اس زنجیر کو مت چھیڑو، قلعے کی بنیادیں ہل جائیں گی

کبھی کبھی سرحدوں کی خبر شہروں سے ملتی ہے تو کبھی کبھی شہروں کی حقیقت سرحدوں پر جا کر پتہ لگتی ہے۔ ہماری حالیہ تاریخ میں ہمارے شمالی سرحدی علاقے غیر سے غیر تر ہوتے چلے گئے۔

آسمان سے برسائی جانے والی اپنے پرایوں کی آگ اور قبائلی علاقوں میں بچھائی گئی خونی شطرنج میں طویل عرصے سے قائم ایک سیاسی اور سماجی ڈھانچہ تو تباہ ہوا ہی ہے ہم شہروں میں بسنے والوں کو ان علاقوں کی آدھی ادھوری خبر بھی ان لوگوں کے ساتھ پہنچتی جو جان بچا کر شہروں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ہم نے بےدلی سے ان کی داستانیں سنیں اور سر ہلا دیا کہ یہ تو پشتون کلچر کا حصہ ہے۔ جنگجو قبائل، ہماری سرحدوں کے محافظ، نہ انگریز کی ماننے والے نہ سوویت یونین کی۔ ان کی عزت کرو، ان کی شان کی قصیدے پڑھو لیکن اگر لٹ پٹ کر ہمارے شہروں میں آن پہنچیں تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھو، پریشان رہو کہ کہیں دہشت گرد تو نہیں آ گئے، کوئی منشیات فروشی کے اڈے تو نہیں کھول لیں گے۔ حکومت انھیں کیمپوں میں کیوں نہیں رکھتی، کھلا کیوں چھوڑ دیا ہے۔ یعنی ماحول وہی جو ہمارے بچپن میں تھا جب ہمارے بڑے ’کہا پٹھان کا ڈر ہے‘ جیسے شعر اور لطیفے سن کر ہنس دیتے تھے۔

اب جبکہ ہم ساری اندرونی جنگیں تقریباً جیت چکے ہیں اور اس کی گواہی فوجی ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر معتبر صحافی دورے کر کے لا چکے، اب جبکہ علاقہ غیر اپنا ہو چکا، فٹبال اور کرکٹ کے میچ ہو چکے تو امید یہی ہونی چاہیے تھی کہ وہاں کے لوگوں کی بات تحمل سے سنی جاتی لیکن ہمارے پالیسی سازوں کا پشتون کی آواز کا ڈر ختم ہو کر ہی نہیں دیتا۔

شتون تحفظ کی تحریک ابھی پشاور سے اسلام آباد کے راستے میں ہی تھی کہ ہمارے تحفظ کے لیے قائم اداروں کے خودساختہ محافظوں نے نعرے لگانے شروع کر دیے کہ نئے غدار آ گئے، نئے طالبان آ گئے اور ابھی ابھی خطروں سے آزاد ہوتی ریاست کو ایک نئے خطرے کا سامنا ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کے نوجوان رہنماؤں کی باتیں میں نے بھی فیس بک اور یو ٹیوب پر سنی ہیں۔ ایک لہجہ نیا ہے، باتیں پرانی ہیں۔ اگر منظور پشتین کہتا ہے کہ جو کچھ پاکستان کے آئین میں میرے لیے لکھا ہے وہ مجھے دے دو تو اس پر ملک دشمنی کے الزامات کیوں لگتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہ ہمیں کچھ کہانیاں سناتا ہے جن سے ہمارا محبِ وطن میڈیا بچاتا آیا ہے۔ بچوں کے اوپر گرنے والے بموں کی کہانیاں، اپنے گھروں میں بےعزت ہوتے بزرگوں کی کہانیاں۔

کوئی اہلِ دل ہوتے تو گلے لگاتے، گریہ کرتے، وعدے کرتے کہ جو ماضی میں ہو گیا آئندہ نہیں ہونے دیں گے لیکن ہم کہتے ہیں کہ وہ آ گیا ایک اور دشمن، اس کے ساتھ بھی وہیں کریں گے جو اس کے بڑوں کے ساتھ کیا تھا۔

کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ ہماری ریاست ازل سے قومی یکجہتی کا ڈنڈا لہراتی پھرتی ہے لیکن جیسے ہی اسے کوئی مختلف لہجہ سنائی دیتا ہے چاہے وہ قبائلی پشتون کا ہو یا مکران کے بلوچ کا ہماری ریاست کو تشنج کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔

اسے سے بھی زیادہ حیرت اپنے ان دانشوروں اور نہا دھو کر ٹی وی سٹوڈیوز میں براجمان دفاعی تجزیہ نگاروں پر ہوتی ہے جو پشتون نوجوانوں کو سمجھاتے ہیں کہ یہ نہ کہو، ایسے بات نہ کرو کیونکہ اس سے ہمارے دشمنوں کو فائدہ پہنچے گا۔

کیا اس ملک کی بنیادیں اتنی کھوکھلی ہیں کہ چند ہزار پشتون نوجوانوں کے ایک ساتھ چلنے سے لرزنے لگتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ ہمارے نام نہاد محبِ وطنوں کا وہ خوف ہے جو ایک نئی آواز، ایک نیا لہجہ سن کر خوف سے کانپنے لگتا ہے۔

ایک زمانے میں بادشاہوں کے قلعے کے باہر زنجیرِ عدل لگی ہوئی تھی جسے آ کر فریادی ہلاتے تھے اور فریاد کرتے تھے۔ اب کوئی اس زنجیرِ عدل کی طرف بڑھتا ہے تو ہمارے دانشوروں کا ہجوم پکار اٹھتا ہے کہ اس زنجیر کو مت چھیڑو، قلعے کی بنیادیں ہل جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*