جنوبی وزیرستان سے پشتون تحفظ موومنٹ تک کا سفر: منظور احمد پشتین

Manzoor Ahmad Pashteen

Manzoor Ahmad Pashteen

ہمارے گُھپ اندھیرے کا سفر اسی دن شروع ہوا تھا جب دو ہزار نو کو جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں فوجی آپریشن کے دوران میرے خاندان سمیت پورے محسود قبیلے کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
جہاں تک میرے علم میں ہے کہ ہمارے پانچ لاکھ آبادی پر مشتمل محسود قبیلے کے ہر خاندان نے طالبان، فوجی کاروائی یا گولہ باری کی وجہ سے کم از کم ایک لخت جگر کی ہلاکت کا دکھ سہا ہے۔ اس دلدل سے نجات پانے کی خاطر ہم کچھ دوستوں نے رضاکارانہ طور پر ایک تحریک کا آغاز کیا جس سے محسود تحفظ موومنٹ کا نام دیا گیا۔ہمارا مقصد واضح اور سادہ تھا کہ اپنے لوگوں کی حفاظت کی جائے۔ ابتداء ہی میں ریاستی اداروں نے ہماری آواز کو دبانے کے لئے ہمیں ہراساں، اغواء اور غیر قانونی طور پر حراستی مراکز میں رکھا گیا۔ فوجی آپریشن کے بعد جب محسود قبیلے کے بے گھر افراد اپنے گھروں کو لوٹے تو انہیں وہاں بڑی پیمانے پر نصب شدہ بارودی سرنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تقریباً 78 افراد جن میں زیادہ تر بچے تھے کو بارودی سرنگوں کا شکار ہونا پڑا۔ جب کبھی بھی امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوئی کوشش ہوتی تو جواب میں بے گناہ سویلین کو تحقیر اور حراساں ہونے کی ذلت کا سامنا کرنا پڑتا۔ جب کہ دوسری طرف حکام اپنے فوجی آپریشن کی کامیابی کے بلند بانگ دعوے کرتے رہے۔ انہوں نے لوگوں کو ذلیل، حراساں، استحصال کرنے اور انہیں محکوم بنانے کے عمل کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ وہ محض فاٹا کے پشتونوں کی قربانیوں، بہادری اور شجاعت کے گیت گاتے رہے۔

قربانی ایک رضاکارانہ عمل ہوتا ہے مگر ہماری جو قربانی تھی وہ مسلح تنظیموں کے ذریعے سٹریٹیجک مفادات کی ترویج کی ریاستی پالیسی کا حصہ تھی۔ اس کے لئے ہماری سرزمین کو استعمال کیا گیا اور لوگوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بے گھر کردیا گیا۔ ہمارے ہزاروں نوجوانوں کو غیر قانونی طور حراست خانوں میں رکھا گیا یا جبری لاپتہ کیا گیا۔ ہمارے قبائلی زعماء، علماء، نوجوانوں اور سیاستدانوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ ریاست ان جرائم میں ملوث کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے اور سزا دینے میں ناکام رہی ہے۔تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ ہماری سرزمین پر ہونے والی فوجی کاروائیوں کے ذریعے کوئی بھی واضح ھدف حاصل نہیں کی جاسکی ہے۔ اندیشہ یہ ہے کہ ان کاروائیوں نے مسلح گروہوں کی نیٹ ورک کو پائیدار بنیادوں پر کوئی بھی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے برعکس عام لوگوں کا خیال ہے کہ ان آپریشنوں کے ذریعے مقامی پشتونوں کو اجتماعی سزا اور ان کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے لوگوں کو وطن کارڈ حاصل کرنے پر مجبور کیا گیا جبکہ اس کے برعکس دیگر پاکستانی شہری شناختی کارڈ کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔ وطن کارڈ رکھنے کے باوجود وزیرستان کے لوگوں کو گھنٹوں تک قطاروں میں کھڑا کرکے ان کی جامہ تلاشی اور بے حرمتی کی جاتی رہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے امن و امان کو برقرار رکھنے کے نام پر کیا جارہا ہے جس سے ہم ابھی تک محروم ہیں۔ دہائیوں سے فاٹا اور دیگر علاقوں کے پشتون اسلام آباد، پنجاب اور کراچی میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مہاجرت کے اس عمل میں گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران ریاستی اور غیرریاستی اداروں کی دہشت کی وجہ سے مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے لاچار لوگوں کو حراساں، ماورا عدالت قتل، دہشت، سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہونا پڑا ہے۔ سب سے زیادہ پشتون کراچی میں آباد ہیں اور یہ شہر اب ان کے لئے ایک مذبح خانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس کی ایک مثال نقیب اللہ محسود کا ماورا عدالت قتل ہے۔ ان کو پولیس افسر راو انوار کی سربراہی میں جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ان کی موت کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی ان کے دوستوں اور فیسبوک فرینڈز کو یقین ہوگیا کہ ریاستی تشدد کو چھپانے کے لئے انہیں دہشت گرد طور پر ظاہر کیا جارہا ہے۔ ہم محسود تحفظ موومنٹ پہلے ہی اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر چکے تھے مگر نقیب اللہ محسود کی ماورا عدالت قتل نے ہماری آواز کو مزید توانائی بخشی۔

