باچا خان بابا کی انتیسویں برسی

ڈاکٹر ہمدرد یوسفزیی

ڈاکٹر ہمدرد یوسفزیی

برصغیر میں انگریزوں کی آمد اور اس پہ قبضے کی داستان بہت دلچسپ بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ ہزاروں کی تعداد میں آئیں اور کروڑوں کی تعداد میں انسانوں کو غلام بنایا ۔ ان کی اس حکمت عملی کو سمجھنے کےلئے اس دور کا سیاسی اور بالخصوص نفسیاتی جائزہ لئے بغیر ہم پوری طرح ان کی حکمت عملی کا جائزہ نہیں لے سکتے ۔
سینکڑوں سالوں سے ایک ساتھ رہنے والے ہندو ،سکھ ،اور مسلمانوں میں کوئی مزہبی منافرت نہیں تھی ۔ مذہبی اہم آہنگی ،رواداری اور برداشت سے بھرپور اس معاشرہ میں ،مختلف اقواموں کی تہذیبی ،سماجی ،اور ثقافتی تنوع ایک صحت مند معاشرہ کا نمونہ پیش کرتی تھی ۔ ایک کا دکھ دوسرے کا دکھ ہوتا تھا ۔ مذہبی منافرت کا نام و نشان نہیں تھا۔ سانجھی خوشیاں اور غم ہر دل محسوس کرتا تھا ۔ انگریزوں کا پہلا نفسیاتی وار ہی ان کی تہذبی اور ثقافتی قدروں کی پامالی تھی۔ انسانوں کو تقسیم کروں اور حکومت کروں ۔ جو بات مانتے ہیں انھیں مراعات دوں انھیں بڑے بڑے القابات سے نوازوں ۔اور جو نہ مانے انھیں ظلم اور جبر کا نشان بنا کے رکھ دوں ۔ یہاں بھی مذہبی منافرت کا سہارا لیا گیا ، اور مذہب سے جوڑے ہوئے لوگوں کو ان کے اپنے لوگوں کے خلاف استعمال کیا گیا ۔ہندو مت اپنے بے شمار رسوم اور روایتوں کے ساتھ ہندو معاشرے کو ان کے پنڈتوں نے کنٹرول رکھ تھا۔اور مسلمانوں میں قدامت پرست مولویوں نے اپنی ناسمجھی لالچ اور کسی حد تک ڈر سے مسلمان معاشرے کو جمود کا شکار کرنا شروع کردیا تھا ۔ جیسا کہ قرآن اور سنت کے بغیر کوئی دوسرا علم سیکھنا کفر کے زمرے میں اتا ہے
پشتون معاشرہ جو اپنی اعلی اقدار ،ایک مضبوط معاشرتی نظام کے ساتھ برصغیر کے شمالی مشرقی علاقوں میں موجود تھا ۔جس میں برصغیر میں ان کا افغانستان سے لیا گیا حصہ بھی شامل تھا ۔ یہ علاقہ بھی معاشرتی ،سیاسی ،سماجی اور معاشی حوالوں سے برصغیر کےدوسرے علاقوں سے ایک زرا مختلف تھا ، ایک تو یہاں کے بسنے والے لوگوں میں ایک مذہب کے ماننے والے ذیادہ تھے ۔ پھر خان خوانی کے آپس کے جھگڑے ،اور دشمنیاں بھی چلی آرہی تھی ۔ جس کا ایندھن یہاں کے غریب لوگ ہی بنتے تھے ۔
انگریز سرکار کے پاس ان لوگوں کو غلام بنانے کا مجرب نسخہ یہ تھا ۔ ایک تو ان لوگوں کو جس طرح بھی ہوں ان کے ہنر اور پیشے سے دور کیا جائے ، تاکہ ان کی اقتصادی طور پہ کمزور کرکے ان کو دبایا جاسکیں ، اس لئے ان کے پیشے اور ہنر کے بیس پہ تقسیم کو توقعیت دی گئی ۔ اور ان کے اس تقسیم کو ہندوؤں کی طرح نسل کی پہچان بنایا گیا ۔ مثال کیطور پر” کوئی بھی پشتون جس کا پیشہ ہوتا جیسے موچی ، لوہار ،اسی کو ان کی قومیت بناکر تذلیل شروع کی گئ ،انہوں نے یہ کام ہر علاقے کے با اثر افراد کی سرپرستی میں کیا ، جس کی وجہ سے یہ لوگ اپنے ہنر ،پیشے اور کام سے نفرت کرنے لگے اور بالآخر بہت ساروں کو اپنے ہنر چھوڑنا پڑے ۔جو ایک معاشی وار تھا ۔ مہذب کو الہ کار بناکر ، مولویوں سے یہ کام کروایا گیا ، کہ کوئی بھی تعلیم حاصل کرنا حرام اور باعث جہنم ہیں ۔ یہ پشتنوں کو جاہل اور بے علم رکھنے کی اور کوشش تھی ۔

