فاٹا کے عوام کی رائے بمقابلہ سلیم صافی

watan

عمر فاروق وطنیار

 سلیم صآفی کا کل کا کالم پڑھکر خوشی ہوئی کہ محترم مشر کی موقف نے کتنوں کو بخار میں مبتلا کیا ہے۔ موصوف بالا اپنے سطور کو زینت بخشنا خوب جانتا ہے اسلئے وہ حقائق کے بجائے خوشامدی دلائل دیتے رہتے ہیں اور اس فن تحریر کی وجہ سے آج کل اس کے بہت سارے وہ مخالف جو کبھی اسکے عزت سے کھیلتے تھے۔ آج ہمنوا بنے ہیں سلیم صافی نے محترم مشر کے موقف سے جو کہ خالصتا فاٹا کے عوام کے رائے پر مبنی ہے سے ہٹ کر اپنی لکھاری پن مسلط کرنے کی کوشش کی ہے اور الگ صوبہ، آزاد حکومت اور انضمام کا مکسچر تیار کیا ہے۔

محترم مشر کا ۳۰ جنوری فاٹا جرگہ کی تقریر اور اس سٹیج کے پیچھے لگا بینر اس دلیل کی نفی کرتی ہے جو سلیم صافی نے بیان کئے ہیں ۔ محترم مشر نے ھر وقت یہی کہا کہ فاٹا کے عوام فاٹا کے مالک ہیں اور فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ بھی محض فاٹا کے عوام کرینگے مگر صافی تکرار اسکے ساتھ باقی گذارشات جوڑ رہے ہیں اور وہ اسلئے کہ محترم محمود خان اچکزئ کہ اس سادہ مگر قوی موقف کا نہ انکے پاس جواب ہے اور نہ انکے پس پردہ ہم نواؤں کے پاس۔ اور یہ سب کچھ اس غلام قوم کے نڈر لیڈر کی کردار کشی کی وجہ سے کیا جا رہا ہے اور صافی کو اس فن میں پرانا تجربہ ہے۔

اپ نے محترم مشر پر ایف سی آر کے حمایت کا الزام لگایا ہے۔ اپ فاٹا کے غیور عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ محترم مشر کا ایف سی آر اور پولیٹکل ایجنٹ کے کردار پر ایک سے زیادہ قومی اسمبلی کے تقاریر اور ٹالک شوز میں گفتگو ریکارڈ پر ہے، ایف سی آر برطانوی راج کا پیداوار ہے محمود خان کا نہیں جسے فاٹا کے عوام پر آپکی ریاست نے تقسیم ہند کے بعد جاری رکھا، اور آج اپ اس کالے قانون کے نام پر قبائلی عوام کی حق ملکیت و حق رائے کو دھاو پر لگا رہے ہو؟ کیا سرد جنگ ایف سی آر یا قبائلی عوام کے مستقبل کیلئے تھا کہ اپ نے جہان کے خطرناک ترین لوگوں کو یہاں بسایا؟ اور اپ نے عملی طور پر انکا ساتھ دیا؟ اسوقت آ پکی دھڑکنیں کیوں ان معصوم قبائلی بچوں اور عورتوں کے لاچاری اور غم کے شریک نہیں بنے؟ یا وہ سب کچھ بھی محترم مشر کے ذمے ہیں؟

آپکو ذرہ برابر خیال نہیں آیا کہ یہ آگ اک دن فاٹا کو جلا ڈالے گا اور وہ ہوا بھی جو آج ہمارے نظروں کے سامنے ہیں۔ اپ گورنروں کا کہہ رہے ہیں لیکن انکا نام نہیں لے رہے جو پچھلے دو دہایوں سے فاٹا کے کالے اور سفید کے مالک رہے آپکو اصلاحاتی کمیٹی کی رپورٹ نظر آرہی ہے پر اسمیں فاٹا کے عوام کو دہشتگرد کہا گیا ہے۔  وہ آپ کی نظروں سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ کیا اپ پنجاب کی امن و ترقی کی مثال پر خیبر پشتونخوا کو وہاں پر ضم کر لینگے جس کی امن فاٹا سے بھی ابتر ہے؟

آپ نے بلوچستان کے مخلوط حکومت و مری معاہدے کی بات کی ہے لیکن یہ جسارت نہیں کی کہ اس مخلوط حکومت اور مری معاہدے کے وجہ سے بلوچستان کے پشتون ، بلوچوں کے ساتھ ففٹی ففٹی شراکت دار بنے، بلوچستان میں پشتونوں کا حکمرانی اور ترقیاتی کاموں میں حصہ تسلیم کیا گیا۔ وزیراعلی اور گورنر کا انصاف پر مبنی میکینزم بنا اب ایک بلوچ تو دوسرا پشتون ہوگا۔

انفراسٹرکچر اور تعلیمی میدان میں اس حکومت کا نظیر ماضی میں نہیں ملتا لیکن آپکا قلم یہاں پر گم صم ہے۔ اپ نے شہاب الدین کی بات کی ہے لیکن آپکو تین ممبران کے مینڈیٹ کے سوا باقی درجن بھر ممبران اسمبلی کا مینڈیٹ نظر نہیں آرہا ہے جو عوامی رائے چاہتے ہیں۔ آپ اپنے علاقے میں نہیں جا سکتے تو اسکے اصل حقائق بیان فرمائیں ایف سی آر میں تو فاٹا سیاح بھی جایا کرتے تھے۔ایف سی آر تو آج کی بات نہیں عشروں سے لاگو ہے۔

ہمیں آپکے ڈومیسائل کا غم اسلئے نہیں کہ اپ تو لاڈلے ہو ہمیں فاٹا کے عوام کے مستقبل اور ڈومیسائل کا غم ہے جن کو آج کی جمہوری دنیا میں اپ بالغ رائے دہی کے قابل نہیں سمجھتے ۔ اپ نے راستوں کی بات کی تو راستے بنتے نہیں بنائے جاتے ہیں۔ آپ اس کیلئے جس کو بھی مورد الزام ٹھرا ئنگے ہم آپکا ساتھ دینگے۔ یونیورسٹی اور بورڈ پر جھگڑا تو سوات اور دیر کا بھی ہوا تھا وہ تو اس صوبے میں ضم تھے۔ آپ سے آخر میں گزارش یہ ہے کہ اگر فاٹا کے عوام انتظامی طور پر خیبر پشتونخوا تو درکنار پنجاب کے ساتھ بھی انضمام کا فیصلہ کرلیں تو ہمیں اعتراض نہیں۔ اگر الگ صوبہ یا آزاد حیثیت میں رہنا چاہتے ہیں تو بھی ہمیں اعتراض نہیں لیکن اعتراض ہر اس وقت کرینگے جب یہ سب کچھ قبائلی عوام کے رائے سے نہ ہو نہیں تو آپکے کالم بھی بے سود ہیں اور آپکے الزامات بھی ہمارے رہبر محمود خان اچکزئ کے موقف کو تبدیل نہیں کرسکتے۔

تحریر: عمر فاروق وطنیار

دی پشتون ٹایمز

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*