ہم نے سوچا کہ جب تک ہم مقامی سطح پر سرگرم ہوں گے تب تک اسلام آباد اور راولپنڈی کے حکمران ہماری محرومیوں اور آواز کو نظر انداز کرتے رہیں گے۔ لہذا اب ہمیں اپنی محرومیاں ان کے دروازوں تک لے جانا ہوں گے۔ ہم نے 26 جنوری کو ڈیرہ اسماعیل خان سے پشتون علاقوں سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ جن جن علاقوں سے ہم گزرے لوگ جوق درجوق ہمارا پر تپاک استقبال کرتے رہے۔ان والدین جن کے بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا نے ہمارے دکھ درد کو سمجھ لیا اور ہم نے ان کے درد کو محسوس کیا۔انہوں نے بھی ہماری طرح ظلم کی سیاہ راتیں کاٹی تھیں اور ان فوجی کاروائیوں کے متاثرین تھے جن کا بظاہر مقصد شدت پسندوں کو مٹانا تھا۔ مگر وہ یہ سوچ کر خوف زدہ تھے کہ دہشت گردی کے شکار ہونے کے باوجود انہیں ان جرائم کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے جو ان سے سرزد ہی نہیں ہوئے تھے۔اس بات کی بہترین تشریح پشتو کی ضرب المثل کی جاسکتی ہے۔ “قتل بھی مجھے کیا گیا اور قصور وار بھی مجھے ٹھہرایا گیا۔”یہی وہ لمحہ تھا جس نے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے پشتون تحفظ موومنٹ کو جنم دیا۔ ہم نے یکم فروری سے دس فروری تک اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا اور پاکستانی میڈیا نے ہمارے احتجاج کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔ ہچکچاہٹ اور تحفظات کے باوجود ہم نے سول اور ملٹری قیادت کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ ہماری محرومیوں کا اعتراف کریں۔حکومت کی جانب سے تحریری ضمانت دینے کے بعد ہم نے اپنا دھرنا فقط ایک ماہ کے لئے ملتوی کردیا۔

مجھے اسلام آباد کے کئی رہائشیوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی اتنا پرامن دھرنا پہلے نہیں دیکھا تھا جس میں عورتوں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ اس کے بعد حکومت نے کچھ اقدامات کیے مگر تحریری معاہدے کے تمام نکات پر تاحال مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری تحریک نے پشتونوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور وہ اب جاگ چکے ہیں۔ ہمارے لوگ اب مزید دوسرے درجے کے شہریوں کے طور پر رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہمارے دھرنے کے بعد باجوڑ ایجنسی، کرم ایجنسی، ژوب، سوات، مالاکنڈ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے احتجاج نے ریاست کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ہم کافی لاشیں قبروں میں اتار چکے ہیں اور اب ہم وقار، خوشحالی، امن اور آزادی اور وقار کے ساتھ اس ریاست میں زندگی بسر کریں گے۔ دوست مشورہ دیتے ہیں کہ حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے مجھے تاریخ کی کتابیں پڑھنی چائیے لیکن میں ان سے کہتا ہوں ہم اپنے اور آئندہ نسلوں کی عظمت اور وقار کے لئے اپنی ہی تاریخ رقم کریں گے۔
ہماری تحریک نے اپنی دھرتی کی کوکھ سے جنم لی ہے۔ ہمیں اپنے درد کا احساس ہے اور اس کا مداوا کرنا بھی خوب جانتے ہیں۔

وحشت اور ظلمت کی سیاہ رات اب ڈھلنے والی ہے اور امن اور خوشحالی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

  تحریر: منظور احمد پشتین، سربراہ پشتون تحفظ موومنٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*