امرتسر اعلامیہ اور پاکستان کی سفارتی مشکلات

ایمل خٹک

ایمل خٹک

امرتسر انڈیا میں افغانستان میں سیاسی اور اقتصادی امن اور استحکام اور پڑوسی ممالک کو آپس میں جوڑنے کے حوالے سے ھارٹا آف ایشیا جسے عرف عام میں استنبول پراسس بھی کہتے ھیں،  کی دو روزہ چھٹی وزارتی کانفرنس ختم ھو گئی ۔ کانفرنس میں چالیس کے قریب شرکاء نے شرکت کی جس میں چودہ رکن ممالک کے سفارتی نمائندوں کے علاوہ استنبول پراسس کی حمایت کرنے والے ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔

پاک -آنڈیا تعلقات میں خرابی اور بعض اندرونی حلقوں کی جانب سے مخالفت کے باوجود پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے دوسرے دن کی کانفرنس کی کاروائی کا باقاعدہ افتتاح کیا ۔ اگرچہ کانفرنسافغانستان میں امن واستحکام کے قیام میں مدد کے لیے بلائی گی تھی مگر پاک-بھارت کشیدگئ کے پیش نظر کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے خصوصی مشیر سر تاج عزیز کی شرکت سے تجزیہ کاروں کی توجہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات پر بھی مرکوز رہی ہے۔ اندرون ملک سرتاج کی کانفرنس میں شرکت اور بیرون ملک دونوں ممالک کے سفارتی نمائندوں کے بیچ ملاقات اور بات چیت کے امکانات اور تفصیلات پر میڈیا میں کافی لے دے ھو رہی ہے۔ سرتاج عزیز پہلے سے اعلان کردہ سفری شیڈول کے برعکس ایک دن پہلے امرتسر پہنچے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم کی عشایے میں شرکت کی اور ان سے مصافحہ بھی کیا ۔ دورے کے دوران ان کو وزیراعظم نریندرمودی کے علاوہ وزیر مالیہ ارون جیٹلی، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اوردیگر بھارتی حکام کیساتھ بات چیت کا موقع ملا ۔ ان ملاقاتوں کی تفصیلات تو معلوم نہ ھو سکی مگر دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کے پیش نظر ان ملاقاتوں سے جو زیادہ تر رسمی نہیں تھی زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جاسکتی۔ کشیدگی اور سرد مہری کی چھائی ھوئی فضا میں حتی کہ سرتاج عزیز کو امرتسر میں میڈیا بریفنگ کرنے نہیں دیا گیا۔

چونکہ اس پراسس کی شروعات ترکی کے شہر استنبول سے ھوئی تھی اسلئے اس کا نام استنبول پراسس پڑ گیا۔ استنبول پراسس میں افغانستان کو خطے کا مرکزی نکتہ قرار دیتے ھوئے افغانستان میں امن اور استحکام کو خطے کیلے مفید سمجھتے ھوئے افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان روابط بہتر بنانا ہے اور دھشت گردی جیسے مشترکہ چیلنجوں کو مل کر اس کے خاتمے کیلئے مربوط علاقائی کوشیشیں کرنا ہے۔

امرتسر سے پہلے اس کے پانچ کانفرنسیں ھوچکی ہے پہلی کانفرنس استنبول میں دو ھزار گیارہ میں، دوسری افغان دار لحکومت کابل میں دو ھزار بارہ میں ، تیسری الماتے قزاقستان میں دو ھزار تیرہ میں ، چوتھی بیجنگ میں دو ھزار چودہ میں اور پانچویں دو ھزار پندرہ میں اسلام آباد میں منعقد ھوچکی ہے۔ علاقے کی چودہ ممالک اس پراسس کا حصہ ھیں جبکہ سترہ ممالک اس کے حمایتی اور بارہ علاقائی اور بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں سپورٹ کرتی ہے۔

افغانستان میں قیام امن اور پڑوسی ممالک کو باھم جوڑنے ( کنیکٹیویٹی) کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کی مشترکہ اعلامیہ میں افغانستان میں دھشت گردی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عالمی قوانین کی روشنی میں رکن ممالک ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے گریز ، دھشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیاگیا ۔ اعلامیے میں کشیدگی کے خاتمے اور علاقائی تعاون پر بھی زور دیا گیا۔ اعلامیے میں افغانستان اور خطے میں افغانستان کی شرکت سے مختلف جاری اور مجوزہ تجارتی ، انرجی اور مواصلاتی منصوبوں کا ذکر کیا گیا ۔

افغان صدر نے علاقے میں دھشت گردی کی روک تھام کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ھوئے پاکستان پر دھشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگایا۔ افغان صدر نے افغان طالبان کمانڈر کے بیان کا حوالہ دیتے ھوئے کہا کہ اگر پاکستان ان کی حمایت سے ھاتھ کھینچ لیں تو وہ ایک ماہ بھی کاروائیاں جاری نہیں رکھ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ھوگا کہ پاکستان افغانستان کیلئے اعلان کردہ پانچ سو ملین ڈالر کی امداد ملک کے اندر دھشت گردی کی خاتمے پر صرف کریں۔ کیونکہ امن کے قیام کے بغیر امداد سے افغان عوام کی خواھشات پوری نہیں ھو سکتی ۔ افغان صدر کا یہ بیان افغانستان میں بڑھتے ھوئے پاکستان دشمن جذبات کی عکاسی کرتی ہے ۔ پاک-افغان تعلقات میں بگاڑ کے بعد افغان عوام نے امسال ماہ اکتوبر میں پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ ترقیاتی امداد کو خو ش دلی سے قبول نہیں کیا تھا۔ افغان حکومت جو کچھ عرصے سے پاکستان کے راستے انڈیا کو افغانستان تک تجارتی رسائی دینے کا مطالبہ کرتا آرہا ہے نے پاکستان، افغانستان اور انڈیا پر مشتمل ریل سروس کی ضرورت پر زور دیتے ھوئے اس کو خطے کیلئے فائدہ مند قرار دیدیا۔

