تین ممالک کے ساتھ خراب تعلقات کی بنیاد پر ملک تنہائی کا شکار ہے، اسفندیار ولی خان

 ہمارے مسلسل مطالبات کے باوجود خارجہ پالیسی پر نظر ثانی ہوئی نہ ہی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوا۔

Asfandyar Wali Khan

 تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو دباؤ اور مشکل صورت حال کا سامنا اس لئے کرنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے مسلسل مطالبات کے باوجود خارجہ پالیسی پر نظر ثانی ہوئی اور نہ ہی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوا نتیجہ یہ ہے کہ چار پڑوسی ممالک میں سے تین ممالک کے ساتھ خراب تعلقات کی بنیاد پر ملک تنہائی کا شکار ہے اور ملک دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے بدنام ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم گزشتہ دو سال سے ملک کے اندر اقتدار کے لئے محاز آرائی کی اس لئے مخالفت کرتے رہے ہیں کہ ملک بیرونی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ ٹرمپ کے بیان سے ہمارے خدشات صحیح ثابت ہوئے ہیں۔اے این پی روز اوّل سے پاکستان کے لئے ایک آزاد خارجہ کی حامی رہی ہے۔ 1980 کی دہائی میں جب اس خطے میں جہاد کے نام پر بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لئے فساد رچایا تو ہم نے اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی آج بھی ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ تمام پڑوسی ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دونوں ملک مل کر فیصلہ کن اقدامات اٹھائیں، انہوں نے کہا کہ خطے کے اندر محاذ آرائی کا خاتمہ کرنے سے جہاں دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوگا وہاں کسی بیرونی دباؤ کے لئے گنجائش نہیں رہیگی ہمیں اس وقت تمام اندرونی اختلافات ایک طرف رکھ کر ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا اتفاق و اتحاد کے ساتھ کرنا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*