فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں، اسفندیار ولی خان

anp1

اسلام آباد ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے فاٹا کو صوبے میں فوری انضمام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے۔اور فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے جو انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات اٹھانا ضروری ہیں حکومت ان پر فوری عمل درآمد کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی کے لیے راہ ہموار ہو سکے اور 2018ء کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے ماحول میسر آسکے۔

ANP2

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں اے این پی کی طرف سے بلائی گئی اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔اس موقع پر ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے تاثرات و گزارشات بیان کیے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ انگریز نے ملک فتح کیا اور اپنا قانون ایف سی آر لاگو کیا البتہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آزادی کے بعد اور انگریز کے یہاں سے جانے کے بعد اس کے کالے قانون کا کیا جواز باقی رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انفرادی دہشت گردی کے واقعات بلا شبہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ البتہ ان واقعات کو بنیاد بنا کر فاٹا کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔

anp5

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد بلوچستان کے پختونوں کو یکجا کرنے کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں شمالی و جنوبی پختونخوا کے درمیان پختونوں کو تقسیم کرنے والی لکیروں کا خاتمہ کرکے تمام پختونوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کریں گے۔ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی صورتحال غیر سنجیدہ ہے۔ پاکستان کے چار میں سے تین ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات خراب ہیں لہٰذا پالیسیوں کا ازسرنوں تعین کیا جائے اور مستقبل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنائی جائیں۔

anp4

اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کوئی بھی ایسا سیاسی مسئلہ نہیں جس کا مذاکرات کے ذریعے حل ممکن نہ ہو۔ لہٰذا فاٹا اصلاحات پر اختلاف رکھنے والی جماعتیں مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے اور اسے صوبے میں ضم کرنے کے سوا دوسرا کوئی آپشن نہیں۔ واحد راستہ یہی ہے کہ 2018ء کے الیکشن سے قبل قبائل کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام کی اکثریت انضمام کے حق میں ہیں۔ لہٰذا اس میں اگر مگر کی پالیسی اختیار کرنے سے پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) فاٹا کے عوام کے لیے آئینی اور جمہوری حقوق کی بھرپورحمایت کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لیے جو انتظامی، مالی اور قانونی اقدامات اٹھانا ضروری ہیں حکومت کی طرف سے ان پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اسمبلی میں مکمل نمائندگی کے لیے راہ ہموار ہو سکے ۔

anp3

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بروقت، آسان اور مناسب راستہ یہی ہے، فاٹا کے صوبے میں انضمام کے مسئلے پر مزیدتاخیری حربوں سے گریز کیا جائے۔ اگر اس مسئلے پر مزید پس و پیش سے کام لیا گیا تو عوامی نیشنل پارٹی اس سلسلے میں راست اقدام اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔

لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں آئینی طور پر ضم کیا جائے تاکہ وہ صوبے کا حصہ بنے اور فاٹا میں ایف سی آر کو ختم کرکے باضابطہ عدالتی نظام قائم کیا جائے اور اس کا دائرہ کار پشاور ہائی کورٹ کیا جائے۔فاٹا کے عوام کو تمام قانونی، آئینی اور بنیادی انسانی حقوق دئیے جائیں۔ فاٹا کی ترقی کے لیے دس سالہ ترقیاتی منصوبہ بنایا جائے۔فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں باضابطہ نمائندگی دی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*