اے پی ایس کا سانحہ : دھشت گرد تاحال فعال

ایمل خٹک

ایمل خٹک

آرمی پبلک سکول کے واقعے کو دو سال ھوگئے ۔ قوم اے پی ایس کے سینکڑوں بیگناہ بچوں اور اساتذہ کی المناک شہادت کو ابھی تک نہیں بھولی۔ ان کی بہیمانہ شہادت کے زخم اور درد ابھی تک تازہ ہے۔ یہ زخم مند مل ھونے کی بجائے ھر نئے واقعے سے تازہ ھو جاتے ھیں۔ اے پی ایس کا سانحہ پاکستان میں دھشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اھم سنگ میل ہے۔

اس واقعے نے پاکستان میں دھشت گردی کےخلاف رائے عامہ کو ھموار کیا اور حکومت کو دھشت گردی کے خاتمے کیلئے سازگار ماحول مہیا کیا۔ یہ اور بات ہے کہ اچھے اور برے طالبان میں تمیز اور انتہاپسند مذھبی گروپوں کی خوشنودی کی پالیسی کی وجہ سے اس موقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ ان دو سالوں میں دشمن کے بچوں کو پڑھانے کے چکر میں ھم نے ان کو اسمبلیوں تک پہنچا دیا ہے۔ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں اور ان کی سرکردہ شخصیات کھلم کھلا عوامی اجتماعات اور مظاھرے کر رئے ھیں۔

شھید بچوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اے پی ایس کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ ابھی تک پورا ھونا تو کجا منتخب اور غیر منتخب دونوں حکمران اس مطالبے کو سننے تک تیار نہیں۔ تحقیقات سے مسلسل پہلو تہی بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ دھشت گردوں کی کمر توڑنے کے بار بار دعووں کے باوجود اور اس بات کا تعین کئے بغیر کہ دھشت گردوں کی کمر واقعی ٹوٹ چکی ہے یا نہیں مگر ان کی جانب سے بیگناہ شہریوں کی ھڈیاں اور کمر توڑنے کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ھوا۔ اےپی ایس کے واقعے کے بعد بھی ملک میں دھشت گردی کے کئ سنگین دھشت گردی کے واقعات ھو چکے ھیں۔اس طرح دھشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے بنایا گیا قومی منصوبہ عمل بھی تقریباً دو سال کا ھوگیا ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ یہ منصوبہ اے پی ایس پشاور کے دھشت گرد واقعے کے ردعمل میں بنا تھا ۔ اور بد قسمتی سے اس پر عملدرامد کا طریقہ کار بھی پروایکٹیو سے زیادہ ابھی تک ری ایکٹیو ہے۔ اسلئےھر سنگین دھشت گرد کاروائی کے بعد قومی منصوبہ عمل کی فائل کو الماری سے نکال کر اس کی گرد و غبار کو صاف کیا جاتا ہے ۔ ھفتہ دو ھفتہ گہماگہمی رہتی ہے مگر تھوڑے دن گزرنے کے بعد پھر وہی خواب خرگوش کے مزے ۔

پالیسیوں پر عملدرامد کے علاوہ نقص خود پالیسیوں میں بھی ہے اور قوت ارادی کی کمی بھی ھے۔ پاکستانی ریاست نے عسکریت پسندوں کو ایک پالیسی ھتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی میں نہ تو تبدیلی کے کوئی آثار ھیں اور نہ ریاست نے ان سے مکمل قطع تعلق کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کو ایک سیکورٹی اسٹیٹ سے ویلفیر یا فلاحی ریاست بننے میں ناقص قومی سلامتی کی پالیسیاں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان غلط اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کی وجہ سے ملک مسلسل حالات جنگ میں ہے ۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگئ کی وجہ سے فوج کی ایک بڑی تعداد سرحدی علاقوں میں موجود ہے۔ بعض مفادی حلقے جنگ جویانہ ماحول کو پیدا کرنے اور قایم رکھنے میں مصروف عمل ہے۔ علاقے میں موجود انتہاپسند اپنے بیانات اور حرکتوں سے خطے میں تناؤ اور کشیدگی کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے ایک دوسرے کی موجودگی اور پروپیگنڈے کیلئے جواز فراہم کرتے ھیں۔ علاقے میں کشیدگئ سے حریف ممالک کے فوجی اخراجات بڑھ رہے ھیں۔ محدود قومی وسائل کے کثیر حصے کا دفاع کی طرف منتقلی کا سماجی شعبے یعنی صحت ، تعلیم اور دیگر سماجی بہبہود اور ترقی کے پروگراموں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ دھشت گردی کے حوالے سے عوام کی مشکلات کم ھونے کی بجائے اس میں اضافے کا امکان اس وجہ سے بھی ہے کہ لگتا ہے پڑوسی ممالک نے بھی پتھر کا جواب پتھر سے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

Pakistani volunteers carry a student injured in the shootout at a school under attack by Taliban gunmen, at a local hospital in Peshawar, Pakistan,Tuesday, Dec. 16, 2014. Taliban gunmen stormed a military school in the northwestern Pakistani city, killing and wounding dozens, officials said, in the latest militant violence to hit the already troubled region. (AP Photo/Mohammad Sajjad)

دھشت گردی کے خاتمے کا ایجنڈا ابھی تک نا مکمل ہے۔ جب تک داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کی جاتی اور انسداد دھشت گردی کی مھم کو ھر قسم کی عسکریت پسندی کے خلاف اور بلا امتیاز چلایا نہیں جاتا یعنی اچھے برے عسکریت پسند میں امتیاز کی پالیسی کو ختم نہیں کیا جاتا اور دھشت گردی کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی کی روک تھام کیئے جامع پروگرام نہیں بنایا جاتا ملک سے دھشت گردی ختم نہیں ھو سکتی۔ اسطرح دھشت گردی ایک مقامی مسلہ نہیں بلکہ سنگین علاقائی اور عالمی مسلہ بن چکا ہے۔ اسلئے اس کے خاتمے کیلئے علاقائی اور عالمی سطح پر مربوط اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے۔ . اس کیلئے سب ممالک نے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایک پڑوسی ملک کی سرزمین دوسرے پڑوسی کے خلاف استعمال نہ ھو۔

تحریر:  ایمل خٹک

دی پشتون ٹایمز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*