16114808_1317782198279952_3542076903752158449_n

سادہ لوح عوام ان کی ان باتوں میں بڑی اسانی سے آجاتے تھے ۔ ایک ایسے معاشرہ میں غفار خان ایک معاشرتی اصلاح کار کے طور پہ اُٹھے اور انھوں نے انجمن اصلاح افافنہ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جو بعد میں خدائی خدمتگار کے نام سے مشہور ہوئی ۔۔۔
باچا خان اک ایسے سوسائٹی کے فرد تھے جہاں پشتنولی کے نام سے ایک سٹیرو ٹاپ سسٹم پہلے سے موجود تھا ۔ جن کو پختونخوا کے خان خوانین نے یرغمال کر رکھا تھا۔ اور ان پشتون روایات کو وہ اپنے زاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے تھے ۔باچا خان کے سامنے پشتونوں کی بد حالی، غلامی ، سے آزاد کرانے کے علاوہ تعلیم ،معشیت ، مذہبی روا داری جیسے مسائل سے بھی اپنی قوم کےلئے پریشان رہتے تھے ۔

باچا خان کا سب سے بڑا پن یہی تو تھا کہ وہ اپنے قوم کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنا چاہتے تھے ۔ خدائی خدمتگاری کی ابتدا بھی انھوں نے ازاد سکول کے نام سے تعلیمی ادارے بنائے جس کی انگریز سرکار نے شدید مخالفت کی ۔ انگریزوں کے ٹکڑوں پہ پلنے وال خان بہادروں کو بھی باچا خان کی یہ ادا اک نہ بائی ۔۔۔اور انھوں نے جگہ جگہ مولویوں کے زریعے اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا اور اس کام کو اسلام کے خلاف قرار دیا ۔
مگر باچا خان کی ہمت حوصلہ ، صبر اور جذبہ اپنی جگہ قائم رہا ۔ اسی جزبے کو آگئے لے جاتے ہوئے باچا خان نے ان سکولوں میں بچوں سے ڈرامے سٹیج کروائے اور ادب شعر و شاعری کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ ان میں جدید رجحانات کو سمودیا اور پشتون تاریخ میں پہلی بار ڈرامہ لکھا بھی گیا اور سٹیج بھی ہوا جو مکمل اک اصلاحی تیھم کے ساتھ لوگوں کے توجہ کو مرکز رہا ۔۔۔۔۔ باچا خان اخبار کی اہمت سے اگاہ تھے۔ اسلئے 1928 میں انھوں نے پشتوں نامی میگزین کا اجرا کیا ، خود بھی لکھتے رہے اور خدائے خدمتگاروں سے بھی لکھواتے اور پڑھواتے رہے ۔۔۔۔ یہاں تک اس وقت خواتین لکھاری بھی پشتون میں لکھتی رہی ۔

