مسلہ افغانستان : وسیع تر علاقائی تفاھم کی کوششیں/ ایمل خٹک

ایمل خٹک

ایمل خٹک

کیا نئی امریکی انتظامیہ کے آنے سے عالمی سٹرٹیجک منظر نامہ بدل رہا ہے ؟ ان تبدیلیوں کی نوعیت اور سمت کیا ھوگی ؟ اوراس کے ھمارے علاقے پر کیا اثرات مرتب ھونگے؟ ۔ یہ سوالات آجکل ھر جگہ پر زیر بحث ہے ۔ عالمی اور علاقائی طاقت کے مراکز میں نئی امریکی انتظامیہ کی ممکنہ پالیسیوں اور اس کے اثرات کے حوالے سے غوروحوض جاری ہے اور پالیسی سازوں کی توجہ نو منتخب امریکی صدر کے بیانات ، اقدامات اور حتی کہ ٹویٹس پر مرکوز ھیں۔ ھمارے خطے کیلئے اور ایشیوز کے علاوہ تین امور یعنی افغانستان ، ایران اور چین کے حوالے سے امریکی پالیسیاں اھم ھیں۔

امریکہ میں اقتدار کی منتقلی اور نئی انتظامیہ کی افغان پالیسی ابھی تک سامنے نہیں آئی مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی مہم کے دوران تقاریر ، بیانات اور انتخابات کے بعد کچھ اقدامات سے ایسے اشارے ملے ھیں کہ نئی امریکہ انتظامیہ کی پالیسیوں سے علاقے میں عالمی رقابتیوں میں اضافہ ھوگا اور خاص کر نو منتخب امریکی صدر کی چین اور ایران کے بارے میں جارحانہ انداز فکر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ مسائل پر ڈونلڈ ٹرمپ پسپائی اختیار کر رئے ھیں ۔

 گزشتہ جمعرات کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کا عھدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار اپنے افغان ھم منصب سے  ٹیلی فون کے زریعے بات چیت کی ہے۔ بات چیت کی تفصیلات تو معلوم نہ ھوسکی مگر اس بات چیت سے چند گھنٹے قبل افغانستان میں تعینات بیرونی افواج کے امریکی جنرل جان نکلسن نے سینٹ کی آرمڈ سروسز کی کمیٹی  میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو کمزور کرنے کیلئے چند ھزار مزید فوج کی ضرورت ہے ۔

علاقے میں امریکی اثرورسوخ کو زائل کرنے اور بالواسطہ یا بلاواسطہ نئی امریکی انتظامیہ پر اثرانداز ھونے کیلئے علاقے میں پراکسی وارز کے نئے راونڈز کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ چین اور ایران نئے صورتحال کے مطابق اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی اور نئی علاقائی صف بندی کیلئے کوشاں ھیں ۔ روس اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے اور علاقے خاص کر وسطی ایشیا میں اپنا کھویا ھوا اثرورسوخ بحال کرنے کی کوشش میں ہے۔ روس کی افغانستان کے حوالے سے بڑھتی گہما گہمی اس کی داخلی صورتحال اور وسطی ایشیا کے حوالے سے پالیسی سے جڑی ھوئی ہے ۔

روس کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے چھ فریقی کانفرنس کا انعقاد جس میں چین اور پاکستان کے علاوہ افغانستان ، ایران اور انڈیا کو بھی دعوت دی گی ہے ایک خوش آئند بات ہے ۔ روس نے امریکہ کو بھی مشروط طور پر دعوت دی ہے ۔ کچھ علاقائی ممالک افغان حکومت اور طالبان دونوں پر زور دے رہے ھیں کہ امن مذاکرات بحال اور افغان حکومت میں طالبان کو شامل کرنے کی راہ ھموار کی جائے۔

اور ماضی کی طرح اب پھر افغانستان پراکسی وارز کا ایک ممکنہ مرکز ھوسکتا ہے ۔ اگرچہ گزشتہ چار دھائیوں سے افغانستان عالمی اور علاقائی رقابتوں اور ریشہ دوانیوں کا مرکز ہے ۔ اب نئے راونڈز کا امکان ہے ۔ ھمسایہ ملک اور افغانستان میں پراکسی وارز یا عسکریت پسندی کیلئے ایک لانچنگ پیڈ کی حیثیت سے پاکستان کی حیثیت اور کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ماضی قریب تک امریکہ پاکستان کے زریعے افغانستان میں اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کرتا رہا ہے تو اب دیگر علاقائی قوتیں مثلا چین ، روس اور ایران بھی پاکستان کی افغان مسلح مخالفین میں خیر سگالی اور اثرورسوخ نفوذ کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش میں ہے ۔ پاکستان کی مرضی اور منشا کے بغیر افغان طالبان کا ایران ، چین اور حتی روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا قیام ممکن نہیں تھا ۔ اس سلسلے میں ان ممالک کو پاکستان کی مکمل سہولت کاری اور تعاون حاصل رہی ہے ۔

علاقائی سیاست میں پاکستان کی چین اور روس کی طرف جھکاؤ اور پالیسیوں کا حصہ بننے کی کوششوں کو امریکہ میں شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ اگرچہ ابھی تک بہت سے ملکی تجزیہ نگار پاکستان کی چین اور روس سے قربت کو امریکی انتظامیہ پر اثرانداز ھونے اور اسلام آباد یا راولپنڈی کی اس کی خوشنودی دوبارہ حاصل کرنے کی کوششیں قرار دیتے ھیں ۔ کیونکہ پاکستانی پالیسی سازوں کی امریکی خوشنودی حاصل کرنے کی سر توڑ کوششیں تاحال جاری ھیں۔  نئی امریکی انتظامیہ کے آنے سے پاکستان پر جوہری ھتھیاروں اور عسکریت پسندی کی روک تھام کے حوالے سے دباؤ میں اضافے اور پابندیوں کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

