نقیب اللہ محسود کا واقعہ محض ایک واقعہ نہیں! یہ ہزاروں واقعات میں سے ایک ہے!

Muhammad Zubair Khan

Muhammad Zubair Khan

نقیب اللہ محسود کے بہیمانہ اور ماورائے قانون و عدالت قتل کے خلاف اٹھنے والے احتجاج میں ھمیں چاہئے کہ ھم ان بینام اور بے گناہ محسود و وزیر لوگوں پر ھونے والے مظالم و جبر کے خلاف احتجاج کو بھی شامل کرلیں جو ناپاک آرمی کے (internment centers) انٹرنمنٹ سنٹرز یعنی ٹارچرسلوں میں ذھنی اور جسمانی تششد کا تسلسل سے شکار ہوتے رہتے ھیں اور جن میں سینکڑوں زخموں کی تاب نہ لاکر موت کا لقمئہ اجل بھی بنتے رھیں ہیں۔ قبائلی علاقوں میں شاید ہے کوئی ایسا گھر ہو جنکا کوئی نہ کوئی فرد کالی چمڑی والے وردی بردار دہشت گردوں کی دہشت و بربریت کا شکار نہ ہوا ھو۔

ھم سب کو معلوم ھے (لیکن ہم ابتک اپنی زبان کھولنے سے قاصر رہیں ہیں) کہ ان ٹارچر سلوں میں ہمارے لوگوں کیساتھ کسطرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ جسمانی زد وکوب کے ساتھ ساتھ ان کی عزتِ نفس، خودی اور غیرت کو آئی ایس آئی کے پنجابی فوجی افسران مزے لے لے چکنا چور کرتے ہیں ۔ اور کسطرح ان کو نفسیاتی طور تباہ و برباد کیا جاتا ہے۔ تششد کا شکار افراد اور ان کے خاندانوں کا منہ بند رکھنے کیلیئے بطورِ ضمانت ھمارے ان بیگناہ بھائیوں کی ننگی اور (compromise) حالت میں فلمیں اور تصاویر بنائی جاتی ہیں۔ انہیں بیابانوں میں لیجا کر گڑہوں میں پھینک کر اور ان پر بندوقیں تھام کر ان سے کہا جا تا ہے کلمہ پڑہ کر موت کیلیئے تیار ہو جائو!!! جن کو مارنا ہوتا ہے انہیں تقیب اللہ کیطرح مار دیا جا تا ہے، کچھ کو ایسی حالت میں ڈال کرانیہں خوفزدہ کیا جاتا ہے اور ان کے خاندانوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ ان میں سے جوخوش نصیب ٹوٹے ہوئے جسموں اور زخمی اناء کیساتھ ان ٹارچر سلوں سے زندہ بچ نکلتے ہیں، وہ اپنی اور اپنے خاندان کی بچی کچھی عزت بچانے کی خاطر اپنی زبان بند کیے رکھتے ہیں۔

یہ وقت ہے اپنی زبان کھولنے کا اور متحد ہونے کا ہے، اور اپنے خلاف ہونے والے ظلم کا ھاتھ روکنے کا ہے۔ ناپاکستان کی کی ناپاک فوج کا مقصد ہرگز دھشت گردی کا اختتام نہیں کیونکہ جنکے ہا تھوں پر ہزاروں پشتونوں اور بلوچوں کا خون ہے وہ جی ایچ کیو میں ان کے مہمان ہیں۔ ان کا مقصد اپنے ہی بنائے ہوئے دھشت گردوں میں سے کچھ نافرمانوں کا بدلہ ان کے رشتہ داروں سے لینا ہے۔ اور ساتھ ہی لگے ہاتھوں ھمارے آباوء اجداد (غزنوئ، اور غوری) کے انکے آباوء اجداد کے ساتھ کیے ہوئے مظالم کا بدلہ لینا ہے۔

تحریر: محمد زبیر، امریکہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*