پشتونوں کی اقتصادی حالت کو مضبوط کرنے کےلئے باچا خان نے ان تمام پیشہ ور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جو کسی نہ کسی حوالے سے اپنے پیشے سے جوڑے ہوئے تھے ۔جن لوگوں نے اپنا پیشہ چھوڑ کے خان بہادروں کے ساتھ نوکریاں شروع کی تھی ان کو واپس اپنے پیشے کی طرف راغب کیا ۔ شادی بیاہ ، پہ ہونے والے فضول خرچیوں سے لوگوں کو منع کرتے رہے ۔ اموات پہ اسقاط کے نام پہ ملاؤں کی لوٹ مار کی شدید مخالفت کی۔
سادہ خوارک سادہ لباس پہنے کا درس دیتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔
باچا خان کی سیاست کے بارے میں عام رائے یہ دی جاتی ہے کہ انھوں نے گاندھی جی سے عدم تشدد کا فلسفہ مستعار لیا تھا ۔
میں اس سے بلکل بھی اتفاق نہیں کرتا ، کیونکہ گاندھی جی کا واسطہ ہندوستان کے ہندوؤں کے ساتھ تھا جو ایک ایسے قوم سے تھے جس میں تشدد پہلے سے ہے بہت کم تھی ۔ مگر باچا خان کا تعلق جس قوم سے تھا ۔ وہ ہندوؤں سے زیادہ پرتشدد تھیں ۔ جن کے بچے باقاعدہ بندوقوں سی کھیل کر جوان ہوتے تھے ۔ جن کے پشتونولی میں انتقام یا بدلہ لینا ایک جز لا ینفک تھا ۔ جائداد زمیں اور دوسرے تنازعات کےلیے وہ اپنی بندوق کا استعمال کرتے تھے ۔ ایک ایسے قوم میں عدم تشدد ، جنگ و جدل انتقام اور بدلے کی روش کو تبدیل کرنا کوئی اسان کام نہ تھا مگر اس بندے کی عظمت اور حوصلے ، عمل اور ہمت کو داد دینی چاہیے کہ ایسے قوم میں انھوں عدم تشدد کو پروان چھڑایا اور لاکھوں خدائی خدمتگاروں کی تربیت کی ، جو ان کی سیاست کو گاندھی جی کی سیاست سے ممتاز کرتی ہے ۔
ان کی سیاست کا ایک اور دلچسپ اور جاذب پہلو یہ تھا کہ خدائی خدمتگاروں سے باقاعدہ حلف لیا جاتا تھا جو اس میں اپنی وفاداری ، عدم تشدد کے اصولوں کی پاسداری کا یقین دلاتے تھے اور پھر سردریاب کے علاقے میں بنے ان کی تربیتی مرکز سے باقاعدہ تربیت لیتے تھے ۔باچا خان کے خدائی خدمتگاروں کے عہدے داری کےلئے کبھی کسی سے ان کے نسل نسب اور قومیت کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا تھا ۔ کبھی ان کے معاشی اور مالی حالت کے بنیاد پر کسی کو عہدہ نہیں دیا جاتا تھا ۔بلکہ خدائی خدمتگاری کےلئے وفاداری ،ہمت اور حوصلے کے کسوٹی پہ پرکھا جاتا تھا ۔
یہی وجہ تھی کہ خدائی خدمتگار تحریک کے اکثر عہدے دار خان خوانین کے بجائے گاوں کے عام لوگ ہوتے تھے ۔باچا خان کا یہ طرز فکر انھیں دنیا کے اکثر تحریکوں کے اصولوں سے ممتاز کرتی ہے اور اس سے ان کی شخصیت کے بڑے پن اور عظمت کا اندازہ ہوتا ہے ۔باچا خان کے سیاسی بصیرت سے انکار کرنے والے اکثر مذہبی چشمے پہن کر ان پہ اعتراض کرتے ہیں کہ انھوں نے تحریک ازادی کے جنگ میں مسلم لیگ کے بجائے کانگریس سے اتحاد کیوں کیا اس اعتراض کے لئے ہم تین نکتے سامنے رکھتے ہیں
11…کانگریس صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت نہیں تھی بلکہ برصغیر میں رہنے والے تمام لوگوں کی پاڑٹی تھی
22.. باچا خان مذھب کو سیاست سے بلکل الگ سمجھتے تھے ان کی مشہور زمانہ تعریفیں سیاست اور مذہب کے بارے یہ تھی کہ مذھب اللہ اور انسان کے کا تعلق ہے اور سیاست انسان
اور انسان کے درمیاں تعلق کا نام ہے
3.مسلم لیگ انگریز سرکار کے بہت قریب تھی باچا خان انگریزوں کے ریشہ دونیوں سے بخوبی باخبر تھے اور ان پہ اعتماد کرنے کے سرے سے قائل نہیں تھے۔اور ساتھ ساتھ مسلم لیگ سرکردہ رہنما بھی نہیں چاہتے تھے باچا خان ان کے ساتھ رہے

