آل فاٹا تعلیمی اصلاحی جرگہ اور چائلڈ رائٹس مومنٹ فاٹا نے فاٹا ریشنلائزیشن تعلیمی پالیسی کو مسترد کردیا

FATA EDU

 پشاور : تعلیمی اصلاحی جرگہ آل فاٹا اور چائلڈ رائٹس مومنٹ فاٹا نے ایک مشترکہ اخبا.ری بیان میں فاٹا سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری ہونے والی ریشنلائزیشن پالیسی کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ پالیسی فاٹا میں تعلیم کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی ۔ یہ پالیسی فاٹا کے بچوں کے مستقبل بنانے کی جگہ اس کو تاریک کرنے کی طرف لے جارہی ہے ۔ اس وقت فاٹا میں پندرہ لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں اور ساتھ ہی بچوں کی ایک بڑی تعداد متاثرین کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کئے گئے ہیں ۔ فاٹا کے اندر امن کا صورتحال بھی بہت زیادہ خراب ہے بچوں کو گھروں سے دور جانے کی راہ میں بہت زیادہ مشکلات ہیں ۔ ایسے حالات میں بچوں اور بچیوں کی سکولوں کو بند کرنے سے مزید مشکلات پیدا ہوں گے ۔ یہ پالیسی فاٹا کے بچوں اور بچیوں کی دشمن پالیسی ہے ۔ قبائلی ایسے دشمن پالیسیوں کے بلکل مخالف ہیں ۔ اور ایسی پالیسی کو عملی کرنے نہیں دیں گے ۔ چائلڈ رائٹس مومنٹ فاٹا کے کوارڈینیٹر زرعلی خان آفریدی نے حکومت کے اس پالیسی کو بچوں اور بچیوں کی مخالف پالیسی قرار دی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی دشمن پالیسی کو واپس لے کر قبائل کے ساتھ دشمنانہ رویہ ختم کیا جائے ۔ تعلیمی اصلاحی جرگہ آل فاٹا کے ممبران اطلس خان شیرانی ، سید دراز شیرانی ۔ عبداللہ شاہ شیرانی ، نقیب اللہ شیرانی ، ملک موسی ملک دینک ، غنی الرحمان آفریدی ، مسعود شاہ آفریدی ، اعجاز آفریدی ، عبداللہ مہمند نے بھی اس کو مسترد کیا اور اس پالیسی کو قبائل دشمن قرار دیا

THE PASHTUN TIMES

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*