باچاخان مرکز: اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس؛ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداریوں کی بندش پر تشویش کا اظہار

 سی پیک ، فاٹا،مہنگائی اور بیروزگاری سمیت لوڈشیڈنگ کے مسائل سر فہرست ہیں۔

ANP BKM 01

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی کونسل کا اجلاس مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی زیر صدارت باچا خان مرکز میں منعقد ہوا ، جس میں مندرجہ ذیل قراردادیں منظوری کیلئے پیش کی گئیں، میاں افتخار حسین ، افراسیاب خٹک، بشیر مٹہ نظام الدین کاکڑ،سردار حسین بابک، ریاض احمد شیخ، فاروق بنگش اور ڈاکٹر اکرام اللہ پر مشتمل قرارداد کمیٹی نے مندرجہ ذیل قراردادیں پیش کیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کیا گیا ان قراردادوں کی تفصیل بعد ازاں شائع کیا جائے گی۔

 عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی کونسل کا اجلاس اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ کچھ عرصہ سے ملک کے سیاسی مکالمہ کو اقتدار کی کشمکش کیلئے یرغمال رکھا گیا ہے، عوام کے اصل مسائل ، دہشت گردی کے خاتمے ، امن کی بحالی ، فاٹا کے انضمام ،بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری بین الاقوامی سطح پر ملک کی تنہائی جیسے اہم مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے ، یہ اجلاس پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرتا ہے ملک کو درپیش اہم و بنایدی مسائل کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

 اجلاس مردم شماری میں غلط اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نطر ثانی کا مطالبہ کرتا ہے ۔

 اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سی پیک کے مغربی روٹ کے حوالے سے سابق وزیر اعظم نے وعدے پورے نہیں کئے ، موجودہ وزیر اعظم ان وعدوں کو ایفا کریں۔

 اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے حوالے سے لیت و لعل سے کام نہ لیا جائے ۔

اجلاس ملک میں نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء کا مطالبہ کرتا ہے۔

اجلاس اٹھارویں آئینی ترمیم پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔

اجلاس میں ڈینگی کی وبا سے نمٹنے میں صوبائی ھکومت کی ناکامی پر اظہار تشویش ۔

 بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ اور پسماندہ علاقوں میں بجلی نہ ہونے اور خصوصاً بلوچستان اور فاٹا کے بیشتر علاقوں میں وولٹیج کی مسلسل کمی پر اجلاس تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔

نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ، پختونخوا کو مہنگی بجلی کی فروخت اور صوبے کا حصہ کم رکھنے کی اجلاس مذمت کرتا ہے۔

کونسل کا اجلاس امید رکھتا ہے کہ آئندہ انتخابات وقت پر کرائے جائیں گے۔

 مرکزی کونسل روہنگیا میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان کی نسل کشی کی پر زور مذمت کرتا ہے ۔

 اجلاس نادرا کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں شناختی کارڈز کے اجراء اور تجدید میں پختونوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی مذمت اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

 پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستوں کی بندش دونوں ممالک کے عوام کو اقتصادی اور دیگر نقصانات پر اجلاس تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔

کارکن الیکشن کی تیاری کریں ، مستقبل اے این پی کا ہے، میاں افتخار حسین

Mian sb

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان پختونوں سے مخلص نہیں اور دونوں کے درمیان جنگ صرف تخت اسلام آباد کیلئے ہے، کپتان نے پنجاب کے ووٹ بنک کیلئے پختونوں کے حقوق کو پس پشت ڈال کر صوبے کو نظر انداز کر دیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے این اے 4کے ضمنی الیکشن کے سلسلے میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر سینئر رہنما عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ، ارباب محمد طاہر خان خلیل اور ارباب مجیب الرحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، انہوں نے مزید کہا کہ اب پی ٹی آئی اپنی ناقص کارکردگی کی بنیاد پر عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور عوام جان گئے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی جماعت نہیں کر سکتی ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ صرف پختونوں کے حقوق پر سودے بازی کیلئے ہے ۔

 مسلم لیگ اور پی ٹی آئی پختونوں سے مخلص نہیں اور دونوں کے درمیان جنگ صرف تخت اسلام آباد کیلئے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ این اے 4اے این پی کا گڑھ ہے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اے این پی اس حلقے سے بھرپور کامیابی حاصل کرے گی ، انہوں نے کہا کہ پختون قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور اپنے حقوق کیلئے اسفندیار ولی خان کی قیادت میں سرخ جھنڈے تلے متحد ہو چکی ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی واحد جماعت ہے جس کا مقصد حصول اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی والے اے این پی پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں ، اور قوم کو بتائیں کہ انہوں نے چار سال میں کون سا تیر مارا ہے ، تبدیلی کے نام پر آنے والے صوبے کا پرانا نظام بھی لے ڈوبے اور نیا نظام بھی نہ دے سکے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں،صوبہ شہر نا پُرسان میں تبدیل ہو چکا ہے ، خزانہ لوٹ لیا گیا ہے اور بیرونی دنیا سے اتنے قرضے لئے گئے ہیں کہ اب انہیں چکانے کیلئے آنے والی حکومتوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے کہا کہ کپتان کشکول توڑنے کے وعدے کرتے رہے لیکن اب چار سال میں کشکول اتنا گھمایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کمیشن صرف سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے بنایا گیا اوراب حکمران اے این پی کی مقبولیت میں اضافے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ الیکشن کیلئے اپنی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں اور آنے والا دور ایک بار پھر اے این پی کا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*