تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بنوں کے گرلز سکولوں پر حملے کی دھمکی

Bnu Girls schools

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بنوں کے مختلف سرکاری گرلز تعلیمی اداروں پر حملے کی دھمکی دے دی۔ بنوں۔محکمہ داخلہ خیبر پختون خوا اور ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سیکورٹی بہتر بنانے کیلئے کاپی ایڈیشنل چیف سیکرٹری فا ٹا،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، صوبائی پولیس آفیسر،ہیڈ کوارٹر الیون پشاور کینٹ، ایف سی کمانڈنٹ، کمشنر بنوں ڈویژن ، ڈی آئی جی بنوں ، ڈی آئی جی ڈائریکٹوریٹ آف انسداد دہشت گردی پشاور کو ارسال کی گئی ہے ۔مذکورہ کاپی میں ذکر کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے مولوی عباس اور نعمت اللہ کی جانب سے مارچ کے مہینے میں بنوں کے تعلیمی اداروں کیساتھ ساتھ اقلیتی درسگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی کہ گرمی کی چھٹیوں کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے پر اپنی کارروائی کر سکتے ہیں ان اطلاعات پر مندر بالا محکمہ جات کو سیکورٹی بہتر بنانے کیلئے ہدایات پر مبنی لیٹر نمبر 309 کو دس اگست پر جاری کیا گیاتاکہ کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کے رونما ہونے سے پہلے سدباب کیا جا سکے جب گرلز سرکاری سکول کی انتظامیہ سے سیکورٹی انتظامات کے بارے میں رابطہ کیا گیا تو ذمہ دار کلرک نے پولیس سے نا امیدی ظاہر کرتے ہُوئے بتایا کہ پچھلے دنوں پاک فوج اور پولیس آئی تھی بعد ازاں پولیس کی جانب سے ہمیں درخواست ارسال کی گئی کہ اپنی فنڈز سے پولیس اہلکاروں کے بجائے سیکورٹی گارڈ تعینات کریں اُنہوں نے بتایا کہ کہ ہمارے پا س فنڈز کی کمی ہے تین کلاس فور ملازمین ہیں جس میں ایک چوکیدار ہے ہمیں تحفظ فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ضلعی انتظامیہ سیکورٹی کے انتظامات از خود کریں۔واضح رہے کہ ان درسگاہوں کے نام شائع کرنا مناسب نہیں۔

رپورٹ: وسیم باغی، بنوں

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*