وزیر داخلہ کا داخلہ منع ہے / طارق افغان

طارق افغان ایڈوکیٹ

طارق افغان ایڈوکیٹ

آج صبح اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر جو کچھ ہوا یہ عام عوام کیلئے کوئی نئی بات نہیں البتہ خواص کیلئے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ رینجرز نے اپنے ہی اعلی حکام کو روک کر اس پات پر مہر ثبت کی ہے کہ یہ ملک عوام کے منتخب نمائندے نہیں بلکہ تھرڈ امپائر چلا رہے ہیں۔ واقعے کو تمام ذی شعور لوگوں نے برا کہا لیکن عمران خان کے کارکنوں کو رینجرز کی حکم عدولی کی بجائے اس بات کی فکر تھی کہ وزرا وہاں کیا کررہے تھے۔ وزیرداخلہ نے کھلے الفاظ میں کہا کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں چلے گی۔

ریاست کے اندر ریاست تو پاکستان میں روز اول سے چلی آرہی ہیں۔ آئین کی رو سے تمام داخلہ و خارجہ پالیسیاں عوام کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مشاورت سے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائیں گے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں بھی کرتے رہیں گے لیکن بدقسمتی سے عوامی نمائندوں کو روز اول سے ہی داخلہ و خارجہ پالیسیوں سے دور رکھا گیا۔ جن عوامی رہنماؤں نے خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا یا تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا اس کو غدار اور ایجنٹ کے القابات سے نوازا گیا۔

غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج پاکستان کے چار پڑوسی ممالک میں سے ایک بھی پاکستان سے خوش نہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کا پُرامن پڑوسی صرف بحیرہ عرب ہی رہ چکا ہے باقی سب کو ہم نے کسی نہ کسی طریقے سے اپنا دشمن بنا رکھا ہے۔

داخلہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ طالبان الگ ریاست چلا رہی ہیں جماعت الدعوہ لشکرطیبہ، لشکر جھنگوئ سمیت تمام کالعدم تنظیمیں نام بدل کر ریاست کے رٹ کو ہر قدم پر چیلنج کر رہا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کو بیس نکات کے ساتھ منظور کیا گیا تاکہ دہشتگردی کو ختم کیا جاسکے لیکن سابقہ وزیر داخلہ نے اُس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا بلکہ کالعدم تنظیموں کے سربراہان کو اپنے دفتر میں خاطر تواضع کی خاطر مدعوں کرتا رہا ہے۔

آج کے واقعے نے ثابت کردیا کہ اس ملک میں حقیقی حکمرانی چند مخصوص منظم گروہ کی ہے جس نے خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

وزیرداخلہ احسن اقبال نے ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلانے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر وہ اس میں ناکام رہے تو مستعفی ہوجائینگے۔ یہ ایک انتہائی اچھا اقدام ہوگا اگر وزیر داخلہ کی بات نہیں مانی جاتی اور وہ مستعفی ہوجاتے ہیں۔

میڈیاں نمائندوں کو روک کر رینجرز نے مقدمے کی شفافیت کو مشکوک بھی بنا دیا ہے جبکہ تمام صحافیوں نے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہے۔

ایسے نازک وقت میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر داخلہ پر تنقید کرکے رینجرز کے اقدام کی حمایت کی ہے جو کہ جمھوریت کیلئے بالکل بھی اچھا نہیں۔ عمران خان کو سمجھ لینا چاہیئے کہ حکومت جس کی بھی ہو ہر ادارے کو اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنا چاہیئے۔

اس مسئلے کا حل جو بھی نکلے لیکن اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ پاکستان کے اندر کئی ریاستیں بنی ہوئی ہیں اور اگر آجُکے واقعے جو بھی سیاسی پارٹیوں اور رہنماؤں نے سنجیدگی سے نہیں لیا تو اس ملک میں جمھوریت کبھی بھی ترقی نہیں کر سکے گی اور اگر جمھوریت نہیں ہوگی تو ملک میں افراتفری اور قومی عدواتین بڑھتی جائے گی جو ایک سن ریاست جو نگل جائے گی۔

طارق افغان ایڈوکیٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*