ایک اور اعتراض جو باچا خان بابا کی سیاست اور نظریے کے بارے میں کیا جاتا ہے ۔ وہ باچا خان کی پاکستان کی مخالفت ہے ۔ باچا خان کی سیاسی تحریک برصغیر کی انگریزوں سے ازادی لینا تھی ۔ باچا خان ہمیشہ مذہبی رواداری کے قائل رہے ہیں ۔ وہ مسلمان کی ملت پہ یقین رکھتے تھے مگر مسلمان کو قوم نہیں سمجھتے ۔ اور حقیقت بھی ہے کہ مسلمان قوم کا نام ہر گز نہیں ، قومی تشکیل کےلئے ایک جغرافیائی موقیت ، ایک زبان ایک جیسا کلچر کا ہونا ضروری ہے ۔ ہم اج بھی اگر پاکستان میں بسنے والے تمام اقوام کا ثقافتی جائزہ لیں تو بھی ایک قوم کی تعریف پہ پورا نہیں اترتے ۔ سندھی اور پشتون کا مزہب لاریب کہ ایک ہے مگر ثقافتی اساس پہ یہ بلکل الگ دو قومیں ہیں ، اسی طرح بلوچ اور پنجابی بے شک ایک مسلمان ہونگے مگر ان کی ثقافتی بو قلمو نیاں الگ ہے ۔ یہ تو ایک چھوڑے سے ملک کی مثال ہے ۔ یوں اگر ہم پوری دنیا کے پچاس سے زیادہ ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی ثقافتی اور تہذبی تنوع کا مشائدہ اور مطالعہ کریں تو یہ بات اور واضح ہوجاتی ہے ۔ اس کے علاوہ باچا خان کی سوچ اپنی قوم پشتون کے روشن مستقبل کی طرف تھی ۔ اور وہ انڈیا یا پاکستان سے شامل ہونے کے بجائے ازاد پشتونستان کے حامی تھے ۔ گاندھی جی بھی آخر وقت تک برصغیر کے تقسیم کے خلاف تھے ۔ انھیں یہ اندازہ تھا کہ تقسیم سے ہونے والی تباہی بربادی ، اور ایک ہی قوم کے بسنے والے لوگوں کو مذہب کے بنیاد پہ تقسیم کرنے سے نفرتیں بڑھے گی اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ ایک ہی قوم کے لوگوں نے ایک دوسرے کے گلے کاٹے ، سیالکوٹ سے لے کر پٹنہ ، اور لاہور سے لے کر امرتسر تک رہنے والی ایک پنجابی قوم ( مذاہب ان کے تین تھے سکھ، مسلمان اور ہندو ) نے تاریخ کا وہ جبر ایک دوسرے پہ ڈھائے کہ جیالنوالہ باغ میں شہید ہونے والے اللہ دتہ کے بھتجھے نے اسی باغ میں اپنی زندگی قربان کرنے والے تارا سنگھ کی بیٹی کی عزت تار تار کردی ۔ اللہ دتہ کے بیٹے نے رام داس کے بیٹے کا گلہ کاٹا تو ،رام داس کے بیٹے اللہ دتہ کی بیٹی کی عزت تار تار کردی ۔۔۔۔
اور اج بھی ایک ارب چالیس کروڑ انسان دو ممالک کی صورت میں ایٹمی بم کے اوپر بھیٹے غربت ،جھالت معاشی استحصال کے بلاؤں کے شکنجے میں اپنی قومی تہذبی اور روایتی اقدار سے دور ہوکر ایک دوسرے کے دشمن بنادئے گئے ہیں ۔ دوسرا بڑا جبر یہ ہوا کہ صوبہ سرحد ( موجودہ پختونخوا ) کے لوگوں کو ریفرںڈم کا حق بھی عجیب طریقے سے دیا گیا کہ وہ فیصلہ کریں کہ انڈیا میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں ، جبکہ یہاں کی اکثرتی تحریک خدائی خدمتگاروں کو یہ اپشن نہیں دیا گیا کہ وہ اگر آذاد حیثیت سے رہنا چاہے تب بھی انھیں حق دیا جاتا ہے تب ہی باچا خان نے اس ریفرنڈم کا بائکاٹ کیا ۔ اور پاکستان بن گیا ، مگر پاکستان بننے کے بعد بھی اپنے مسلمان بھائوں نے خدائی خدمتگاروں کی زندگی اجیرن کردی ۔ باچا خان نے پہلے دستور ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کیا بلکہ اس کی تعمیر اور ترقی کےلئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا ۔ ابھی اس ملک کو بننے ہوئے چند ہی ماہ ہوئے تھے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت نے انھیں پابند سلاسل کردیا ۔ بارہ اگست 1948 کو جب پاکستان کی ازادی کا پہلا جشن بنانے میں دو روز باقی تھے ۔ چارسدہ میں بابڑہ کے مقام پہ قیوم خان کی حکومت نے سینکڑوں امن پسند اور عدم تشدد کے پیروکاروں کے خدائی خدمتگاروں پہ گولیاں برسائی ۔ ان کے مرکز سردریاب میں نظر اتش اور توپوں سے اڑا یا گیا ۔۔۔ اور عدم تشدد ماننے والوں نے اپنی سینوں پہ گولیاں کھائی مگر انھوں نے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی ۔۔۔
ایسے حالت میں باچا خان پہ پاکستان مخالف کا الزام لگانے والے تاریخ سے نابلد اور نابالغ ہی ہوسکتیے ہیں

 تحریر: ڈاکٹر ھمدرد یوسفزی

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*