بدلتے ھوئے حالات میں ایران اور چین کیلئے پاکستان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔   ایران اور چین دونوں کی خواھش ھوگی کہ امریکہ ان کے ھمسایہ ملک پاکستان کو ان کے خلاف استعمال نہ کرے۔ چین پہلے ہی پاکستان میں قدم جما چکا ہے اور آھستہ آھستہ اور غیر محسوس انداز میں پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر اثرانداز ھو رہا ہے ۔ روس کو پاکستان کے قریب لانے میں چین کی کاوشوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ پہلے چین اور اب روس کی بھی یہی کوشش ھوگی کہ پاکستان امریکہ کے اثر سے نکلے۔ ایران پہلے ہی سے پاکستان کی امریکہ سے انتہائی قربت سے شاکی رہا ہے ۔

ان سطور میں ماسکو میں سہ فریقی اجلاس سے قبل اس بات کی پیشن گوئی کی گی تھی کہ سہ فریقی کانفرنس کے حوالے سے پاکستانی پالیسی سازوں کی خوش فہمیوں  یا غلط فہمیوں سے قطع نظر روس اور چین دیگر علاقائی طاقتوں خاص کر ایران اور بھارت سے بہتر تعلقات اور افغان مسلے کے حوالے سے ان کے کردار کی اھمیت کے پیش نظر اگلے کسی بھی مرحلے پر ان ممالک کو اس پراسس میں شامل کر سکتے ھیں۔ روس اور چین دونوں کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ وسیع علاقائی تفاھم کے بغیر افغان مسلے کا پرامن اور مستقل حل ناممکن ھے۔ علاقائی اور عالمی طاقتیں اب افغان مسلے کا فوری حل چاہتے ھیں کیونکہ بہت سی وجوھات کی بناء پر اب یہ مسلہ ھر فریق کیلئے ایک بھاری بوجھ بن گیا ہے۔

طالبان کی جانب سے جنگی تیاریاں اور ان کے پاس نئے ھتھیاروں کی موجودگی اور ایران اور روس پر ان کو ھتھیاروں کی فراہمی کے الزامات علاقے میں قوتوں کی نئی صف بندی اور نئی علاقائی سٹرٹیجک منظرنامے کی عکاسی کر رہی ہے ۔  طالبان میں حالیہ فوجی اور سیاسی تبدیلیاں اگر ایک طرف ان میں خود اعتمادی تو دوسری طرف طالبان صفوں میں موجود اندرونی کشمکش کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔ ملا عمر کی خاندان طالبان پر اپنا گرفت مضبوط کر رہی ہے ۔ ملا اختر منصور کے دور میں یہ گرفت کمزور پڑگیا تھا ۔

طالبان کی جانب سے منصب صدارت سنبھالنے سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط جس میں ان سے سابقہ حکومتوں کی پالیسی ترک کرنے اور افغانستان سے امریکی فوجیں نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا پر سرد مہری کا اظہار کیا گیا ۔ ساتھ ہی طالبان نے سیاسی اور فوجی دباؤ بڑھانے کی کوششیں شروع کی ۔ انتظامی تبدیلیوں ، نئے اسلحے اور ھتھیاروں اور فوجی تربیت کی خبریں اور ویڈیو کی ریلیز دباؤ بڑھانے کی مختلف کوششیں ھیں ۔ جس کا مقصد نئی امریکی انتظامیہ پر اثر انداز ھونا ہے ۔ نئی امریکی انتظامیہ کو آئے کم عرصہ ھوا ہے اور افغانستان کے بارے میں ابھی تک اس کی کوئی واضع پالیسی سامنے نہیں آئی۔ مگر امریکہ کی جانب سے مزید امریکی فوج بھیجنے کے اشارے اور حالیہ فوجی کاروائیاں اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی میں فی الحال کسی بنیادی تبدیلی کا امکان نہیں ۔

روس اور ایران بڑی برائی یعنی داعش کی نسبت کم برائی یعنی افغان طالبان کو تسلیم کر رہے ھیں ۔ وہ افغان طالبان کو داعش کو کچلنے کیلئے استعمال کر رہے ھیں مگر ساتھ ہی وہ ان کو افغان حکومت کے مقابلے میں زیادہ طاقتور بھی نہیں دیکھنا چاہتے ھیں ۔ افغان طالبان کی کابل پر قبضے کا مطلب علاقے میں مذھبی عسکریت پسندی کا فروغ اور دوبارہ عروج ہے جو کہ داخلی عسکریت پسندی سے نبرد آزما ایران ، چین اور روس کیلئے کسی طور قابل قبول نہیں ۔ اس وجہ سے یہ تمام ممالک افغان امن مذاکرات کی بحالی اور کامیابی میں دلچسپی رکھتے ھیں ۔ اورمذاکرات کی بحالی کیلئے فریقین سے رابطے میں ھیں ۔

مسلہ افغانستان خصوصا عسکریت پسندی کے حوالے سے بین الاقوامی رائے عامہ اور بدلتی ھوئی صورتحال نئے انداز فکر اختیار کرنے اور داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر تجدید نظر کی ضرورت ہے ۔ اگر بدلتے ھوئے حالات کے ساتھ مطابقت پیدا نہیں کی گی نئی پالیسیاں نہیں اختیار کی گی تو مزید  تباہی اور بربادی کو ٹالا نہیں جاسکتا ۔

تحریر: ایمل خٹک

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*