فاٹا رفارمز میں ستر سال جبکہ نام نہاد جمہوری ریفارمز لانے میں ایک گھنٹہ لگ سکا

طارق افغان ایڈوکیٹ

طارق افغان ایڈوکیٹ

دو اکتوبر کو سینٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی الیکشن ریفارمز کا بل اکثریت سے پاس ہوکر قانون بن گیا جس کے تحت آج تین اکتوبر کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں سزا یافتہ میاں محمد نواز شریف مسلم لیگ ن کے مرکزی کونسل کے اجلاس میں آئیندہ چار ساک کیلئے پارٹی کے مرکزی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

بدقسمتی سے فاٹا کے لوگ بھی پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک فاٹا میں ریفارمز کیلئے تحریک چلا رہے ہیں لیکن ارباب اختیار نے آج تک ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جو کہ فاٹا میں رہنے والے لوگوں کے بنیادی حقوق ہیں۔ جس طرح سے قبائلی علاقوں کے لوگ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں ٹیکنالوجی کے اس دور میں کوہی تصور بھی نہیں کردسکتا۔

 

خان عبدالقیوم خان نے 1945 میں ایک کتاب لکھی ہے”Gold and Gun” جس میں اس نے قبائلی علاقوں کی مسائل کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے کہ یہاں پر ریفارمز کی ضرورت ہے لوگوں کو سکول،کالج،ہسپتال سمیت دوسرے بنیادی ضروریات مہیاں ہونی چاہیئے لیکن بدقسمتی سے 2017 میں بھی اگر کوئی فاٹ پر کتاب لکھنا چاہے تو مجبوراً اس کو یہی مسائل آج بھی لکھنے ہونگے۔

 

پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت میں فاٹا میں آٹے میں نمک کے برابر چند ریفارمز کئے گئے تھے لیکن نوجودہ حکومت نے فاٹا ریفارمز پر ابتداء میں اچھے طریقے سے کام شروع کیا تھا لیکن درمیان میں مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کی مخالفت کو بہانہ بنا کر حکومت نے فاٹا ریفارمز کو موخر کردیا۔

فاٹا کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو خیبر پختونخوا میں شامل کرکے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ ان کو الیکشن اور سیاسی پارٹیوں میں شمولیت کا حق دیا جائے۔ اُن کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں پیل کا حق دیا جائے پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح عدالتی نظام دیا جائے ایف سی آر سے اُن کی جان چُھڑائی جائے لیکن ارباب اختیار کو یہ بات بالکل منظور نہیں

دوسری طرف جب نواز شریف کو بطور وزیراعظم نا اہل کیا گیا تو وہ پارٹی عہدے سے بھی نا اہل ہوگئے کیونکہ قانونی طور پر ایک نا اہل شخص کسی پارٹی کا سربراہ بھی نہیں رہ سکتا تو تمام حکومتی مشینری ایک شخص کی خاطر الیکش قانون کو بدلنے میں مصروف ہوگئی۔ سینٹ سی الیکشن بل پاس کرکے ایک ہی گھنٹے میں قومی اسمبلی سے بھی پاس کیا گیا۔ فاٹا کی آبادی 2 کروڑ کے لگ بگ بتایی جاتی ہیں لیکن آن فو کروڑ عوام کی بجائے ایک نواس شریف کیلئے قانون میں ترمیم کی گئی جو کہ عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہیں۔ ان نام نہاد جمھوری ریفارمز سے عام عوام کو کوئی بھی فائدہ پہنچنے والا نہیں۔ جمھوریت میں ہر قدم عوام کی ترقی اور بہبود کی خاطر اُٹھایا جاتا ہے۔ بنیادی حقوق کا حصول جمہوریت کا اولین مقصد ہے لیکن پاکستانی جمہوریت جو کبھی تھی ہی نہیں اور نہ ہے میں اشخاص کے حقوق پر فوقیت دی جاتی ہیں۔ کسی بھی پارٹی میں جمہوریت نہیں بلکہ برائے نام انٹرا پارٹی الیکشن ہوتے ہیں جس میں غریب عوام کیلئے تو بالکل بھی جگہ نہیں۔

جمہوری اور الیکشن ریفارمز بل پاس کرکے اب حومت کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فٹا ریفارمز کو جلد از جلد عملی جامہ پہنا کر فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرے۔ فاٹا کو 2018 الیکشن سے پہلے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے تاکہ لوگ اپنی نمائندے چُن سکے اور آئندہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو حصہ مل سے۔ فاٹا کی خیبر پختونخوا میں ضم ہونے سے پختونوں میں اتحاد و اتفاق کا ایک لہر آئیگی اور عوام کو بنیادی انسانی حقوق مہیاں ہونگے۔ اور اگر پھر بھی حکومت نے فاٹا کو سرزمین بے آئین رہنے کی روش اپنائی تو نہ تو فاٹا سے دہشتگردی ختم ہوگی اور نہ پاکستان عالمی سطح ہر دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے کے الزام سے جقن چُھڑاسکے گی

طارق افغان ایڈوکیٹ
https://twitter.com/afghan_tariq

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*