فاٹا، قانونی اور جغرافیایی کشمکش میں

Gul Marjan

Gul Marjan

کسی بھی ملک کے باشندے صرف شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہولڈرز نہیں ہوتے، بلکہ انکی جغرافیایی پہچان بھی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، مملکت خداد پاکستان میں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں، جو ابھی تک اپنی قانونی اور جغرافیایی حیثیت کی کمشمکش میں ہیں۔ جس طرح پاکستان نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آزاد اور خود مختار حیثیت کو تسلیم کیا ہے، عین اسی طرح، فاٹا کے عوام بھی اپنی آزاد حیثیت اور جرگہ نظام کو برقرار رکھنا چاهتے ہیں ـ یہ بلکل بھی کویی بہت بڑا مخمصہ نہیں ہے، اگر نیک نیتی سے کی جایے تو۔ ہم اگر تاریخ کے اوراقوں کے تناظر میں دیکھے، توہندوستان کی قانون آزادی جو ۳ جون ۱۹۴۷ کے پلان کے نام سے بهی جانا جاتا هے، تاج برطانیہ نے قبائل کے ساتھ تمام معاهدوں کو کالعدم قرار دیدیا تھاـ اور اسی طرح قبائل کی خودمختار حیثیت کو تسلیم بھی کیا گیا تھاـ جیسا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی بہت سارے وجوھات ہونگے، لیکن ضم نہ کرنے کہ بھی کچھ وجوھات ہوسکتے ہیں، جو قلم بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

پہلی بات، پاکستان میں رائج عدالتی نظام مہنگا اور سست تر ہے، بمقابلہ، جرگہ نظام. دوسری بات، قبائلی علاقاجات میں بیش بہا قدرتی وسایل ہیں، جو انضمام کے ساتھ وفاق کی تحویل میں آجائیں گے، اور پھر وہی لوٹ مار کا سلسلہ شروع هو جائے گا. تیسری بات، خیبر پختونخوا جو پہلے سے اقتصادی مسائل سے دوچار هے، فاٹا کے انضمام سے مزید مسائل میں مبتلا هو جائے گا. آخری بات ، یہ دعوی سمجھ سے بالاتر ہے، کہ فاٹا کے انضمام کے بعد، مملکت خداد میں پختونوں کی عددی قوت میں بڑوھتری ہوجاییگی، لیکن اس عمل سے سینیٹ میں فاٹا کی رکنیت ختم هو جائے گی، اور قومی اسمبلی میں سیٹیں بڑهنے کا کوئی امکان بلکل بھی نہیں ہے۔

فاٹا کی خدوخال کیلیے کچھ تجاویز زیر قلم لانا چاھتا ہوں، فاٹا اپنے فیصلے میں خودمختار هوـ اپنی وسائل قبائلیوں کی خدمت میں هوـ فاٹا میں آزاد اور خودمختار جمہوری کونسل کا قیام اولین ترجیح هے جو اپنے فیصلے اور قانون سازی میں مکمل آزاد ہوـ پورے فاٹا کے سطح پر اس کونسل کا جمهوری طریقے سے منتخب ایگزیکٹیو هو، جس کے اختیارات دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلُی کے برابر هوـ خیبر پشتونخوا اور فاٹا کے الگ الگ گورنرز هونے چائیں اور فاٹا کا گورنر ووٹوں سے منتخب هو، اور وه فاٹا اور وفاق کے درمیان ایلچی کا کردار آدا کرےـ جرگہ نظام کو آئینی حیثیت دی جائیے، ایف سی آر میں لازمی ترامیم کی جائے تاکہ ۲۱ صدی کی چیلنجوں کا مقابله کیا جاسکے۔ سب سے اہم بات ہونی چاھیے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اهلکار مقامی قبائل سے بهرتی هونے چاھیے، تاکه مقامی ابادی کو روزگار کے موقع ملے، اور زبان، رسم و رواج سے باخبر بھی ہونگے۔ اس سے قانون نافذ کرنے والا ادارہ مضبوط اور شفاف ہوگا۔

تحریر: گل مرجان

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*