حاجی صاحب، مُلا اور ہم/ افتاب احمد ملاگوري

Aftab Ahmad

همارے معاشرے میں خان ، چوهدری ، وڈهیرا اور سید صاحب جیسے بہت سارے اور بھی کردار ہیں، جنہیں ہمارے سماج میں عزت (کسی حد تک مصنوعی) حاصل ہے۔ ان کرداروں میں سے ایک کردار حاجی صا حب کا بهی ہے۔ حاجی صاحب وه خوش قسمت انسان ہے، جسے خدا کے گهر کا دیدار نصیب ہوا ہوتا، غرض یہ کہ ہر دوسرے تیسرے سال عمره یا حج کی غرض سے سعودی جا کر اپنا ایمان تازه کرتا رہتاہے.

حاجی صاحب ہمیشہ سفید کپڑوں میں ملبوس، تسبیح ہاتھ میں گاوں کے گلیوں میں نظرآتا رہتا ہے. مسجد میں ہمیشہ پہلی صف میں بلکل امام کے پیچهے کھڑا ہوکر تکبیر پڑهنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، اور اگر بادل ناخواستہ ان کی جگہ کوئی اور کهڑا هو جائے تو حاجی صاحب کے چهرے پر اُس آدمی کے لیے نفرت اور حقارت کے عجیب احساسات ظاهر هونے لگتے هیں۔

حاجی صاحب جتنے صاف گو، پرہیزگار، شریف اور نیک نظر آتا ہے، دراصل اتنی ہی اُس میں ان خصلتوں کی کمی ہوتی ہیں. حاجی صاحب کا ہمسایہ اگر بهوک سے مر بھی رہا ہوگا موصوف کو اُس سے کوئی غرض نہیں ہوتا، کیونکہ اسکو خدائے بزرگ کے “خیرالرازقین” پہ پورا یقین ہوتاہے۔

کچھ عرصہ پہلے ایک حاجی صاحب کو بولا، کہ حاجی صاحب، کہ پڑوس میں ایک بچہ سخت بیمار ہے، جسکی علاج پہ کُل ملا کر ساٹھ ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے۔ گاوں سے پهر پندره لوگ عمرے پر جا رہے ہیں، اگر فی کس چار ہزار چندہ اکھٹا کرلیں، تو غریب ، لاچار اور بے بس بچے کا علاج ہوجائیگا۔ حاجی صاحب کچھ خاموشی کے بعد فلسفیانہ انداز میں بولے، دیکهو افتاب میاں، اسلام نے جن پڑوسیوں کی بات کی ےہوه ان کمینوں کی طرح نہیں ہیں،ان کے ساتھ اگر آج نیکی کر دی جائی، تو کل کو یہ سر پر چڑھ جائینگے. میں خاموش رہا اور حاجی صا حب کا فلسفه جیت گیا۔

بیشتر اوقات حاجی صاحب سودی کاروبار کو منافع تصور کرکےحلال قرار دیتا ہے۔ یہ بات عام الفہم ہے، کہ معاشرے کی نبض اقصاد پہ چلتی ہے، اور حاجی صاحب ٹہرے امیر، تو کسی کا کیا مجال کہ حاجی صاحب کی مال کو حرام قرار پائے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے، کہ حاجی صاحب کا تعلق گاوں کے ایک آدمی کے ساتھ بہت استوار ہوتا ہے، اور وہ آدمی ہوتا ہے “اما مسجد”۔ میں نے جب بھی انکے آپس میں تعلقات کی اهمیت پر ںظر ڈالی تو اس اندازے پہ پہنچا کہ ایک “اقتصادی معاہدہ” ہے، جو امام مسجد اور حاجی صاحب کے مابین غیر رسمی طور پر طے پایا ہے۔

ایک طرف حاجی صاحب، امام صاحب کو معاشی تحفظ دینے میں اهم کردار ادا کرتا هے تو دوسری طرف امام صاحب، حاجی صاحب کے ناجائز کاروبار اور غیر اسلامی ذندگی پر نہ صرف پرده ڈالتا هے، بلکہ ایک لامحدود حد تک اس کے اِن اعمال کو اخلاقی اور اسلامی جواز بھی فراهم کرتا هے. جیسے کہ حاجی صاحب زکواۃ اور صدقات کے پیسے غریب همسایوں کی بجائے همیشہ امام صاحب پر قربان کرتا ہے۔ اور اگر کھانے میں کچھ اچها پکا ہو، تو وه سیدها مسجد میں پہنچایاجاتا هے. اسی طرح اگر حاجی صاحب کے گهر میں کوئی بیماری هو تو امام صاحب هر نماز کے بعد بیمار کے لیے دعا کی تاکید کرے گا. اور امام صاحب جمعے کی تقریروں میں اُن برائیوں ( جیسے سود) کا ذکر کبهی نہیں کرے گا جو حاجی صاحب کا خاصه ہوتا ہے۔

غرض همارے معاشرے کا یه کردارجسے “حاجی صاحب” کہا جاتا ہے، مذهب، معاشرے اور انسانوں کو اپنے ایک مخصوص زاویے سے دیکھتا هے. هر لمحے ان کی یہی کوشش ہوتی ہے که ظاهری نمود ونمائش کے ذریعے اپنے هر فعل کو مذهبی رنگ دے کر لوگوں سے عزت اور شهرت حاصل کر سکے. نمازوں اور حج بیت الله کے ذریعے عام آدمی کے نظر میں برتر اور محترم هونے کی کوشش کرتا هے. مولویوں کے ساتھ بیٹھ کراپنے برائیوں پر شرافت کی چادر چڑهاتا هے . حلانکه اُس کا اسلام چند عبادات سے بڑه کر کچھ نهیں هوتا. اور بدقسمتی سے هم چاهتے هوئے بهی اُس کو بُرا نهیں کہہ سکتے کیونکه اُسے تو معاشرے اور مسجد سے شرافت اور پاکبازی کا لائسنس مل چکا هوتا هے.

تحریر: افتاب احمد ملاگوري

احمد ملاگوری کا تعلق خیبر ایجنسی سے ہے۔ امن اور تنازعات میں پشاور یونیورسٹی سے پی ۔ ایچ ۔ ڈی کر رہے ہیں۔ پختون ثقافت، امن اور تشدُد کے موضوعات پر لکهتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*