اگر پاکستانی معاشرے کو دیکھا جائے تو یہ ایک بیمار معاشرہ ہے ۔ ایکس کلوسیونیس کی بیماری کے جراثیم ھر معاشرے میں کسی نہ کسی شکل اور سطح پر موجود ھوتے ھیں ۔ مگر معاشرہ تب بیمار کہلایا جاتا ہے جب یہ بیماری زندگی کے ھر پہلو ، سطح اور شکل میں ظاھر ھوتی ہے۔ پاکستان کے ھر شعبہ زندگی میں چاہے قانون ہے حکومت ہے معاشرت ہے مذھب ہے سیاست ہے برادری ہے عام شہری کسی نہ کسی قسم کی ایکس کلوسیو نیس کا شکار ھوتا ہے۔ شہریوں کو جنس ، رنگ و نسل، نظریات ، مذھب ، مسلک اور فرقہ ، قومیت ، علاقہ اور جنس کی بنیاد پر ایکس کلوسیو نس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس بنیاد پر نفرت ، تعصب ، امتیازی سلوک اور تشدد کا نشانہ بنتے ھیں۔ اور مذھبی ، سیاسی ، سماجی اور ثقافتی دائرے روز بروز اس بیماری کی وجہ سے سکڑتے جا رہے ھیں ۔

یہ بیماری پیچیدہ اور خطرناک اس وقت بن جاتی ہے جب شہریوں کو بلا سوچے سمجھے کسی مخصوص دائرے سے تعلق اکھنے کی بنا پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ اس فرد کو اپنا دائرہ پہلے خارج کر چکا ھوتا ہے ۔ مثال کے طور پر فرقہ وارانہ فسادات میں بہت سے ایسے لوگ بھی تشدد کا نشانہ بنے جس کو اپنے دائرے ان کی لبرل یا غیر فرقہ وارانہ سوچ کی وجہ سے خارج سمجھتے ھیں۔ مگر تشدد کرنے والوں کیلئے وہ ان کے مخالف دائرے کا حصہ ھوتے ھیں۔

تحریر: ایمل خٹک

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*