پاکستان میں سوشل میڈیا کی گلہ گھونٹنے کی کوششیں/ ایمل خٹک 

ایمل خٹک

ایمل خٹک

بچپن میں ایک کہانی سنتے تھے شہر ناپرسان کی ۔ اس شہر کا خاصہ یہ تھا کہ اس میں پھانسی کا پھندا اس شخص کو لگایا جاتا تھا جو جس کے گلے میں فٹ بیٹھتا تھا چاہے جرم اس نے نہ بھی کی ھو۔ مثال کے طور پر سزا الف کو ملتی اور اگر پھانسی کا پھندا اس کے گلے کیلئے بڑا یا چھوٹا ھوتا تھا تو پھر شہر بھر میں جو بھی سامنے آتا اور جس کے گلے میں پھندا فٹ بیٹھتا تھا اس کو پھانسی پر چڑھایا جاتا تھا ۔ یہی حال پاکستان کا بھی ہے۔

پاکستان میں اپنی نوعیت کی اولین کریک ڈاؤن کیا گیا ہے تقریباً نو افراد کی لاپتہ ، اغوا اور گرفتاری کی اطلاعات ھیں ۔ کئ مقبول عام بلاگز اور ویب پیجز کو بند کیا گیا ہے ۔ مزید گرفتاریوں کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔  گرفتار افراد میں کئ افراد جیسے پروفیسر سلمان حیدر، احمد وقاص گورایہ اور احمد سعید مشھور انسانی حقوق کارکن اور غلط ریاستی پالیسیوں کے سخت ناقد ھیں ۔ بعض ریاستی اداروں کی جانب سے سائبر کنٹرول اور مداخلت کی کوششوں کی وجہ سے کئ آزاد اور لبرل آن لائن میگزین اور ویب گروپس کو کئی ٹیکنیکل مسائل کا سامنا ہے ۔

حکومت کے تیور کچھ عرصے سے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔ عرصہ دراز سے سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا مگر پچھلے سال آگست میں سائبر کرائمز بل کے پاس کرانے کے بعد کریک ڈاؤن کا امکان بڑھ گیا تھا ۔

جس پر قدغنیں لگنی چائیے جس کو گرفتار ھونا چائیے ۔ جن کی تنظیموں پر خود ریاست نے کئی بار پابندیاں عائد کی ھیں اور کالعدم ڈکلیئر کیا ہے۔ جن کے نام اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی مطلوب دھشت گردوں کی فھرست میں شامل ہے وہ کھلم کھلا ریاستی تحفظ میں گھوم رہے ھیں۔ بڑے بڑے اجتماعات کر ہے ھیں ۔ اسلام آباد کی ایک مشہور مسجد کا مولوی کھلم کھلا ریاستی رٹ کو چیلنج کرتا ہے وہ آزاد رہ کر قانون کا مذاق آڑا رہا ہے۔

جبکہ قدغنیں ان بیچارے نوجوانوں پر لگائی جا رہی ہے انھیں اغوا کیا جارہا ہے ۔ جو سماجی انصاف ، آئین کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ھیں۔ مظلوم انسانوں کا ساتھ دیتے ھیں ۔ لا پتہ افراد کے حق میں بولتے ھیں ۔ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ھیں ۔ شورش زدہ علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو سامنے لاتے ھیں اور اس کے خلاف آواز اٹھاتے ھیں۔  انتہاپسند قوتوں کے مظالم اور چیرہ دستیوں کو افشا کرتے ھیں ۔ بالادست قوتوں اور نام نہاد مقتدر قوتوں کی منافقت ، غلط پالیسیوں اور ریاستی ظلم و تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے ھیں ۔ اور حکمران طبقات کی بدعنوانیوں ، لوٹ کھسوٹ، اور غلط طرز حکمرانی کو بے نقاب کرتے ھیں ۔ وہ نشانہ ستم بنے ۔

جب مین سڑیم میڈیا غیر مرئی سنسرشپ اور انتہاپسند قوتوں کی ڈر اور ان کی خوشنودی کی پالیسی کی وجہ سے مظلوموں کا چاہے وہ خواتین ھو یا اقلتیں یا چھوٹی قومیتیں کا ساتھ دینے سے ڈرتے ھو اور سول اور فوجی حکمرانوں کی گھر کی لونڈی بن کر ان کے گن گاتی ھو یا اقتدار کی ایوانوں میں اقتدار کے متوالوں کو اقتدار سے گرانے ، مظبوط کرنے اور بیٹھانے کیلئے استعمال ھوتا ھو۔ کلمہ حق کہنے سے اجتناب کرتے ھو۔ واھیات قسم کی قومی سلامتی کی پالیسیوں کے زیر اثر میڈیا تعصب اور تنگ نظری کا شکار ھو ۔ کمرشل مفادات کیلئے عام انسانو ں کے مسائل لکھنے اور بیان کرنے سے قاصر ھو ۔ تو اور دیگر وجوھات کے علاوہ ایسے میں سوشل میڈیا ایک متبادل میڈیا کے طور پر اپنے لئے جگہ بناتا ہے ۔ شہری صحافت فروغ پاتی ہے بلاگ رواج پاتے ھیں ۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر عام لوگ اپنے تجربات، مشاہدات اور خیالات کا تبادلہ کرتے ھیں۔