ashraf-modi

بھارتی وزیر اعظم نے دھشت گردی کو علاقے میں سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ھوئے کہا کہ دھشت گردی سے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کو خطرہ لاحق ہے ۔ انہوں نے نہ صرف دھشتگردوں بلکہ ان کی حمایت کرنے، تربیت ، مالی امداد اور پناہ دینے والوں کے خلاف بھی بھرپور کاروائی پر زور دیا۔

کانفرنس سے خطاب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائدار امن کے قیام کیلئے ھر قسم کی کوششوں کیلئے تیار ہے مگر افغانستان کو بے بنیاد الزام تراشیوں سے گریز کرنا چائیے۔

امرتسر اعلامیہ کی خصوصی بات جو اس کو گزشتہ پانچ کانفرنسوں سے مختلف کرتی ہے یہ تھی کہ پہلی بار نہ صرف افغانستان بلکہ خطے میں سرگرم عمل دھشت گرد تنظیموں کے نام لیکر ان کی نشاندہی کی گئ ہے۔ اعلامیے میں پاکستانی عسکریت پسند تنظیموں مثلا لشکر طیبہ اور جیش محمد یا پاکستان کی حمایت یافتہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کا ذکر پاکستان کی بڑی سفارتی ناکامی اور خطے میں اس کی سفارتی تنہائی کی بین ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ عسکریت پسندی کے حوالے سے ابھرتے علاقائی تفاھم کی غمازی بھی ہے۔ اعلامیے سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ علاقائی ممالک دھشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے کردار سے مطمئن نہیں ہے۔ اور وہ دھشت گردی کو پاکستان کے اندر اھم مسلہ سمجھتے ھیں۔

اب تک پاکستانی پالیسی سازوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے تھا کہ عسکریت پسندی کو ایک پالیسی کے طور پر استعمال کرنے یا اچھے اور برے طالبان کی پالیسی مذید چلنے والی نہیں۔ اور اس حوالے سے آھستہ آھستہ ایک علاقائی تفاھم وجود میں آچکا ہے۔ جس کا اظہار امرتسر اعلامیہ میں واشگاف الفاظ میں کیا گیا ۔

کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ اس کے بعض قریبی دوست ممالک مثلا چین، سعودی عرب اور ترکی کے سفارتی نمائندوں کی موجودگی میں امرتسر اعلامیہ میں پاکستان کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیموں کو دھشت گرد تنظیمیں قرار دینا اور ان کے خلاف بھر پور کاروائی پر زور یقیناً غیر معمول بات ہے ۔ لیکن یہ اس بات کی بھی دلالت ہے کہ دھشت گرد تنظیموں کی حمایت کے سوال پر ھمارے قریبی دوست تک بھی ھمارا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں۔ اب اگر کچھ پالیسی ساز اور ان کے بھونپو پھر بھی پاکستان کی سفارتی تہنائی سے انکاری ہے تو کیا کہا جاسکتا ہے ۔

اعلامیہ میں افغان مہاجرین کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان کا مثبت انداز میں ذکر بھی کیا گیا ہے ۔ 30 سال سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کے ساتھ ایران کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا اور محفوظ آباد کاری تک پناہ گزینوں کو پاکستان اور ایران میں ہی رکھنے پر زور دیا گیا۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں کانفرنس کے بارے میں بریفنگ دیتے ھوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اعلامیے کو متوازن قرار دیدیا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ایل او سی پر کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی۔ کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن اوراستحکام دیکھنا چاہتے ہیں، ہمارا مقصد تھا کہ دو طرفہ تعلقات افغانستان پر اثر انداز نہ ہوں۔ انہوں افغان صدر کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کا موقف یہ تھا کہ افغانستان کے بارے میں متوازن سوچ اپنائی جائے۔ مشیر خارجہ نے مذید کہا کہ انہوں نے افغان صدر پر واضح کیا کہ سرحد پرموثرانتظام بھی ضروری ہے،انہیں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی قومی لائحہ عمل کا حصہ ہے۔

مشیر خارجہ کی جانب سے اعلامیہ کو متوازن قرار دینا نیک نیتی کی بناء پر کہا گیا ہے یا اپنی خفت مٹانے کی ایک کوشش ہے مگر بہت سے ملکی اور غیر ملکی تجزیہ نگار مشترکہ اعلامیہ کو پاکستان کی سفارتی ناکامی قرار دے رہے ھیں۔ اور اعلامیے سے پاکستان کی مشکلات میں اضافے کے خدشے کا اظہار کر رہے ھیں۔ اور بعض عسکریت گروپوں کے خلاف کاروائی کیلئے دباؤ بڑھ جائیگا۔

تحریر: ایمل خٹک

دی پشتون ٹایمز 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*