انسانو ں یقیناً شہر ناپرسان میں ان مسائل پر بات کرنا انھیں اجاگر کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔ قانون اور آئین سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھنے والے قوتوں اور اداروں کی ماتھے پر شکنیں ڈالنا یقیناً  سنگین جرم ہے ۔ مظلوم کی داد رسی کیلئے ھمدردی اور تسلی کے چند الفاظ بولنا یقیناً غداری کے مترادف جرم ہے۔ اور اس جرم کی سزا ان سر پھرے نوجوانوں کو ملنا چائیے اور چاہے قانون کا مذاق اڑایا جائے

بہت سوں کو نوجوانوں کو ھم نہیں جانتے مگر وہ جہاں بھی ھیں وہ قوم  کے بہادر سپوت ھیں۔ وہ سماجی بے انصافی اور ظلم کے خلاف سوشل میڈیا کے محاذ پر ڈٹے ھوئےھیں۔ اور مبارک باد کے مستحق ھیں خراج تحسین کے مستحق ھیں  کیونکہ وہ حق و باطل کی جنگ میں حق کا ساتھ دے رہے ھیں۔ ان کی کی قلم کی روانی ، گرافک کی مہارت اور اپنا مقدمہ احسن طریقے سے پیش کرنے کی وجہ سے ظالموں کی صفوں میں کہرام مچا ھے۔ اور غلط پالیسیوں اور اسکے مضر اثرات بیان کرنے کی وجہ سے ان کو ملک دشمنی اور غداری کے طعنے مل رہے ھیں ۔ اسٹبلشمنٹ کی ذہنی دیوالیہ پن اور نا اہلیت کا اس کے علاوہ کیا ثبوت ھوگا کہ بجائے اس کے کہ مسلمہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ، بہتر طرز حکمرانی قائم کرتے اور لسانی اور مذھبی اقلیتوں کی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے الٹا سوشل میڈیا میں سرگرم عمل نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے اغوا کیا جارہا ہےگرفتار کیا جارہا ہے۔ اور اس طریقے سے دوسرے نوجوانوں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ سدھر جائیں ۔

بظاھر تو سائبر کرائمز کا قانون جس کو حکومت نے بعض ریاستی اداروں کی دباو میں انسداد دھشت گردی مھم کے تحت پاس کیا تھا پر شروع ہی دن سے پارلیمان اور باھر شدید تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا گیا تھا اور اسے ایک کالہ قانون قرار دیا گیا تھا اور اس  کے غلط استعمال کے خدشے کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس وقت سول سوسائٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ھوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر ضروری طور پر بہت زیادہ اختیارات دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اس قانون سے آزادی رائے پر قدغنیں لگائی گی اور معلومات تک رسائی کو محدود کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نگرانی کیلئے بھی زیادہ اختیارات دئے گے ھیں۔  سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن سے عوامی خدشات صیع ثابت ھو رہی ہے ۔

سائبر کرائمز قانون کے تحت کاروائی کے حوالے سے ریاستی اداروں میں بھی رسہ کشی جاری ہے ۔ اسلام آباد کے باخبر حلقوں میں کچھ دنوں سے یہ خبریں زیر گردش تھی کہ ایک حساس ادارہ ایف آئی اے کی بجائے سائبر کرائمز بل کے تحت کاروائی کرنے کا اختیار حاصل کرنے کی درپے ھے ۔ حالیہ چھاپوں کے پیچھے بھی اس ادارے کی چھاپ نظر آرہی ہے۔  پیشہ وارانہ رقابت اپنی جگہ مگر قومی سلامتی کے حوالے سے دونوں ادارواں کی سوچ میں فرق ہے ۔ ایک خالصتا سویلین ادارے کی حیثت سے ایف آئی اے کا اپروچ بہت وسیع اور لبرل ہے ۔ اور آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کا عادی ہے۔ اس وجہ سے ایف آئ اے کی جانب سے گرفتاریوں میں پس و پیش کے پیش نظر ایک حساس ادارے نے ازخود کاروائی کی ہے ۔ قابعن نافذ کرنے والے ادارے کی نسبت کسی اور ادارے کی جانب سے کی گی گرفتاریوں کی قانونی حیثت بھی مشکوک ھوگی ہے ۔ قانونی سقم دور کرنے کیئے مذکورہ ادارہ سرگرم عمل ہے۔ اس ضمن میں وزارت داخلہ سخت دباوُ کا شکار ہے۔

تحریر: ایمل خٹک

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*